ٹیگ کے محفوظات: یہ دروازہ کیسے کھُلا؟

یہ دروازہ کیسے کھُلا؟

یہ دروازہ کیسے کھُلا، کس نے کھولا؟

وہ کتبہ جو پتھر کی دیوار پر بے زباں سوچتا تھا

ابھی جاگ اٹھا ہے،

وہ دیوار بھولے ہوئے نقش گر کی کہانی

سنانے لگی ہے؛

نکیلے ستوں پر وہ صندوق، جس پر

سیہ رنگ ریشم میں لپٹا ہوا ایک کتے کا بت،

جس کی آنکھیں سنہری،

ابھی بھونک اُٹھا ہے؛

وہ لکڑی کی گائے کا سر

جس کے پیتل کے سینگوں میں بربط،

جو صدیوں سے بے جان تھا

جھنجھنانے لگا ہے؟

وہ ننھے سے جوتے جو عجلت میں اک دوسرے سے

الگ ہو گئے تھے؛

یکایک بہم مل کے، اترا کے چلنے لگے ہیں۔

وہ پایوں پہ رکھے ہوئے تین گلدان

جن پر بزرگوں کے پاکیزہ یا کم گنہ گار

جسموں کی وہ راکھ جو (اپنی تقدیرِ مبرم سے بچ کر)

فقط تِیرہ تر ہو گئی تھی،

اُسی میں چھپے کتنے دل

تلملانے لگے ہیں؟

یہ دروازہ کیسے کھلا؟ کس نے کھولا؟

ہمیں نے____

ابھی ہم نے دہلیز پر پاؤں رکھا نہ تھا

کواڑوں کو ہم نے چھوا تک نہ تھا

کیسے یکدم ہزاروں ہی بے تاب چہروں پہ

تارے چمکنے لگے

جیسے اُن کی مقدس کتابوں میں

جس آنے والی گھڑی کا حوالہ تھا

گویا یہی وہ گھڑی ہو!

ن م راشد