کلیاتِ غزل از عرفان صدیقی غیر مردّف مثالِ تیغِ رواں چل رہی ہے بادِ مراد مارے گا قاتل چیخے گا مقتول سانپ ہمیشہ پھن لہرائے اور سنپیرا بین دُنیا چپ ہو جائے تو اپنے آپ سے بولوں سینہ کشادہ گردن کشیدہ آ خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ ؤ اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ دار پر جاؤ مگر اوروں کی دعوت پہ نہ جاؤ ا عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا سر پہ چھایا تو ہے کچھ ابر پریشانی سا اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا سیاہ رات سے سورج نکالنے والا سیہ اُفق سے ہے سورج نکالنے والا ذرا سی بات پہ دل کا گداز ہو جانا لوگوں سے ملنا شامل نہ ہونا آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا مجھ کو اس الجھن سے کوئی کام نہ رکھنا آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا پسِ شامِ تن جو پکارنا سرِ بامِ جاں اسے دیکھنا میرے بدن کی مٹی کو ذرا کندن رنگ بنا دینا تو میرا جسم کہیں میری جاں نہ چھوُ لینا ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا بجھ تو گیا مگر چراغ شعلہ فشاں بہت ہوا دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا نا کوئی طائر سمتِ شجر کا‘ نا کوئی برگ نشانی کا مرا منظرنامہ خوابوں کا قبول تشنہ دلاں ہو سلام پانی کا یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا آج اقرار کریں زخم کے بھر جانے کا نقیب و لشکر و تختِ سلیمانی سے کیا ہو گا اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا سخن دیا ہے تو حسن قبول بھی دے گا دیے ہیں لفظ تو حسن قبول بھی دے گا کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا شبیہیں بناتا تھا اور ان کے اطراف نقش و نگارِ گماں کھینچتا تھا وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا پُرانے شہر میں ٹوٹی فصیلوں کے سوا کیا تھا ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا اور جو اس تیر سے بچ کر نکل آیا میں تھا عزیزو، میرا گھر ایسا نہیں تھا وہ شخص بھی اِنسان تھا، پتھر تو نہیں تھا جنگل میں زندہ کوئی ہوا کے سوا نہ تھا وَرنہ ٹوٹے ہوئے رِشتوں میں بچا کچھ بھی نہ تھا کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا بس ایک لکھتا رہا دوسرا سمجھتا رہا میں اب کے اور ہی شیشے اچھالنے آیا میں عجب عقدۂ دشوار کو حل کر آیا میں اک کرن تھا شب تار سے نکل آیا پھر عشق مرا کوچہ و بازار میں آیا لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا میرے لہو نے سب سر و سامان کر دیا ہم جس میں جی رہے تھے وہ گھر بند کر دیا راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا میں بجھا تو مرے بچوں نے اجالی دُنیا بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا اُٹھ کے چلنا ہی تو ہے، کوچ کی تیاری کیا میں شہر چھوڑ بھی دیتا تو جی بہلتا کیا نام تیرا نہ بتانا تھا سو ایسا ہی کیا وہ باد صبا کہلائیں تو کیا یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا میری بستی کسی صحرا میں بسادی گئی کیا وہ کچی نیند کی صورت مجھے اُچاٹ گیا بے وطن جنگل میں بے جرم و خطا مارا گیا میری پگڑی گر گئی لیکن مرا سر بچ گیا وہ مہرباں پسِ گردِ سفر چلا بھی گیا دار تک مجھ کو غرور بے گناہی لے گیا تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا ب اب تک آیا بھی نہیں تھا ابھی پیمانۂ لب ت کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات اب کے شاید ہو یہی میرے نمو کی صورت ث کس کو آواز لگاتا ہے کھنڈر کا وارث ح تھوڑی ہی دیر میں یہ ملاقات بھی ختم ہو جائے گی داستاں کی طرح د خانۂ شیر دہاں ہے یہ جہاں بھی شاید ر وہی ہوا کہ مرا تیر اُچٹ گیا آخر ہے ستم گرمئ بازار خریداروں پر شب میں حیران ہوا خون کی طغیانی پر چراغ گھات میں ہیں اور ہوا نشانے پر کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر یہ بازگشت بھی اے دشتِ ہو ہے کتنی دیر ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر س اب تو لوٹے گی پرندوں کی قطار اگلے برس ش اِس برس بھی ہے اُسی طرح سہانی بارش دل میں سناٹا تو باہر کی فضا بھی خاموش م کہ آج دیر سے نکلا مرا ستارۂ شام لشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام اک غزل دشت کے ساربانوں کے نام کسی گزرے ہوئے موسم کے نمائندہ ہم اے زمیں توُ اس اندھیرے کا ستارا ہے کہ ہم ن بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون یہ عجب نرگس بیمار ہے خاکم بدہن و ہم پہ تو دنیا کے ہر غم کا کرم ہے دوستو لفظ برچھی ہے اَگر تاک کے مارو یارو گم شدہ تیرو، کسی سر کی طرف لوٹ چلو کھول یہ بندِ وفا اور رہا کر اس کو شہر کا شہر ہی مقتول ہے مارے کس کو کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو جانے کس موج عنایت نے سنبھالا مجھ کو کبھی مرہم کبھی تلوار بنا دے مجھ کو تم ان اندھیروں میں گلیاں ہماریاں دیکھو خراب لوگوں کی خوش اعتباریاں دیکھو علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو ہاتھ بندھے ہوں سینے پر دل بیعت سے انکاری ہو دِل یہ چاہے ہے کہ شہرت ہو نہ رُسوائی ہو آخر شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو یہی ریل گاڑی بہت دِن کے بچھڑے ہوؤں کو ملاتی بھی ہے چپ رہو جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو پ نیلا موسم، پیلی پیلی دُھوپ ک اڑتی ہے خانۂ دل کے در و دیوار پہ خاک گ بجھے چراغ تو ٹھہرے ستارہ جوُ ہم لوگ اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ ں ورنہ تو یہ شئے میں بھی رگ تاک سے لے آؤں مضمون اگر کم ہوں تو افلاک سے لے آؤں ساتھ ہے کوئی تو عمر گزراں ہے جاناں اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں جشن ہے صبح کہ پیکار ہے میں کیا جانوں کون اس فوج کا سالار ہے میں کیا جانوں اے چاند، دکھائی دے تو جانوں غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں آنکھ کے جسم پہ خوابوں کی رِدا تان سکوں میں جو گزرے ہوئے ہنگاموں کا خمیازا ہوں میں پھر سے گمشدگاں کے علم اُٹھاتا ہوں تنگ آیا ہوں سو پیراہن جاں کھولتا ہوں آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں تماشا کر کہ میں کشکول گنجینے میں رکھتا ہوں میں اس کے خواب میں بیدار رہنا چاہتا ہوں ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں پارۂ سنگ کی آئینہ گری آخری کیوں دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں اُٹھتے ہوئے تیشوں سے کہو دَھار بچائیں گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں لمبا سفر ہے زاد سفر کیسے چھوڑ دیں آؤ کہ اجر کار رسالت ادا کریں شمع گل ہوتے ہی سب چلنے کی تیاری کریں مگر آج تک کوئی شہ سوار چھپا ہواہے غبار میں نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں کوئی تعبیر رکھ دو میرے بچوں کی کتابوں میں یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں یہ ایک سینہ کہاں تک سپر کروں گا میں چراغوں کے بدن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں لشکروں کی آہٹیں تو رات بھر سنتا ہوں میں ہوائے تازہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں آخر کسی افق سے اُبھارا گیا ہوں میں مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں میں بھی سونا ہوں مگر زنگ بہت ہے مجھ میں پھر اپنے آپ پہ کرنے لگا یقین بھی میں مرے دل کی گواہی درج کریں، مرے ہونٹوں کا اقرار لکھیں آج اُس شخص کو نزدیک بلا کر دیکھیں ہم اپنی خاک سے پھر گنجِ زر نکالتے ہیں کچھ اور بات کرو سب کے حال دوسرے ہیں یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں یاد وہ بھی نہیں آتا ہے پریشان جو ہیں کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں لامسہ، شامہ، ذائقہ، سامعہ، باصرہ سب مرے راز دانوں میں ہیں عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں اب تو پہچان کہ ہم شام کو گھر آگئے ہیں سخن یہ بے خبری میں کہاں سے آتے ہیں چلو یہ شام سرِ جوئے لب گذارتے ہیں یہ کون ہیں جو لہو کو کتاب کرتے ہیں فریاد ہم بہت پسِ دیوار کرتے ہیں کہ ہم دستِ کرم دُنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں ہم کو سب مہربان ملتے ہیں پر اسے معرکۂ عشق سے کم جانتے ہیں روشنی روزنِ دیوار بھی کر سکتے ہیں اب تک خیام دشت میں برپا ہمارے ہیں پھر آپ لوگ کس کے خدا ہونے والے ہیں اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں‘ اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں ڈوبتے ڈوبتے اِک بار پکاریں گے تمہیں ساتھ مت چھوڑنا ہم پار اُتاریں گے تمہیں سو وہ سر بریدہ بھی پشت فرس سے اُترتا نہیں شام آنکھوں سے یہ کہتی ہے گھر آنے کا نہیں دستک جو دی تو سایۂ در نے کہا نہیں بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ جاں نہیں نہیں بانوئے کشور جمال میرا سوال کچھ نہیں شکن اَبھی کوئی اَبروئے نکتہ چیں پہ نہیں اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں سوچئے وہ شہر کیا ہو گا جہاں میں ہی نہیں ہوا کبھی سرِ دشتِ بلا چلی ہی نہیں یہ خط ضرور ہے مگر جواب کے لیے نہیں مجھ کو لے جائے گی، یہ موجِ وصال اور کہیں ھ بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ ہ بڑھی سر کی طرف تیغِ جفا آہستہ آہستہ حاجت روا ہو خاتم حیدر کا واسطہ ی لو، شمع بجھی، رات گزرنے کی خبر آئی ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی خزاں کی رت میں بھی ابرِ بہاراں بھیج دے کوئی فصل امکاں کو نمو کرنے میں آسانی ہوئی جا رہی ہے جو ندی کھیتوں سے شرمائی ہوئی مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نئیں ہوئی اور پھر ایک دن دل کی ساری زمیں درد کی مملکت میں ملا لی گئی کتنے موسم لگے ہیں ہمارے بدن پر نکلنے میں یہ بال و پر یا اخی کبھی دن بیتیں بیراگ بھرے کبھی رت آئے انوراگ بھری اس سے بچھڑے ہیں تو حاصل ہے فراغت کیسی حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ اس کا پیکر روشنی، میرا مقدّر روشنی اور تشہیر کرو اپنی گرفتاری کی بہت دِنوں میں کھلیں کھڑکیاں مکانوں کی یار، تم کو سانس لینے کی ادا کب آئے گی وہی جرس کی صدا پھر کہیں سے آنے لگی اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی بچائے رَکھو پُرانی روایتوں کو اَبھی یہی خیال تھا آئندگاں ہمارا بھی خیموں میں بہت دیر سے بیدار ہیں ہم بھی بحر بھی، بادبان بھی، ہم بھی شانہ ہو کوئی دیدۂ گریاں کے لئے بھی گزر چکے ہیں یہ لشکر یہاں سے پہلے بھی چاہنے والوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی پل بھر میں نہ دریا تھا نہ میں تھا نہ گھٹا تھی نظر دیئے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی لکھنؤ میں بھی بتوں کا قد و قامت ہے وہی ے ستارہ ڈوبے ستارہ نما نکل آئے کس سمت رہا ہو کے گرفتار نکل آئے سب سچ ہی سہی، پہلے سماعت میں تو آئے ستارہ جو کو فرشتے کہیں نظر نہیں آئے میں چپ رہوں تو یہ بھولی ہوئی صدا بھی نہ آئے اور اک شمع تہہ خاک دبا بھی آئے شبِ سفر میں کبھی ساعتِ زوال بھی آئے پڑھوں سلام تو خوشبو کلام سے آئے تو کائنات کو کیوں دردِ سر بنایا جائے ورنہ ممکن ہے مری رات بسر بھی ہو جائے یہ نامراد تہِ آسماں کہاں جائے یہ نامراد ہنوز آسماں کہاں جائے کیا تیغ ہے، چل جائے تو چلتی ہی چلی جائے آخری معرکۂ صبر ہے عجلت کی جائے وہ رت بھی آئے کہ اس کا بدن گھٹا ہوجائے عرفانؔ تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے جبیں اُٹھا، کہ یہ بندہ خدا نہ ہونے پائے کس دَشت میں ہیں شوق کے گھوڑے اڑے ہوئے تمہارے ہوتے ہوئے ہم اُداس کیسے ہوئے بے تیغ و تیر، شحنہ لشکر بھی ہو گئے تو دلبرانِ غزل خط و خال سے بھی گئے درخت چھوڑ کے اپنی زمیں نہیں جاتے وہ لوگ ادا اجر رسالت نہیں کرتے مٹی ہیں تو پھر شہر بدر ہم نہیں ہوتے اب عشق تو اس بے ہنری کو نہیں کہتے آتے موسم کا پتا سوکھی ہوئی ڈالی دے کالی رات دیا دے کوئی، جنگل کوئی تارا دے کوئی رات آئے اور اس شہر کو جنگل کردے دریا سے پوچھو، رات یہ ہم نے کیسے گزاری دریا کنارے دل سے ہمیں فرزانہ جانے دیوانہ مشہور کرے اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے روشنی لکھتی ہے اسمائے گرامی تیرے برس رہا ہے کہاں اَبر بے خبر میرے جاتی رت، ہوئیں گے کب پیڑ گھنیرے میرے پوچھئے دور کی آواز کا جادو ہم سے فاصلہ اپنا مگر کم نہیں کرتا ہم سے میں جل رہا ہوں اسی روشنی میں پہلے سے شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے وہی چہرے تھے مرے دیدہ حیراں والے کہ لکھ دیں گے سب ماجرا لکھنے والے انگلیاں ہونٹوں پہ رکھی ہیں زباں کیسے کھلے میں نے پوچھا ہے تو اقرار کیا ہے اس نے کیسا جشن منایا ہم نے راہ زَن دَرپئے نقدِ دِل و جاں تھے کتنے نیند آنکھوں سے اُڑی کھول کے شہپر اپنے دکھ ابھی تازہ ہیں اوروں سے بچھڑ جانے کے چین ملتا ہے تو یاد آتے ہیں غم دِلّی کے وہ ہم سے کہہ رہا ہے کیا مجھے بیمار کردیں گے نگاہوں سے جو چپکے ہیں وہ منظر کیسے پھینکو گے ہم لوگ بھی اے دل زدگاں عیش کریں گے اب اک سخن ترے رنگِ حنا پہ لکھیں گے کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے مسافتوں کی ہوائے سحر سلام تجھے پھر اک کرن اسی کوچے میں لے کے جائے مجھے میں سر سے پا تک شمع جاں کس نے کیا روشن مجھے پانیوں میں راستہ شعلوں میں گھر کرنا مجھے اے چشمِ اعتبار پریشاں نہ کر مجھے تو جہاں چاہے وہاں موجِ ہوا لے چل مجھے یہ جو تونے سر دیوار جلایا ہے مجھے دیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے میاں کا صدقہِ تاج و نگیں ملا ہے مجھے جیسے بچہ کسی میلے میں تماشا دیکھے اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہے سارا منظر خالی ہے جو بھی قاتل ہے ہماری ہی طرح بسمل ہے ہر اک اُس سرکار کا چاکر، اُس در کا درباری ہے مگر یہ نوک پلک میرے فن کا جادوں ہے یہ کون شعبدہ گر ہے، یہ کیا تماشا ہے ہم اپنے گیت گائیں یہ تو سب ہوتا ہی رہتا ہے مگر اُجالا مرے سوز جاں سے آتا ہے یہ کشتگاں کا قبیلہ سمٹتا جاتا ہے نہ اس کی تیغ نہ میرا لہو پکارتا ہے تو اکیلا ہے کہ دُنیا سے جدا چلتا ہے جو طشتِ موج اٹھاتا ہوں سر نکلتا ہے رک بھی جائیں تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے کچھ کم سماعتوں کو سنانا بھی ہوتا ہے اَے ہوا، کچھ ترے دامن میں چھپا لگتا ہے ناوکِ کور کماں کس کی طرف دیکھتا ہے وہ مگر خود کو جلانا بھی نہیں چاہتا ہے سارا منظر مرے خوابوں کے جہاں جیسا ہے پڑھا ہوا وہ دِلوں کی کتاب کتنا ہے برگ افتادہ! ابھی رقصِ ہوا ہونا ہے یہ کاروبارِ محبت اسی کے بس کا ہے پھر بھی دُنیا میں خسارہ سر بہ سر آنکھوں کا ہے گہرے سمندروں کا سفر بھی اسی کا ہے یہ مضموں ابروئے جاناں کا تلواروں سے اچھا ہے ہم نے ہر فکر کو فردا پہ اُٹھا رکھا ہے پھر اُس سے آج وہی رنجِ بے سبب کیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے کوئی خنجر رگ گردن کے قریں آگیا ہے کیا سمندر ہے کہ اک موج رواں سے کم ہے مجذوب ذرا سیر مقامات میں گم ہے کہ یہ عالم ترے ہونے کی بدولت ہی تو ہے یہ میرے ساتھ کا بچہ جواں ابھی تک ہے مگر کمند ابھی دستِ سبکتگین میں ہے ہمارے جسم جدا ہیں کہ جان بیچ میں ہے تنہا نہیں ہیں وہ کہ خدا اُن کے ساتھ ہے ہمارے ساتھ اَبھی نام و ننگ سا کچھ ہے میاں کھینچی ہوئی تلوار سے معاملہ ہے ہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے جب اک ہوا ترے تن کی طرف سے آتی ہے سلونی شام جیسے خوں کی پیاسی ہوتی جاتی ہے ہم وہی کرتے ہیں جو خلقِ خدا کرتی ہے خامشی آکے سرِ خلوتِ جاں بولتی ہے چاند ہے اور چراغوں سے ضیا چاہتی ہے ہوا ادھر سے اُدھر آتی جاتی رہتی ہے کشتیاں کس کی ہیں‘ سفاک ہوا کس کی ہے لشکر بھی ہے، خنجر بھی ہے، پہرا بھی ہے، دریا بھی ہے توُ بھی ہے، اَے مری جاں تیغ بکف توُ بھی ہے اور سچ پوچھو تو سرمایۂ فن وہ بھی ہے باطن کی چمک سانولے پن میں بھی وہی ہے ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے پھر نہ کہنا کوئی زنجیر تمہارے لیے ہے مرا رقیب بھی، میرا سجن بھی زندہ رہے آندھی میں سیر ارض و سماء پر نہ جائیے پیڑ گملوں میں سمٹ جائیں گے ہریالی لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے اس عیش کے لیے سر و سامان چاہیے بے سمت راستہ ہے‘ بھٹک جانا چاہیے تابِ نمو تو ہم میں ہے، آب و ہوا بھی چاہیے فرد فرد Rate this:اسے شیئر کریں: Share on X (Opens in new window) X Share on Facebook (Opens in new window) فیس بک پسند کریں لوڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔