منصور آفاق ۔ غزل نمبر 164
زنجیر بکف شہبازوں پر
امید غلط اندازوں پر
ہم لوگ سفر میں رہتے ہیں
منسوخ شدہ پروازوں پر
آسیب لکیریں کھینچ گیا
دیوار صفت دروازوں پر
اب بین خموشی کرتی ہے
مصلوب شدہ آوازوں پر
کیا گفت و شنید ازل کی ہو
منصور ابد کے رازوں پر
منصور آفاق