ٹیگ کے محفوظات: یاسمن

وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 7
رامش گروں سے داد طلب انجمن میں تھی
وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی
تھے دن عجب وہ کشمکش انتخاب کے
اک بات یاسمیں میں تھی اک یاسمن میں تھی
رم خوردگی میں اپنے غزال ختن تھے ہم
یہ جب کا ذکر ہے کہ غزالہ ختم میں تھی
محمل کے ساتھ ساتھ میں آ تو گیا مگر
وہ بات شہر میں تو نہیں ہے جو بن میں تھی
کیوں کہ سماعتوں کو خنک عیش کر گئی
وہ تند شعلگی جو نوا کے بدن میں تھی
خوباں کہاں تھے نکتہ خوبی سے با خبر
یہ اہلِ فن کی بات تھی اور اہلِ فن میں تھی
یاد آ رہی ہے پھر تری فرمائشِ سخن
وہ نغمگی کہاں مری عرضِ سخن میں تھی
آشوبناک تھی نگہِ اوّلینِ شوق
صبحِ وصال کی سی تھکن اس بدن میں تھی
پہنچی ہے جب ہماری تباہی کی داستاں
عذرا وطن میں تھی نہ عنیزہ وطن میں تھی
میں اور پاسِ وضعِ خرد، کیا ہوا مجھے؟
میری تو آن ہی مرے دیوانہ پن میں تھی
انکار ہے تو قیمتِ انکار کچھ بھی ہو
یزداں سے پوچھنا یہ ادا اہرمن میں تھی
جون ایلیا

جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ

دیوان ششم غزل 1869
اب دل خزاں میں رہتا ہے جی کی رکن کے ساتھ
جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ
کب تک خراب شہر میں اس کے پھرا کریں
اب جاویں یاں سے کوئی غریب الوطن کے ساتھ
ہم باغ سے خزاں میں گئے پر ہزار حیف
جانا بنا نہ اپنا گل و یاسمن کے ساتھ
لکنت سے کیا نکلتی نہیں اس کے منھ سے بات
چپکا ہے حرف یار کے شیریں دہن کے ساتھ
جی خواب مرگ لے گئی حسرت ہی میں ندان
اک شب نہ سوئے ہم کسو گل پیرہن کے ساتھ
جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے
کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ
کیا جانیں لوگ عشق کا راز و نیاز میر
اک بات اس سے ہو گئی دو دو بچن کے ساتھ
میر تقی میر

سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر

دیوان سوم غزل 1134
پڑتی ہے آنکھ ہر دم جا کر صفاے تن پر
سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر
نام خدا نکالے کیا پائوں رفتہ رفتہ
تلواریں چلتیاں ہیں اس کے تو اب چلن پر
تو بھی تو ایک دن چل گلشن میں ساتھ میرے
کرتی ہے کیا تبختر بلبل گل چمن پر
دل جو بجا نہیں ہے وحشی سا میں پھروں ہوں
تم جائیو نہ ہرگز میرے دوانے پن پر
درکار عاشقوں کو کیا ہے جو اب نامہ
یک نام یار بس ہے لکھنا مرے کفن پر
تب ہی بھلے تھے جب تک حرف آشنا نہ تھے تم
لینے لگے لڑائی اب تو سخن سخن پر
گرد رخ اس کے پیدا خط کا غبار یوں ہے
گرد اک تنک سی بیٹھے جس رنگ یاسمن پر
کس طرح میرجی کا ہم توبہ کرنا مانیں
کل تک بھی داغ مے تھے سب ان کے پیرہن پر
میر تقی میر

اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ

دیوان سوم غزل 1123
کل لے گئے تھے یار ہمیں بھی چمن کے بیچ
اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ
کشتہ ہوں میں تو شیریں زبانی یار کا
اے کاش وہ زبان ہو میرے دہن کے بیچ
اس بحر میں رہا مجھے چکر بھنور کے طور
سر گشتگی میں عمر گئی سب وطن کے بیچ
گر دل جلا بھنا یہی ہم ساتھ لے گئے
تو آگ لگ اٹھے گی ہمارے کفن کے بیچ
تنگی جامہ ظلم ہے اے باعث حیات
پاتے ہیں لطف جان کا ہم تیرے تن کے بیچ
نازک بہت ہے تو کہیں افسردگی نہ آئے
چسپانی لباس سے پیارے بدن کے بیچ
ہے قہر وہ جو دیکھے نظر بھر کے جن نے میر
برہم کیا جہاں مژہ برہم زدن کے بیچ
میر تقی میر

دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا

دیوان اول غزل 118
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
دوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا
برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میں
بھیجا تھا اس کے پاس سو میرے وطن گیا
خاطر نشاں اے صید فگن ہو گی کب تری
تیروں کے مارے میرا کلیجہ تو چھن گیا
یادش بخیر دشت میں مانند عنکبوت
دامن کے اپنے تار جو خاروں پہ تن گیا
مارا تھا کس لباس میں عریانی نے مجھے
جس سے تہ زمین بھی میں بے کفن گیا
آئی اگر بہار تو اب ہم کو کیا صبا
ہم سے تو آشیاں بھی گیا اور چمن گیا
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میر
یہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
میر تقی میر