مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ
یہ تو وہ ہیں جن کے آگے میں ہمیشہ
نیم سجدے میں رہا
میرے سپنوں کو بنفشی شال کی مانند جو بنُتی رہیں
جس کے لمسِ گرم کو کندھوں سے لپٹائے ہوئے
کاٹ لی ہے میں نے یہ سرما کی لمبی رات جیسی زندگی
جن کی آنکھوں کی تپش اور روشنی سے عمر بھر
میرے صحراؤں میں ہریالی رہی
مت کہو اِن مہ وشوں کو فاحشہ
یہ تو وہ ہیں
جو جنم کی قیدِ بے میعاد میں جی رہی ہیں بھید اندر بھید خود اپنے لہو کی بے وفائی کی سزا
سہتے ہوئے
برتر و بالا ہو جو چاہو کہو
میں تو رو دوں فاحشہ کو فاحشہ کہتے ہوئے
آفتاب اقبال شمیم