زندگی کا کہیں ہو گیا قتل ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 618
اک دیے کا ہوانے کیا قتل ہے
زندگی کا کہیں ہو گیا قتل ہے
تیرے کالر پہ جو سج گیا ہے گلاب
تیلیوں کیلئے پھول کا قتل ہے
دین نے ایک انسان کے قتل کو
ساری انسانیت کا کہا قتل ہے
دل نے چاہا اسی وقت اس کاقصاص
جب کسی بے گنہ کا ہوا قتل ہے
اپنے نزدیک انسانی اعمال میں
جرم کی آخری انتہا قتل ہے
بے گناہی کا جو شخص قاتل ہوا
صرف منصور اس کا روا قتل ہے
منصور آفاق

تبصرہ کریں