باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 257
ہر بات سے باخبر رہی ہے
جب تک کہ نظر نظر رہی ہے
مت دیکھ کہ ہے کہاں زمانہ
یہ سوچ کہ کیا گزر رہی ہے
یا بات میں بھی اثر نہیں تھا
یا کام نظر بھی کر رہی ہے
دیکھو تو ہے زخم زخم سینہ
کہنے کو کلی نکھر رہی ہے
حالات کا انتظار باقیؔ
وہ زلف ابھی سنور رہی ہے
باقی صدیقی