دیکھ! یہ وسطِ بیروت کا
آخری موچہ ہے جہاں میں کھڑا ہوں مگر
ان فضاؤں میں بارود کی آتشیں آندھیوں کا ہدف
میں اکیلا نہیں
میرے پیچھے نظر تا نظر پُرسکوں لہلہاتی ہوئی بستیاں
(جن میں میرے لئے ایک بھی گھر نہیں)
جبر کی زد میں ہیں
دن کی شاخوں سے ٹوٹے ہوئے برگ
بکھرے پڑے ہیں مِرے سامنے
جن کا تازہ لہو
میری خندق کے حلقوم تک آگیا ہے
کہ یہ آخری معرکہ۔۔۔۔ اسفلِ ارض سے آسماں کا
دفاعِ ضمیر جہاں کا۔۔۔۔ مرے ڈوبنے تک لڑا جائے گا
کوئی اپنی رگیں کھول کر میری تائید کرنے اُٹھے
اور کوئی سخی مرد اپنا زرِخوں لُٹانے کو تیار ہو
جو مِرے بعد میری جگہ
میری بندوق تھامے ہوئے ایستادہ رہے
اور کل کے کٹہرے میں جب آج کے
یہ سلاطین ، یہ دیوتا
بے ضمیروں کی صف میں کھڑے فیصلہ سُن رہے ہوں
تو وہ خلقتوں کو
زمیں سے زمیں تک
نئی، ایک ہی ملکت کے اُبھرنے کا پیغام دے
جس کے خورشیدِ فردا نما برج پر
وہ لہو میں نہائی ہوئی نسل کے
خواب فردا کی پرچم کُشائی کرے جس میں بے خانماں، ہجرتوں کے سفر میں
بھٹکتے ہوئے قافلوں کو
ارادے کی آزادیاں پیش کرنے کی تقریب پر
ہرکفِ شاخ کو
دستِ موسم
گلُوں سے حناوی کرے