بعد از خدا تُو وہ کہ اکیلا کہیں جسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 551
کوئی کہیں نہیں ترے جیسا کہیں جسے
بعد از خدا تُو وہ کہ اکیلا کہیں جسے
یہ دل ہے انتظار کا جلتا ہوا ا دیا
یہ چشم وہ مزارِ تمنا کہیں جسے
ہے مظہرِ جمال خدا پرتوِ صفات
وہ آئینہ کہ تیرا سراپا کہیں جسے
شیخِ حرم کو آج تک آیا نہیں خیال
طیبہ کی اک گلی ہے وہ عقبیٰ کہیں جسے
عرقاب روح و جسم اُس اسمِ خرام میں
منصورصبحِ عرش کا دریا کہیں جسے
منصور آفاق

تبصرہ کریں