یہاں پر روشنی
ہر روز مقدارِ مقرر میں اترتی ہے
یہاں پر زندگی کو نالیوں کے فحش پانی کی نمی
سیراب کرتی ہے
دھوئیں کے شامیانے میں
یہاں لڑکے غروبِ شام سے ہی کرنے لگتے ہیں
تھکن کی دھول میں تیاریاں سپنوں کے میلوں کی۔۔۔۔
ابھی چلتے ہوئے ہو گا
اُسے احساس سانسوں کے ذرا سے گرم ہونے کا
کسی در پر لٹکتے ٹاٹ کے اُدھڑے کنارے پر
گلابی انگلیوں کا پھول مہکے گا
سکینہ مسکرائے گی
فضائے دل میں جینے کی تمنا گنگنائے گی۔۔۔۔
ابھی دہلیز تک آکر
اُسے ماں اپنی ناداری
کے عالم میں دعا دے گی
وہ گھر سے رِزق کے کھلیان کی جانب
ہوا میں تیرتا۔۔۔۔ ہرےالیاں چُننے نکل جائے گا
ڈھلتی دھوپ کے آنگن میں آکر
مژدہءِفردا سنائے گا
سنو ماں! سبز خوشحالی کا موسم آنے والا ہے۔۔۔
یہاں خشتِ شکستہ کی کسی دہلیز پر بیٹھے
وہ ہم عمروں کی سنگت میں
سناتا اور سنتا ہے
کہانا اُس دلاور شاہزادے کی
جو دیوِ جبر کو تسخیر کرتا ہے
یہاں وہ بچپنے سے نیم عمری تک
ہزیمت کے سفر میں
رفتہ رفتہ یہ گلی اپنے بدن کی خاک میں تعمیر کرتا ہے
اچانک خواب سے اٹھ کر
وہ اپنے خوں میں پلتی زرد بیزاری میں کہتا ہے
میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔