پروین شاکر کی غزلیں فرد فرد غیر مردّف براہِ راست مُلاقات کو زمانہ ہُوا میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا آئی ہے عجب گھڑی وفا پر تمام رات میں یاقوت چُن رہی تھی مگر کس مان پہ تجھ کو آزماؤں ہَوا ہوں ، اپنی گرہیں آپ کھولوں آؤ کوئی زخم گر تلاشیں آسمانوں پہ کہیں تنگ نہ ہو جائے زمیں سیلاب کی سماعتیں ، آندھی کو رہن تھیں کشش بچھانے لگا ہے ہر اگلا سیارہ اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ ذرا سی دُھوپ نکل آئی اور ماند ہُوئی برسات میں بھی یاد نہ جب اُن کو ہم آئے میں جانتی تھی، پال رہی ہوں سنپولیے ا نیند کی جھیل پہ اِک خواب پرانا اُترا مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا میرے دل پہ چھایا ہے میرے گھر کا سناٹا سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا مسئلہ پُھول کا ہے ، پُھول کدھر جائے گا وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا پلک جھپکتے ، ہَوا میں لکیر ایسا تھا سرطان مرا ستارا کب تھا بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا نیند میں ساری رات چلتا رہا وہ رنگ رنگ میں اُترا، کرن کرن میں رہا اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا ح بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح دست گُل پھیلا ہُوا ہے مرے آنچل کی طرح مجھ میں اُتر گیا ہے وہ سرطان کی طرح دل پہ اُتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح د ہجر کی شب اورایسا چاند؟ جنس نایاب ہو گئی شاید ر حرف آتا ہے مسیحائی پر قریب آنے لگا دُوریوں کا موسم پھر ش ذرا سی دھوپ میں کچھ چاندنی کی آمیزش م بچھڑ گیا تری صُورت، بہار کا موسم و رات بھر جاگی ہوئی جیسے دُلہن کی خوشبو ایسے موسم میں جو خواب آئیں غنیمت جانو وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو کبھی تو رنگ مرے ہاتھ کا حِنائی ہو! کام ، پت جھڑ کے اسیروں کی دُعا آئی ہو ک جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک ں اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں جو زخم ایک بار کھُلا پھر سلا کہاں میں ان سے خود کو ضرب دُوں کہ منقتسمِ کر لوں اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں خود کو خوشبو میں سمو کر دیکھوں شکستہ کشتیوں پر بادباں ہوں ہَوا میں جذب ہوں ، خوشبو کے انگ انگ میں ہوں حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں نیند چنتے ہُوئے ہاتھ ہی تھک گئے وہ بھی جب آنکھ کی سوئیاں رہ گئیں پاؤں سے ہواؤں کے، بیڑیاں نہیں کھلتیں مگر وہ زخم جو اُس دستِ شبنمیں سے ملیں بہہ گئے سب نیند کے سیلاب میں ایک پَل کو چھاؤں میں ، اور پھر ہَواؤں میں کوئی تو سمجھادیا رِ غیر میں اپنا ہمیں صبح کے ہونٹ کِتنے نیلے ہیں ! چاہنے والے ایک دفعہ بن باس تو لیتے ہیں جانے وہ آج بھی سویا کہ نہیں ! شکستِ خواب کے اب مجھ میں حوصلے بھی نہیں ھ ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ ہ اے خدا اب کے چلے زرد ہوا ، آہستہ بھیجے مری سوچوں کو اب الفاظ کا رشتہ حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ ی اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی مہک میں چمپا، روپ میں چنبیلی ہوئی دھیرے سے میرے ہاتھ کو چُھو کر گزر گئی رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی کیسی کیسی دُعاؤں کے ہوتے ہُوئے بد دُعا لگ گئی اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی ماں کی ردا تو ، دن ہُوئے نیلام ہو چکی سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی ہوا کی طرح سے نامعتبر رہا وہ بھی ہار کے بعد مسکراؤ کبھی اور اس کی زبان اجنبی تھی پر چاہنے والوں کو جدائی کی پڑی تھی نیند نے آنکھ پہ دستک دی تھی محور سے زمین ہٹ گئی تھی ہمارے بخت کی ریکھا بھی میر ایسی تھی ے وہ مرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے وصل کا خواب مکمل ہو جائے جب تک مرے وجود کے اندر اُتر نہ جائے کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے وہ ہاتھ بڑھ نہ پائے کہ گھونگھٹ سمٹ گئے مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے جینے کا ذرا تو حوصلہ دے زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے وہ ماہتاب ہی اُترا،نہ اُس کے خواب اُترے دُکھ پیڑ کے بے ثمر ہی ٹھہرے اب تو مرنا ہی دَوا ہو جیسے آنکھ کا نیند سے دل چُھوٹ رہا ہو جیسے رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے کس اسم کے جمال سے بابِ ہُنر کُھلے کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے نقش معدوم ہُوئے جاتے ہیں ان ہاتھوں کے میلے سے بچھڑ کے آنسوؤں کے سبز تحفے مجھے آنے لگے برساتوں کے پُھول آنگن میں کِھلے ہیں نہ چمن میں اب کے لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے کس کو چشم شب میں ستارا کیا مجھے وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے دُکھاپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے بارش میں گلاب جل رہا ہے سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے اندر سے بھی کوئی مرے پر کاٹ رہا ہے تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے میری نمو ، میرے ہی جیسے شخص میں ہے قسمت میں میری، صلہ نہیں ہے چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے چہرے پہ خاک ،زخم پہ خوشبو بکھیریے Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔