ٹیگ کے محفوظات: یگانہ

چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 27
تمام جلنا جلانا فسانہ ہوتا ہوا
چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا
عجب گداز پرندے بدن میں اڑتے ہوئے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہوتا ہوا
ہری زمین سلگنے لگی تو راز کھلا
کہ جل گیا وہ شجر شامیانہ ہوتا ہوا
نظر میں ٹھہری ہوئی ایک روشنی کی لکیر
افق پہ سایۂ شب بیکرانہ ہوتا ہوا
رقابتیں مرا عہدہ بحال کرتی ہوئی
میں جان دینے کے فن میں یگانہ ہوتا ہوا
عرفان صدیقی

بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 12
تمام تاب و تبِ عاشقی بہانہ ترا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا
جو رنگ خواب میں دیکھے نہیں وہ سامنے تھے
کھلا ہوا تھا نظر پر نگارخانہ ترا
وہ میرے ہاتھوں میں آئے ہوئے زمین و زماں
وہ میری خاک پہ بکھرا ہوا خزانہ ترا
میں ایک موج میں غرقاب ہوچکا تھا مگر
چھلک رہا تھا ابھی ساغرِ شبانہ ترا
میں بجھتا جاتا تھالیکن کنارِ جوئے وصال
جھمک رہا تھا ابھی گوہرِ یگانہ ترا
میں تجھ سے بچ کے بھی کیا دوسروں کے کام آیا
تو اب ملے گا تو بن جاؤں گا نشانہ ترا
بس ایک جست میں ہوتی ہے طے مسافتِ ہجر
سمندِ طبع کو کافی ہے تازیانہ ترا
عرفان صدیقی

اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 12
غالب و شیفتہ و آزردہ و ذوق
اب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانہ ہرگز
مومن و علوی و صہبائی و ممنون کے بعد
شعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز
کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کو
ورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز
داغ و مجروح کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں
نہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز
رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیرو زبر
اب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانا ہرگز
الطاف حسین حالی