ٹیگ کے محفوظات: یٰسین

اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 627
دیکھوں میں سبز گنبد تسکین ہے تو یہ ہے
اسلام ہے تو یہ ہے، کچھ دین ہے تو یہ ہے
ان پر درود بھیجوں ان پر سلام بھیجوں
ان کی میں نعت لکھوں تحسین ہے تو یہ ہے
وقتِ قضا تب آئے جب میں مدنیہ پہنچوں
تجہیز ہے تو یہ ہے تکفین ہے تو یہ ہے
میرے نصیب میں ہوشہرِ نبیﷺ کی مٹی
تقدیر ہے تو یہ ہے تدفین ہے تو یہ ہے
چہرے پہ نور برسے،ہونٹوں سے پھول برسیں
ان کی نظر میں آؤں تزئین ہے تو یہ ہے
قرآن کہہ رہا ہے منصور ہرسخن میں
فرقان ہے تو یہ ہے یٰسین ہے تو یہ ہے
منصور آفاق

کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 174
فلم چلتی ہے مسلسل وہی اک سین پہن کر
کون عریاں ہے نگاہوں میں سیہ جین پہن کر
کوئی کمرہ مرے پاؤں پہ اترتا ہی نہیں ہے
سیڑھیاں چلتی چلی جاتی ہیں قالین پہن کر
ہوتے رہتے ہیں جہازوں کے بڑے حادثے لیکن
کرتا رہتا ہوں سفر سورتِ یٰسین پہن کر
نرمگی اس کی ابھر آئی تھی ملبوس سے باہر
کتنی نازک سی سکرٹ آئی تھی نرمین پہن کر
تم مرے ہونٹوں کی کیا پیاس بجھا سکتی ہو وینس
میرا پیاسا ہے بدن، آبِ ابا سین پہن کر
ہیں خدائی کا مسائل کہ سرِ راہ پڑے ہیں
اک تماشے کا لبادہ سا فراعین پہن کر
منصور آفاق