رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 38
تیغِ قاتل پہ ادا لوٹ گئی
رقصِ بسمل پہ قضا لوٹ گئی
ہنس پڑے آپ، تو بجلی چمکی
بال کھولے، تو گھٹا لوٹ گئی
اس روش سے وہ چلے گلشن میں
بِچھ گئے پھول صبا لوٹ گئی
خنجرِ ناز نے کشتوں سے امیر
چال وہ کی کہ قضا لوٹ گئی
امیر مینائی

تبصرہ کریں