ٹیگ کے محفوظات: یکتا

وہ جو ہم کثرت والوں میں یکتا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 70
چشم غلط انداز سے کیسے تکتا ہے
وہ جو ہم کثرت والوں میں یکتا ہے
یہ وہ باغ لئیم ہے جس کی شاخوں پر
نفعِ یک طرفہ کا میوہ پکتا ہے
یہ بھی کرم ہے اپنے وعدہ نوازوں کا
سامنے اوندھا رکھا جام چھلکتا ہے
یونہی اس شعلے کو جلتا رہنے دو
اور بجھانے سے یہ اور بھڑکتا ہے
شاید سیلِ ہوا کی آمد آمد ہو
ورنہ کیوں گلشن میں ایسا سکتا ہے
یاد آ جائے کوئی ناہمواری سی
ورنہ مے پینے سے کون مہکتا ہے
آفتاب اقبال شمیم