ٹیگ کے محفوظات: یار

اے صاحبِ فن اتار تصویر

منظر ہے کہ شاہکار تصویر
اے صاحبِ فن اتار تصویر
رہ جاتی ہے یادگار تصویر
ہر چیز سے پایدار تصویر
اب دیکھ لو ایک بار ہم کو
پھر دیکھو گے بار بار تصویر
تصویر کی یار کو ضرورت
محتاجِ جمالِ یار تصویر
معمولی سے کیمرے نے باصرِؔ
کیا کھینچی ہے شاندار تصویر
باصر کاظمی

اور عقل و آگہی پہ بار ہے

عشق رنگ و نور کا مینار ہے
اور عقل و آگہی پہ بار ہے
وصل تکمیلِ فغاں ہے دوستاں!
ہجر رقصِ نیزہ و تلوار ہے
آنکھ پردوں میں چھُپا قاتل کوئی
دل حریصِ بارگاہِ یار ہے
شور کا شر کھولتا گہرا کنواں
چپ دعاے بخت کا اظہار ہے
رات تہذیبِ نظر کی کافری
دن کہیں لیٹا ہوا بیمار ہے
جسم کاغذ پر لکھا حرفِ غلط
رُوح کوئی خارجی کردار ہے
زندگی سرسبز پیڑوں کی دھمال
موت سورج کے گلے کا ہار ہے
جیت جشنِ دل فریبی ہے فلکؔ!
ہار لوحِ تربتِ اغیار ہے
افتخار فلک

جب گونگے اشجار ٹھکانے لگتے ہیں

اسرار و آثار ٹھکانے لگتے ہیں
جب گونگے اشجار ٹھکانے لگتے ہیں
دیواروں کو خواب سنانے والے لوگ
آنکھوں کے اُس پار ٹھکانے لگتے ہیں
آزادی آسان کہاں ہے پہلے تو
لاشوں کے انبار ٹھکانے لگتے ہیں
ہائے محبت! تیری خاطر جیتے جی
کیسے کیسے یار ٹھکانے لگتے ہیں
لوگ تامّل میں مر جاتے ہیں لیکن
ھم ایسے بےکار ٹھکانے لگتے ہیں
افتخار فلک

ہم جو ناچار خودکشی کرلیں

در و دیوار خودکشی کرلیں
ہم جو ناچار خودکشی کرلیں
پھر نہ کہنا مذاق تھا پیارے!
واقعی! یار! خودکشی کرلیں؟؟
کام کرنا ہی شرط ہے تو پھر
کیوں نہ اس بار خودکشی کرلیں!
جن چراغوں کو موت کا ڈر ہے
وہ سرِ دار خودکشی کرلیں
اس سے پہلے کہ سامعیں سوئیں
اہم کردار خودکشی کرلیں
جو ہیں ناداں وہ زندگی جھیلیں
اور سمجھدار خودکشی کرلیں
میں تو کہتا ہوں "جوش” کی مانیں
سب قلمکار خودکشی کرلیں
افتخار فلک

ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
شیر کی کھال مستعار مِلے
ہاں مِلے گر تو یوں وقار مِلے
تھے وہ درباریوں کے چھوڑے ہوئے
جو پرندے پئے شکار مِلے
ڑُخ بہ رُخ چاہے گردِ جَور سجے
تخت کو اور بھی نکھار ملے
جو بھی ہے دردمندِ خلق اُس کو
اور کیا جُز فرازِ دار مِلے
جو خلافِ فرعون اُٹّھی تھی
لب بہ لب کیوں وہی پُکار مِلے
کاسہ لیسوں میں اک سے اک تازہ
جو ملے وہ وفا شعار مِلے
وہ جو لائے بقائے حفظِ عوام
کون ماجِد کو ایسا یار مِلے
ماجد صدیقی

احساس کے تلوے میں چھپا خار کہاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
آنکھوں کو نہیں سُوجھتا، آزار کہاں ہے
احساس کے تلوے میں چھپا خار کہاں ہے
جو جھاگ سا اُٹھا تھا کبھی اپنے سروں سے
اب دیکھیے وہ طرۂ پندار کہاں ہے
ہلچل سی مچا دیتا تھا جو کاسۂ خوں میں
جو دشمنِ جاں تھا وہ مرا یار کہاں ہے
شعلہ تو کہاں کا کہ دھُواں تک نہیں دیکھا
موجود پسِ لب ہے جو وہ نار کہاں ہے
تہہ دار ہے، اُلجھاؤ نہیں اُس کے سخن میں
ماجد کا لکھا ایسا پُر اسرار کہاں ہے
ماجد صدیقی

گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
نصابِ ربط کے نقش و نگار بُھول گئے
گلاب رکھ کے کتابوں میں یار، بُھول گئے
گھروں سے لے کے گھروں تک انا و نخوت کی
اُڑی وہ گرد کہ چہرے نکھار بُھول گئے
ہوائے تُند نے جھٹکے کچھ اس طرح کے دئیے
ہمارا کس پہ تھا کیا اختیار؟ بُھول گئے
جنہیں گماں تھا نمو اُن تلک بھی پہنچے گی
وہ کھیت مرحلۂ انتظار، بُھول گئے
نہ جان پائے کہ مچلے گا، پُھول چہروں میں
یہ ہم کہ خوئے دلِ نابکار، بُھول گئے
قدم کدھر کو ،ارادے کدھر کے تھے اُن کے
یہ بات رن میں سبھی شہسوار، بُھول گئے
فضائے تخت ثمر بار دیکھ کر ماجدؔ
جو روگ شہر کو تھے، شہریار، بُھول گئے
ماجد صدیقی

آنکھیں پگھل چلی ہیں، اسی انتظار میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
مہکے ہمارا باغ بھی شاید، بہار میں
آنکھیں پگھل چلی ہیں، اسی انتظار میں
دل کا اُبال کرتے رہے ہیں سپردِ چشم
ہم نے کیا وُہی کہ جو تھا، اختیار میں
چاہے وُہ جائے دفن بھی سب سے الگ تھلک
نخوت ہے اس طرح کی، دلِ تاجدار میں
یہ اور بات آگ بھی، گلزار بن گئی
نمرود نے تو حق کو اُتارا تھا، نار میں
آکاش تک میں چھوڑ گیا، نسبتوں کا نُور
ماجد جو اشک، ٹوٹ گِرا یادِ یار میں
ماجد صدیقی

اُمیدوں کی ٹھِٹھڑی کُونجیں کون سے دیس سُدھار چلیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ایک ذرا سی رُت بدلی تو سب کی سب اُس پار چلیں
اُمیدوں کی ٹھِٹھڑی کُونجیں کون سے دیس سُدھار چلیں
لے جائے کس اور نجانے عمر یہ بھُول بھلّیوں کی
کہنے کو کچھ دوشیزائیں مل کر ہیں بازار چلیں
ظاہر میں میدان سکوں کا جو اِس دل کے ہاتھ رہا
ٹِک ٹِک شور مچاتی گھڑیاں وُہ میدان بھی مار چلیں
ہر حیلہ ناکام رہا بیمار کی جان بچانے کو
چلنے کو تو رُک رُک جاتی سانسیں سو سو بار چلیں
جی داری کے فیض سے زندہ ہیں ورنہ ہر آنگن سے
طعن کی کیا کیا کنکریاں ہم پر بھی ماجدؔ یار چلیں
ماجد صدیقی

خلق سے وہ بے زار ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 107
جتنے بھی اوتار ملے
خلق سے وہ بے زار ملے
جن سے ملنا روگ ہُوا
اُن سے بھی ناچار ملے
سُکھ کے سپنے دیکھے تھے
پر کیا کیا آزار ملے
ناٹک میں چاہت کے بھی
نفرت کے آثار ملے
جھُوٹ بٹھائے مسند پر
سچ کہنے پر دار ملے
سوچیں ٹی وی سیٹ والے
کیونکر وی سی آر ملے
اچّھے ہیں وہ لوگ جنہیں
ماجدؔ جیسے یار ملے
ماجد صدیقی

دل میں یوں زہر سا خمار نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 124
تیر جب اُس کا جاں کے پار نہ تھا
دل میں یوں زہر سا خمار نہ تھا
ہے منانا اُسی خدا کو ہمیں
جس کو آدم پہ اعتبار نہ تھا
آئنے سج رہے تھے پلکوں پر
حالِ دل پھر بھی آشکار نہ تھا
وسعتیں جب تلک طلب میں نہ تھیں
حرف یوں وقفِ اختصار نہ تھا
تھے زمیں پر قدم ہمارے بھی
بدگماں ہم سے جب وہ یار نہ تھا
شدّتِ اشتہا سے جسم اپنا
کب سزاوارِ سنگسار نہ تھا
مہرباں وہ بھی تھا مگر ماجدؔ
کوئی ہم سا بھی جاں سپار نہ تھا
ماجد صدیقی

دِل کہ بیگانۂ راحت ہے کسے یار کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
جس کو چھیڑے سرِ محفل وہی بیزار کرے
دِل کہ بیگانۂ راحت ہے کسے یار کرے
سرِ مقتل ہے یہی حرفِ ملامت کافی
کام باقی ہی رہا کیا ہے جو تلوار کرے
دل ہے میرا کہ پرندہ کوئی جوئندۂ آب
خواب میں کون یہ ہر شب مجھے بیدار کرے
ہم رُکے ہیں کہ یہی ڈور میّسر تھی ہمیں
اور ہوا ہے کہ اُڑانے ہی پہ اصرار کرے
آدمی بھی کہ ہے زندانِ تمّنا کا اسِیر
کام جو کرنا نہ چاہے وہی ناچار کرے
لوگ ہیں سطح پہ کائی کے بھی قائل ماجدؔ
تو ہی پاگل ہے جو ہر دَرد کا اظہار کرے
ماجد صدیقی

بہ ذکرِ عجز زباں کو فگار کیا کرتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 95
بیاں حکایتِ بُخل بہار کیا کرتے
بہ ذکرِ عجز زباں کو فگار کیا کرتے
اُفق اُفق پہ کیا صَرف لُطفِ بینائی
ہم اِس سے بڑھ کے ترا انتطار کیا کرتے
نفس نفس تھا رسن، دار ایک اِک دھڑکن
زباں سے تذکرۂ طوق و دار کیا کرتے
ہمیں تو لطفِ نظر بھی تِرا بہم نہ ہُوا
فضائے دہر کو ہم سازگار کیا کرتے
اب اِس کے بعد تو تیشہ تھا اور تھا سر اپنا
کرشمہ اور کوئی بہرِ یار کیا کرتے
فراغ ہی نہ مِلا اہلِ مصلحت سے کبھی
جنوں کی راہ بھلا اختیار کیا کرتے
کھنچے تھے خاک نشیں تک بھی ہم سے جب ماجدؔ
ہمارے حق میں بھلا تاجدار کیا کرتے
ماجد صدیقی

بہ شہرِ درد وُہی لوگ شہر یار ہُوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 101
اُتر کے اَوج سے پل بھر جو خاکسار ہوئے
بہ شہرِ درد وُہی لوگ شہر یار ہُوئے
خطا کچھ اِس میں تمہاری بھی تھی کہ غیروں کے
تمام لوگ مقلّد سپند وار ہوئے
جو جھُک گئے تھے سکوں آشنا تو تھے لیکن
گراں بہا تھے وہی سر جو زیبِ دار ہوئے
دُعا کو جن کی اُٹھے ہاتھ شل ہوئے اپنے
ہمارے حق میں وُہی پل نہ سازگار ہوئے
کہاں کا لطف کہاں کی طراوتیں ماجدؔ
کہ اب تو لفظ بھی اپنے ہیں خارزار ہوئے
ماجد صدیقی

میں شامل ہوں جمالِ یار تجھ میں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 13
مری خوشبو مرے اسرار تجھ میں!
میں شامل ہوں جمالِ یار تجھ میں
مسیحائی کو جس کی عشق آیا
کوئی ایسا پڑا بیمار تجھ میں
غبارِ ذات بیٹھے گا کوئی دم
گری ہے آخری دیوار تجھ میں
فسونِ شب بھی ہے قربان جس پر
سخن ایسا ہو ا بیدار تجھ میں!
ہوائے تند اور جلتے دیے ہیں
ازل سے برسرِ پیکار تجھ میں
تجھے ہے آرزو دنیا کی لیکن
کوئی دنیا سے ہے بیزار تجھ میں
ملن کے گیت گاتی ہے ازل سے
مری پازیب کی جھنکار تجھ میں
میں ہوں وہ شبد جو معدوم ہوتا
اگر پاتا نہیں اظہار تجھ میں
اضافی ہیں مجھے یہ دین و دنیا
مرے دونوں جہاں دلدار تجھ میں
نینا عادل

اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 152
جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے
اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے
وہ کون ستمگر تھے کہ یاد آنے لگے ہیں
تو کیسا مسیحا ہے کہ بیمار کرے ہے
اب روشنی ہوتی ہے کہ گھر جلتا ہے دیکھیں
شعلہ سا طوافِ در و دیوار کرے ہے
کیا دل کا بھروسہ ہے یہ سنبھلے کہ نہ سنبھلے
کیوں خود کو پریشاں مرا غم خوار کرے ہے
ہے ترکِ تعلق ہی مداوائے غمِ جاں
پر ترکِ تعلق تو بہت خوار کرے ہے
اس شہر میں ہو جنبشِ لب کا کسے یارا
یاں جنبشِ مژگاں بھی گنہگار کرے ہے
تو لاکھ فراز اپنی شکستوں کو چھپائے
یہ چپ تو ترے کرب کا اظہار کرے ہے
احمد فراز

کوئی تو خندہ زن ہے چلو یار ہی سہی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 103
دیوانگی خرابیِ بسیار ہی سہی
کوئی تو خندہ زن ہے چلو یار ہی سہی
رشتہ کوئی تو اس سے تعلق کا چاہیے
جلوہ نہیں تو حسرتِ دیدار ہی سہی
اہلِ وفا کے باب میں اتنی ہوس نہ رکھ
اس قحط زارِ عشق میں دو چار ہی سہی
خوش ہوں کہ ذکرِ یار میں گزرا تمام وقت
ناصح سے بحث ہی سہی تکرار ہی سہی
شامِ اسیری و شبِ غربت تو ہو چکی
اک جاں کی بات ہے تو لبِ دار ہی سہی
ہوتی ہے اب بھی گاہے بگاہے کوئی غزل
ہم زندگی سے بر سرِ پیکار ہی سہی
اک چارہ گر ہے اور ٹھکانے کا ہے فراز
دنیا ہمارے در پۓ آزار ہی سہی
احمد فراز

بسانِ نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 97
بجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھی
بسانِ نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی
بجا کہ چشمِ طلب بھی ہوئی تہی کیسہ
مگر ہے رونقِ بازار اب کہاں تو بھی
ہمیں بھی کارِ جہاں لے گیا ہے دور بہت
رہا ہے در پۓ آزار اب کہاں تو بھی
ہزار صورتیں آنکھوں میں پھرتی رہتی ہیں
مری نگاہ میں ہر بار اب کہاں تو بھی
اُسی کو وعدہ فراموش کیوں کہیں اے دل
رہا ہے صاحبِ کردار اب کہاں تو بھی
مری غزل میں کوئی اور کیسے در آۓ
ستم تو یہ ہے کہ اے یار، اب کہاں تو بھی
جو تجھ سے پیار کرے تیری لغزشوں کے سبب
فراز ایسا گنہگار اب کہاں تو بھی
احمد فراز

کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 53
نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو
کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب
مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو
کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو
یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو
یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو
سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدو تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو
احمد فراز

چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم

احمد فراز ۔ غزل نمبر 42
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم
ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور ترا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اے نگارِ شہر تیرے عشق میں
دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائیں گے ہم
اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قدر آساں نہ ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم
میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق
زعم یہ تھا رومی و عطار بن جائیں گے ہم
دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا
دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم
احمد فراز

نہ تھے اتنے بھی دل آزار قاتل

احمد فراز ۔ غزل نمبر 39
ہوئے جاتے ہیں کیوں غم خوار قاتل
نہ تھے اتنے بھی دل آزار قاتل
مسیحاؤں کو جب آواز دی ہے
پلٹ کر آ گئے ہر بار قاتل
ہمیشہ سے ہلاک اک دوسرے کے
مرا سر اور تری تلوار قاتل
تری آنکھوں کو جاناں کیا ہوا ہے
کبھی دیکھے نہ تھے بیمار قاتل
وہاں کیا داد خواہی کیا گواہی
جہاں ہوں منصفوں کے یار قاتل
فراز اس دشمن جاں سے گلہ کیا
ہمیشہ سے رہے دلدار قاتل
احمد فراز

جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 55
کاوشِ روزگار میں، عمر گزار دی گئی
جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی
لمحۂ تازہ پھر کوئی آنے نہیں دیا گیا
ساعتِ انتظار میں، عمر گزار دی گئی
سوزنِ چشمِ یار سے، شوق رفو گری کا تھا
جامۂ تار تار میں، عمر گزار دی گئی
بامِ خیال پر اُسے دیکھا گیا تھا ایک شب
پھر اُسی رہ گزار میں، عمر گزار دی گئی
کھینچ رہی تھی کوئی شے ہم کو ہر ایک سمت سے
گردشِ بے مدار میں، عمر گزار دی گئی
رکھا گیا کسی سے یوں، ایک نفس کا فاصلہ
سایۂ مشک بار میں، عمر گزار دی گئی
زخمِ امید کا علاج، کوئی نہیں کیا گیا
پرسشِ نوکِ خار میں، عمر گزار دی گئی
دھول نظر میں رہ گئی، اُس کو وداع کر دیا
اور اُسی غبار میں، عمر گزار دی گئی
ساری حقیقتوں سے ہم، صرفِ نظر کیے رہے
خواب کے اعتبار میں، عمر گزار دی گئی
آیا نہیں خیال تک، شوق کے اختتام کا
خواہشِ بے کنار میں، عمر گزار دی گئی
صحبتِ تازہ کار کی، نغمہ گری تھی رایگاں
شورِ سکوتِ یار میں، عمر گزار دی گئی
وہ جو گیا تو ساتھ ہی، وقت بھی کالعدم ہوا
لمحۂ پُر بہار میں، عمر گزار دی گئی
عرفان ستار

بچھڑ گیا تری صُورت، بہار کا موسم

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 41
خیال و خواب ہُوا برگ و بار کا موسم
بچھڑ گیا تری صُورت، بہار کا موسم
کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے ترے انتظار کا موسم
وہ نرم لہجے میں کچھ تو کہے کہ لَوٹ آئے
سماعتوں کی زمیں پر پھوار کا موسم
پیام آیا ہے پھر ایک سروقامت کا
مرے وجود کو کھینچے ہے دار کا موسم
وہ آگ ہے کہ مری پور پور جلتی ہے
مرے بدن کو مِلا ہے چنار کا موسم
رفاقتوں کے نئے خواب خُوشنما ہیں مگر
گُزر چکا ہے ترے اعتبار کا موسم
ہَوا چلی تو نئی بارشیں بھی ساتھ آئیں
زمیں کے چہرے پہ آیا نکھار کا موسم
وہ میرا نام لیے جائے اور میں اُس کا نام
لہو میں گُونج رہا ہے پکار کا موسم
قدم رکھے مری خُوشبو کہ گھر کو لَوٹ آئے
کوئی بتائے مُجھے کوئے یار کا موسم
وہ روز آ کے مجھے اپنا پیار پہنائے
مرا غرور ہے بیلے کے ہار کا موسم
ترے طریقِ محبت پہ با رہا سوچا
یہ جبر تھا کہ ترے اختیار کا موسم
پروین شاکر

اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 70
چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرتِ دیدار میں
اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں
دم نکل جائے گا حسرت نہ دیکھ اے نا خدا
اب مری قسمت پہ کشتی چھوڑ دے منجدھار میں
دیکھ بھی آ بات کہنے کے لئے ہو جائے گی
صرف گنتی کی ہیں سانسیں اب ترے بیمار میں
فصلِ گل میں کس قدر منحوس ہے رونا مرا
میں نے جب نالے کئے بجلی گری گلزار میں
جل گیا میرا نشیمن یہ تو میں نے سن لیا
باغباں تو خیریت سے ہے صبا گلزار میں
قمر جلالوی

اگر گریباں پہ ہاتھ جاتا تمھیں سناتے ہزار باتیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 64
تمھاری رسوائیوں کے ڈر سے نہ کیں جنوں آشکار باتیں
اگر گریباں پہ ہاتھ جاتا تمھیں سناتے ہزار باتیں
مری محبت سے جلنے والے لگاتے ہیں دو چار باتیں
یقین کس کس کا تم کرو گے ہزار منہ ہیں ہزار باتیں
شراب منہ تک رہی ہے تیرا، نہ شیخ کرنا گوار باتیں
کوئی قیامت ابھی رکھی ہے یہ چھوڑ دے میرے یار باتیں
یہ بات دیگر ہے شکوہ ہائے ستم پر تم مسکرا رہے ہو
مگر نگاہیں بتا رہیں ہیں کہ ہو گئیں نا گوار باتیں
قمر شبِ انتظار ہم نے سحرا انھیں وحشتوں میں کر دی
کبھی چراغوں سے چار باتیں کبھی ستاروں سے چار باتیں
قمر جلالوی

پتہ پتہ ہاتھ ملتا رہ گیا گلزار کا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 14
پھونک ڈالا برق نے گھر بلبلِ لاچار کا
پتہ پتہ ہاتھ ملتا رہ گیا گلزار کا
واہ کا کیا کہنا ہے اس پہلے پہل کے وار کا
میں ترے قربان قبضہ چوم لے تلوار کا
بڑھ تو جاؤ خون بھی کرنا کسی لاچار کا
تم تو اتنے بھی نہیں جتنا ہے قد تلوار کا
آگ تھی یا خونِ شہ رگ تھا کسی لاچار کا
عید بھی کل ہو گئی آیا نہ قاصد یار کا
اب بھلا ابھریں گے کیا بحرِ شہادت کے غریق
سر سے اونچا ہو گیا پانی تری تلوار کا
شمع گل، ڈوبے ہوئے تارے، اندھیرا، بے کسی
دیکھ کر چاروں طرف منا ترے بیمار کا
کس قدر بیکار تھی آہِ شبِ فرقت قمر
ہر ستارہ مسکرایا چرخ کنج رفتار کا
قمر جلالوی

ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 75
روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں
فرشِ رہ ہیں جو دل افگار ترے کوچے میں
خاک ہو رونقِ گلزار ترے کوچے میں
سرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں
گرم ہے موت کا بازار ترے کوچے میں
شعر بس اب نہ کہوں گا کہ کوئی پڑھتا تھا
اپنے حالی مرے اشعار ترے کوچے میں
نہ ملا ہم کو کبھی تیری گلی میں آرام
نہ ہوا ہم پہ جز آزار ترے کوچے میں
ملک الموت کے گھر کا تھا ارادہ اپنا
لے گیا شوقِ غلط کار ترے کوچے میں
تو ہے اور غیر کے گھر جلوہ طرازی کی ہوس
ہم ہیں اور حسرتِ دیدار ترے کوچے میں
ہم بھی وارستہ مزاجی کے ہیں اپنی قائل
خلد میں روح، تنِ زار ترے کوچے میں
کیا تجاہل سے یہ کہتا ہے "کہاں رہتے ہو؟”
ترے کوچے میں ستم گار! ترے کوچے میں
شیفتہ ایک نہ آیا تو نہ آیا کیا ہے
روز آ رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
مصطفٰی خان شیفتہ

سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 66
مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم
تا دلِ کینہ ور میں پائیں جگہ
خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
وہ تو سو بار اختیار میں آئے
پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
کب ہوئے خارِ راہِ غیر بھلا
کیوں کھٹکتے ہیں چشمِ یار میں ہم
کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
آمد و رفتِ بار بار میں ہم
نعش پر تو خدا کے واسطے آ
مر گئے تیرے انتظار میں ہم
گر نہیں شیفتہ خیالِ فراق
کیوں تڑپتے ہیں وصلِ یار میں ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

ٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجاب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 37
کیا اٹھ گیا ہے دیدۂ اغیار سے حجاب
ٹپکا پڑے ہے کیوں نگہ یار سے حجاب
لا و نَعَم نہیں جو تمنائے وصل پر
انکار سے حجاب ہے، اقرار سے حجاب
تقلیدِ شکل چاہئے سیرت میں بھی تجھے
کب تک رہے مجھے ترے اطوار سے حجاب
دشنام دیں جو بوسے میں ابرام ہم کریں
طبعِ غیور کو ہے پر اصرار سے حجاب
رندی میں بھی گئی نہ یہ مستوری و صلاح
آتا ہے مجھ کو محرمِ اسرار سے حجاب
وہ طعنہ زن ہے زندگیِ ہجر پر عبث
آتا ہے مجھ کو حسرتِ دیدار سے حجاب
جوشِ نگاہِ دیدۂ حیراں کو کیا کہوں
ظاہر ہے روئے آئینہ رخسار سے حجاب
روز و شبِ وصال مبارک ہو شیفتہ
جورِ فلک کو ہے ستمِ یار سے حجاب
مصطفٰی خان شیفتہ

وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 27
کس نے کہا کہ داغ وفا دار مر گیا
وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا
دام بلائے عشق کی وہ کشمکش رہی
ایک اک پھڑک پھڑک کے گرفتار مر گیا
آنکھیں کھلی ہوئی پس مرگ اس لئے
جانے کوئی کہ طالب دیدار مر گیا
جس سے کیا ہے آپ نے اقرار جی گیا
جس نے سنا ہے آپ سے انکار مر گیا
کس بیکسی سے داغ نے افسوس جان دی
پڑھ کر ترے فراق کے اشعار مر گیا
داغ دہلوی

کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 2
عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا
غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوشگوار ہوتا
یہ مزہ تھا دل لگی کا، کہ برابر ٓاگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا، نہ مجھے قرار ہوتا
یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا
ترے وعدے پر ستمگر، ابھی اور صبر کرتے
مگر اپنی زندگی کا، ہمیں اعتبار ہوتا
یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی
اگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا
گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشمِ مست دیکھی
مجھے کیا الٹ نہ دینے جو نہ بادہ خوار ہوتا
مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
تمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داغ کا دل
یہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا
داغ دہلوی

موج در موج ہیں سو رنگ کے منجدھار یہاں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 38
کشتیِٔ زیست سلامت ہے نہ پتوار یہاں
موج در موج ہیں سو رنگ کے منجدھار یہاں
ہم سفر چھوٹ گئے ، راہنما روٹھ گئے
یوں بھی آسان ہوئی منزلِ دشوار یہاں
تیرگی ٹوٹ پڑی، دور سے بادل گرجا
بجھ گئی سہم کے قندیلِ رخِ یار یہاں
کتنے طوفان اٹھے ، کتنے ستارے ٹوٹے
پھر بھی ڈوبا نہیں اب تک دلِ بیدار یہاں
میرے زخمِ کفِ پا چومنے آئے گی بہار
میں اگر مر بھی گیا وادیِٔ پر خار یہاں
شکیب جلالی

میرے دل سے غبار اٹھتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 211
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
میرے دل سے غبار اٹھتا ہے
میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت
دیکھ لو! بار بار اٹھتا ہے
تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے
اس کی گُل گشت سے روش بہ روش
رنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے
تیرے جاتے ہی اس خرابے سے
شورِ گریہ ہزار اٹھتا ہے
کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں؟
لے ترا جاں نثار اٹھتا ہے
صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزال
دشت سے خاکسار اٹھتا ہے
ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سا
بر سرِ کوہسار اٹھتا ہے
کربِ تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے
تو نے پھر کَسبِ زَر کا ذکر کیا
کہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
لو وہ مجبورِ شہر صحرا سے
آج دیوانہ وار اٹھتا ہے
اپنے ہاں تو زمانے والوں کا
روز ہی اعتبار اٹھتا ہے
جون اٹھتا ہے، یوں کہو، یعنی
میر و غالب کا یار اٹھتا ہے
جون ایلیا

ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 133
نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں
ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں
تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے غم دیئے یہاں
تری یادگار تھی اک خلش تری یادگار بھی اب نہیں
نہ گلے رہے نہ گماں ہے نہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو
وہ نشاط وعدہ ءِ وصل کیا ہمیں اعتبار بھی اب نہیں
رہے نام رشتہ رفتگاں نہ شکایتیں ہیں نہ شوخیاں
کوئی عذر خواہ تو اب کہاں کوئی عذردار بھی اب نہیں
کسے نذر دیں دل و جاں بہم کہ نہیں وہ کاکل خم بہ خم
کسے ہر نفس کا حساب دیں کہ شمیم یار بھی اب نہیں
وہ ہجوم دل زدگاں کہ تھا تجھے مژدہ ہو کہ بکھر گیا
ترے آستانے کی خیرہو، سر رہ غبار بھی اب نہیں
وہ جو اپنی جاں سے گزر گئے انہیں کیا خبر ہے کہ شہر میں
کسی جاں نثار کا ذکر کیا کوئی سوگوار بھی اب نہیں
نہیں اب تو اہل جنوں میں بھی وہ جو شوق شہر میں عام تھا
وہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو سرکوئے یار بھی اب نہیں
جون ایلیا

جب حرف شوخ سے لب گفتار سرخ ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 117
کہنا ہی کیا کہ شوخ کے رخسار سرخ ہیں
جب حرف شوخ سے لب گفتار سرخ ہیں
ناداری نگاہ ہے اور زرد منظری
حسرت یہ رنگ کی ہے جو نادار سرخ ہیں
اب اس متاع رنگ کا اندازہ کیجیے
شوق طلب سے جس کے خریدار سرخ ہیں
ہے بندوبست لطف مغاں، رنگ کھیلیے
میخانہ سرخ ہے مے و میخوار سرخ ہیں
جا بھی فقیہ سبز قدم ، اب یہاں سے جا
میں تیری بات پی گیا پر یار سرخ ہیں
طغیان رنگ دیکھیے اس لالہ رنگ کا
پیش از ورود ، کوچہ و بازار سرخ ہیں
بسمل ہیں جوش مستی حالت میں سینہ کوب
وہ رقص میں ہے اور در و دیوار سرخ ہیں
جون ایلیا

بیقراری قرار ہے اماں ہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 87
جبر پُر اختیار ہے اماں ہاں
بیقراری قرار ہے اماں ہاں
ایزدِ ایزداں ہے تیرا انداز
اہرمن دل فگار ہے اماں ہاں
میرے آغوش میں جو ہے اُس کا
دَم بہ دَم انتظار ہے اماں ہاں
ہے رقیب اُس کا دوسرا عاشق
وہی اِک اپنا یار ہے اماں ہاں
یار زردی ہے رنگ پر اپنے
سو خزاں تو بہار ہے اماں ہاں
لب و پستان و ناف اس کے نہ پوچھ
ایک آشوبِ کار ہے اماں ہاں
سنگ در کے ہوں یا ہوں دار کے لوگ
سب پہ شہوت سوار ہے اماں ہاں
اب تو انساں کے معجزے ہیں عام
اور انسان خوار ہے اماں ہاں
جون ایلیا

یاد تھے یادگار تھے ہم تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 64
آپ اپنا غبار تھے ہم تو
یاد تھے یادگار تھے ہم تو
پردگی! ہم سے کیوں رکھا پردہ
تیرے ہی پردہ دار تھے ہم تو
وقت کی دھوپ میں تمہارے لیے
شجرِ سایہ دار تھے ہم تو
اُڑتے جاتے ہیں دُھول کے مانند
آندھیوں پر سوار تھے ہم تو
ہم نے کیوں خود پہ اعتبار کیا
سخت بے اعتبار تھے ہم تو
شرم ہے اپنی بار باری کی
بے سبب بار بار تھے ہم تو
کیوں ہمیں کر دیا گیا مجبور
خود ہی بے اختیار تھے ہم تو
تم نے کیسے بُلا دیا ہم کو
تم سے ہی مستعار تھے ہم تو
خوش نہ آیا ہمیں جیے جانا
لمحے لمحے پہ بار تھے ہم تو
سہہ بھی لیتے ہمارے طعنوں کو
جانِ من جاں نثار تھے ہم تو
خود کو دورانِ حال میں اپنے
بے طرح ناگوار تھے ہم تو
تم نے ہم کو بھی کر دیا برباد
نادرِ روزگار تھے ہم تو
ہم کو یاروں نے یاد بھی نہ رکھا
جون یاروں کے یار تھے ہم تو
جون ایلیا

سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 11
رنگ ہے رنگ سے تہی، اس کا شمار کیا بھلا
سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا
دائرہ ءِ نگاہ میں تُو کہ ہے میرے رُو برُو
ہے تری رو بروئی، دائرہ وار کیا بھلا
دل کی یہ ہار بھی تو ایک طور ہے زندگی کا یار
یوں بھی ہے دل، خود اپنی ہار، ہار کی ہار کیا بھلا
ہے یہ قرار گاہِ بود، ایک فرارِ صد نمود
اس میں فرار کیا بھلا، اس سے فرار کیا بھلا
یوں تو سو طرح میں خود اپنی پہنچ سے پار ہوں
وہ جو پہنچ کے پار ہے، اس کے ہے پار کیا بھلا
ہے یہ غبار روشنی، نسل و نژاد تیرگی
جیبِ غبار میں بجز، موجِ غبار کیا بھلا
عرصہ ءِ دو نفس کے بیچ، کون تھا میں، میں کون ہوں؟
تو بھی وہی ہے وہ جو تھا، اے مرے یار کیا بھلا؟
کیف بہ کیف، کم بہ کم، دور بدور، دم بدم
حالتِ رم بہ رم یں ہے، قرب و جوار کیا بھلا
جون ایلیا

ازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 268
وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے
ازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے
جوابِ جنٓتِ بزمِ نشاطِ جاناں ہے
مری نگاہ جو خونبار ہوتی آئی ہے
نموۓ جوشِ جنوں وحشیو! مبارک باد
بہار ہدیۂ انظار ہوتی آئی ہے
دل و دماغِ وفا پیشگاں کی خیر نہیں
جگر سے آہِ شرر بار ہوتی آئی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 183
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
یعنی ہمارے@ جیب میں اک تار بھی نہیں
دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکے
دیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں
ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
بے عشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
طاقت بہ قدرِلذّتِ آزار بھی نہیں
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
گنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرف
یاں دل میں ضعف سے ہوسِ یار بھی نہیں
ڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مان
آخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیں
دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے روکشی
حالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں
اس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہا
دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
@ جَیب، جیم پر فتح (زبر) مذکّر ہے، بمعنی گریبان۔ اردو میں جیب، جیم پر کسرہ (زیر) کے ساتھ، بمعنی کیسہ (Pocket) استعمال میں زیادہ ہے، یہ لفظ مؤنث ہےاس باعث اکثر نسخوں میں ’ہماری‘ ہے۔ قدیم املا میں یائے معروف ہی یائے مجہول (بڑی ے)کی جگہ بھی استعمال کی جاتی تھی اس لئے یہ غلط فہمی مزید بڑھ گئی۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 99
ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئینہ، تمثال دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میں
جاں دادۂ ہوائے سرِ رہگزار تھا
موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا
کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر اب
دیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہی جی مارے جس کو پیار کرے

دیوان ششم غزل 1913
عشق کیا کوئی اختیار کرے
وہی جی مارے جس کو پیار کرے
غنچہ ہے سر پہ داغ سودا کا
دیکھیں کب تک یہ گل بہار کرے
آنکھیں پتھرائیں چھاتی پتھر ہے
وہ ہی جانے جو انتظار کرے
سہل وہ آشنا نہیں ہوتا
دیر میں کوئی اس کو یار کرے
کنج میں دامگہ کے ہوں شاید
صید لاغر کو بھی شکار کرے
کبھو سچے بھی ہو کوئی کب تک
جھوٹے وعدوں کو اعتبار کرے
پھول کیا میر جی کو وہ محبوب
سر چڑھاوے گلے کا ہار کرے
میر تقی میر

ایسی طرح روزگار دیکھیے کب تک رہے

دیوان ششم غزل 1910
چرخ پر اپنا مدار دیکھیے کب تک رہے
ایسی طرح روزگار دیکھیے کب تک رہے
سہرے کہاں تک پڑیں آنسوئوں کے چہرے پر
گریہ گلے ہی کا ہار دیکھیے کب تک رہے
ضعف سے آنکھیں مندیں کھل نہ گئیں پھر شتاب
غش یہ ہمیں اب کی بار دیکھیے کب تک رہے
لب پہ مرے آن کر بارہا پھر پھر گئی
جان کو یہ اضطرار دیکھیے کب تک رہے
اس سے تو عہد و قرار کچھ بھی نہیں درمیاں
دل ہے مرا بے قرار دیکھیے کب تک رہے
اس سرے سے اس سرے داغ ہی ہیں صدر میں
ان بھی گلوں کی بہار دیکھیے کب تک رہے
آنکھیں تو پتھرا گئیں تکتے ہوئے اس کی راہ
شام و سحر انتظار دیکھیے کب تک رہے
آنکھ ملاتا نہیں ان دنوں وہ شوخ ٹک
بے مزہ ہے ہم سے یار دیکھیے کب تک رہے
روے سخن سب کا ہے میری غزل کی طرف
شعر ہی میرا شعار دیکھیے کب تک رہے
گیسو و رخسار یار آنکھوں ہی میں پھرتے ہیں
میر یہ لیل و نہار دیکھیے کب تک رہے
میر تقی میر

کہ دیکھا جب تجھے تب جی کو مار مار رہے

دیوان ششم غزل 1883
کہو تو کب تئیں یوں ساتھ تیرے پیار رہے
کہ دیکھا جب تجھے تب جی کو مار مار رہے
ادا و ناز سے دل لے چلا تو ہنس کے کہا
کہ میرے پاس تمھارا بھی یادگار رہے
ہم آپ سے جو گئے ہیں گئے ہیں مدت کے
الٰہی اپنا ہمیں کب تک انتظار رہے
ہوس اسیروں کے ٹک دل کی نکلے کچھ شاید
کوئی دن اور اگر موسم بہار رہے
اٹھا جو باغ سے میں بے دماغ تو نہ پھرا
ہزار مرغ گلستاں مجھے پکار رہے
لیا تو جاوے بھلا نام منھ سے یاری کا
جو ہم ستم زدوں سے یار کچھ بھی یار رہے
وصال ہجر ٹھہر جاوے کچھ نہ کچھ آخر
جو بیقرار مرے دل کو بھی قرار رہے
کریں گے چھاتی کو گلزار ہم جلاکر داغ
جو گل کے سینے میں ایسا ہی خار خار رہے
تکوں ہوں ایک سا میں گرد راہ کو اس کی
نہ کیونکے دونوں مری آنکھوں میں غبار رہے
نہ کریے گریۂ بے اختیار ہرگز میر
جو عشق کرنے میں دل پر کچھ اختیار رہے
میر تقی میر

نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں

دیوان ششم غزل 1852
آنکھ لگی ہے جب سے اس سے آنکھ لگی زنہار نہیں
نیند آتی ہے دل جمعی میں سو تو دل کو قرار نہیں
وصل میں اس کے روز و شب کیا خوب گذرتی تھی اپنی
ہجراں کا کچھ اور سماں ہے اب وہ لیل و نہار نہیں
خالی پڑے ہیں دام کہیں یا صید دشتی صید ہوئے
یا جس صید افگن کے لیے تھے اس کو ذوق شکار نہیں
سبزہ خط کا گرد گل رو بڑھ کانوں کے پار ہوا
دل کی لاگ اب اپنی ہو کیونکر وہ اس منھ پہ بہار نہیں
لطف عمیم اس کا ہی ہمدم کیوں نہ غنیمت جانیں ہم
ربط خاص کسو سے اسے ہو یہ تو طور یار نہیں
عشق میں اس بے چشم و رو کے طرفہ رویت پیدا کی
کس دن اودھر سے اب ہم پر گالی جھڑکی مار نہیں
مشتاق اس کے راہ گذر پر برسوں کیوں نہ بیٹھیں میر
ان نے راہ اب اور نکالی ایدھر اس کا گذار نہیں
میر تقی میر

بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم

دیوان ششم غزل 1839
کڑھتے جو رہے ہجر میں بیمار ہوئے ہم
بستر پہ گرے رہتے ہیں ناچار ہوئے ہم
بہلانے کو دل باغ میں آئے تھے سو بلبل
چلانے لگی ایسے کہ بیزار ہوئے ہم
جلتے ہیں کھڑے دھوپ میں جب جاتے ہیں اودھر
عاشق نہ ہوئے اس کے گنہگار ہوئے ہم
اک عمر دعا کرتے رہے یار کو دن رات
دشنام کے اب اس کے سزاوار ہوئے ہم
ہم دام بہت وحشی طبیعت تھے اٹھے سب
تھی چوٹ جو دل پر سو گرفتار ہوئے ہم
چیتے ہوئے لوگوں کی بھلی یا بری گذری
افسوس بہت دیر خبردار ہوئے ہم
کیا کیا متمول گئے بک دیکھتے جس پر
بیعانگی میں اس کے خریدار ہوئے ہم
کچھ پاس نہیں یاری کا ان خوش پسروں کو
اس دشمن جانہا سے عبث یار ہوئے ہم
گھٹ گھٹ کے جہاں میں رہے جب میر سے مرتے
تب یاں کے کچھ اک واقف اسرار ہوئے ہم
میر تقی میر

بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب

دیوان ششم غزل 1814
اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب
بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب
لگ نہیں پڑتے ہیں لے کر ہاتھ میں شمشیر تیز
بے کسوں کے قتل میں اتنا نہیں اصرار خوب
آخر ان خوباں نے عاشق جان کر مارا مجھے
چاہ کا اپنی نہ کرنا ان سے تھا اظہار خوب
آج کل سے مجھ کو بیتابی و بدحالی ہے کیا
مجھ مریض عشق کے کب سے نہ تھے آثار خوب
کیا کریمی اس کی کہیے جنت دربستہ دی
ورنہ مفلس غم زدوں کے کچھ نہ تھے کردار خوب
مخترع جور و ستم میں بھی ہوا وہ نوجواں
ظلم تب کرتا ہے جب ہو کوئی منت دار خوب
دہر میں پستی بلندی برسوں تک دیکھی ہے میں
جب لٹا پامالی سے میں تب ہوا ہموار خوب
کیا کسو سے آشنائی کی رکھے کوئی امید
کم پہنچتا ہے بہم دنیا میں یارو یار خوب
کہتے تھے افعی کے سے اے میر مت کھا پیچ و تاب
آخر اس کوچے میں جا کھائی نہ تو نے مار خوب
میر تقی میر

اک دو دن ہی میں وہ زار و زبوں خوار ہوا

دیوان ششم غزل 1805
جس ستم دیدہ کو اس عشق کا آزار ہوا
اک دو دن ہی میں وہ زار و زبوں خوار ہوا
روز بازار میں عالم کے عجب شے ہے حسن
بک گیا آپ ہی جو اس کا خریدار ہوا
دھوپ میں آگے کھڑا اس کے جلا کرتا ہوں
چاہ کر اس کے تئیں میں تو گنہگار ہوا
ہوش کچھ جن کے سروں میں تھا شتابی چیتے
حیف صد حیف کہ میں دیر خبردار ہوا
ہو بخود تو کسو کو ڈھونڈ نکالے کوئی
وہی خود گم ہوا جو اس کا طلبگار ہوا
مرغ دل کی ہے رہائی سے مرا دل اب جمع
پرشکن بالوں میں وہ اس کے گرفتار ہوا
پیار کی دیکھی جو چتون کسو کی میں جانا
کہ یہ اب سادہ و پرکار مرا یار ہوا
تکیہ اس پر جو کیا تھا سو گرا بستر پر
یعنی میں شوق کے افراط سے بیمار ہوا
کیونکے سب عمر صعوبت میں کٹی تیری میر
اپنا جینا تو کوئی دن ہمیں دشوار ہوا
میر تقی میر

اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا

دیوان ششم غزل 1804
دل جو ناگاہ بے قرار ہوا
اس سے کیا جانوں کیا قرار ہوا
شب کا پہنا جو دن تلک ہے مگر
ہار اس کے گلے کا ہار ہوا
گرد سر اس کے جو پھرا میں بہت
رفتہ رفتہ مجھے دوار ہوا
بستر خواب سے جو اس کے اٹھا
گل تر سوکھ سوکھ خار ہوا
مجھ سے لینے لگے ہیں عبرت لوگ
عاشقی میں یہ اعتبار ہوا
روز و شب روتے کڑھتے گذرے ہے
اب یہی اپنا روزگار ہوا
روؤں کیا اپنی سادگی کو میر
میں نے جانا کہ مجھ سے یار ہوا
میر تقی میر

تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا

دیوان ششم غزل 1798
جو تو ہی صنم ہم سے بیزار ہو گا
تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا
غم ہجر رکھے گا بیتاب دل کو
ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہو گا
جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشق
کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہو گا
اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی
کبھو تو تہ دل سے بھی یار ہو گا
تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جانا
کہ اس سنگدل سے ہمیں پیار ہو گا
لگا کرنے ہجران سختی سی سختی
خدا جانے کیا آخر کار ہو گا
یہی ہو گا کیا ہو گا میر ہی نہ ہوں گے
جو تو ہو گا بے یار و غم خوار ہو گا
میر تقی میر

عشق بھی اس کا ہے نام اک پیار کا

دیوان ششم غزل 1797
میں ہوں خاک افتادہ جس آزار کا
عشق بھی اس کا ہے نام اک پیار کا
بیچتا سرکیوں نہ گلیوں میں پھروں
میں ہوں خواہاں لطف تہ بازار کا
خون کرکے ٹک نہ دل ان نے لیا
کشتہ و مردہ ہوں اس اصرار کا
گھر سے وہ معمار کا جو اٹھ گیا
حال ابتر ہو گیا گھر بار کا
نقل اس کی بے وفائی کی ہے اصل
کب وفاداری ہے شیوہ یار کا
سر جو دے دے مارتے گھر میں پھرے
رنگ دیگر ہے در و دیوار کا
اک گداے در ہے سیلاب بہار
غم کشوں کے دیدۂ خونبار کا
دلبراں دل جنس ہے گنجائشی
اس میں کچھ نقصاں نہیں سرکار کا
عشق کا مارا ہے کیا پنپے گا میر
حال ہے بدحال اس بیمار کا
میر تقی میر

دل کلیجے کے پار ہوتا ہے

دیوان پنجم غزل 1771
نالہ جب گرم کار ہوتا ہے
دل کلیجے کے پار ہوتا ہے
مار رہتا ہے اس کو آخرکار
عشق کو جس سے پیار ہوتا ہے
سب مزے درکنار عالم کے
یار جب ہم کنار ہوتا ہے
دام گہ کا ہے اس کے عالم اور
ایک عالم شکار ہوتا ہے
بے قراری ہو کیوں نہ چاہت میں
ہم دگر کچھ قرار ہوتا ہے
جبر ہے قہر ہے قیامت ہے
دل جو بے اختیار ہوتا ہے
راہ تکتے ہی بیٹھیں ہیں آنکھیں
اس کا جب انتظار ہوتا ہے
شاخ گل لچکے ہے تو جانوں ہوں
جلوہ گر یوں ہی یار ہوتا ہے
کس کو پوچھے ہے کوئی دنیا میں
دیر یاں اعتبار ہوتا ہے
آہ کس جاے بار کھولا میر
یاں تو جینا بھی بار ہوتا ہے
میر تقی میر

یک جرعہ ہمدم اور پلا پھر بہار دیکھ

دیوان پنجم غزل 1722
گل گل شگفتہ مے سے ہوا ہے نگار دیکھ
یک جرعہ ہمدم اور پلا پھر بہار دیکھ
اب وہ نہیں کرم کہ بھرن پڑنے لگ گئی
جوں ابر آگے لوگوں کے دامن پسار دیکھ
آنکھوں کو تیری عین کیا سب نے دیدنی
تو سب سے ٹک تو پھیر لے آنکھوں کو یار دیکھ
محتاج گل نہیں ہے گریبان غم کشاں
گلزار اشک خونیں سے جیب و کنار دیکھ
آنکھیں ادھر سے موند لیں ہیں اب تو شرط ہے
پھر دیکھیو نہ میری طرف ایک بار دیکھ
خالی پڑا ہے خانۂ دولت وزیر کا
باور نہیں تو آصف آصف پکار دیکھ
خواہش نہ ہووے دل کی جو حاصل تو موت ہے
احوال میر دیکھ نہیں جی تو مار دیکھ
میر تقی میر

جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1718
ہائے ستم ناچار معیشت کرنی پڑی ہر خار کے ساتھ
جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ
کس آوارئہ عشق و جنوں کی اک مٹھی اب خاک اڑی
اڑتی پھرے ہے پس محمل جو راہ کے گرد و غبار کے ساتھ
وہ لحظہ نہیں جاتا جی سے آنکھ لڑی تھی جب اس سے
چاہ نکلتی تھی باتوں سے چتون بھی تھی پیار کے ساتھ
جی مارے شب مہ میں ہمارے قہر کیا مشاطہ نے
بل کھائے بالوں کو دیے بل اس کے گلے کے ہار کے ساتھ
کیا دن تھے جو ہم کو تنہا کہیں کہیں مل جاتا تھا
اب تو لگے ہی رہتے ہیں اغیار ہمارے یار کے ساتھ
ہم ہیں مریض عشق و جنوں سختی سے دل کو مت توڑو
نرم کرے ہیں حرف و حکایت اہل خرد بیمار کے ساتھ
دیدئہ تر سے چشمۂ جوشاں ہیں جو قریب اپنے واقع
تو ہی رود چلے جاتے ہیں لگ کر جیب و کنار کے ساتھ
دیر سے ہیں بیمار محبت ہم سے قطع امید کرو
جانیں ہی جاتی دیکھی ہیں ہم نے آخر اس آزار کے ساتھ
رونے سے سب سر بر آئے خاک ہمارے سر پر میر
مدت میں ہم ٹک لگ بیٹھے تھے اس کی دیوار کے ساتھ
میر تقی میر

کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں

دیوان پنجم غزل 1695
آنکھیں سفید دل بھی جلا انتظار میں
کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں
دنیا میں ایک دو نہیں کرتا کوئی مقام
جو ہے رواروی ہی میں ہے اس دیار میں
دیکھی تھیں ایک روز تری مست انکھڑیاں
انگڑائیاں ہی لیتے ہیں اب تک خمار میں
اخگر تھا دل نہ تھا مرا جس سے تہ زمیں
لگ لگ اٹھی ہے آگ کفن کو مزار میں
بے دم ہیں دام گاہ میں اک دم تو چل کے دیکھ
سنتے ہیں دم نہیں کسی تیرے شکار میں
محمل کے تیرے گرد ہیں محمل کئی ہزار
ناقہ ہے ایک لیلیٰ کا سو کس قطار میں
شور اب چمن میں میری غزل خوانی کا ہے میر
اک عندلیب کیا ہے کہوں میں ہزار میں
میر تقی میر

کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ

دیوان پنجم غزل 1667
رہتے ہیں اس سے لاگ پہ ہم بے قرار الگ
کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ
تھا گرد بوے گل سے بھی دامن ہوا کا پاک
کیا اب کے اس چمن سے گئی ہے بہار الگ
پاس اس کا بعد مرگ ہے آداب عشق سے
بیٹھا ہے میری خاک سے اٹھ کر غبار الگ
ناگاہ اس نگاہ سے میں بھی ہوا نہاں
جاتا ہے جوں نکل کے کسو کا شکار الگ
خونباری سے نہیں پڑی لوہو کی چھینٹ بھی
اب تک تو بارے اپنے ہیں جیب و کنار الگ
تا جانیں لوگ کشتۂ ہجراں ہیں یہ غریب
کریو تمام گوروں سے میری مزار الگ
بچتے نہیں ہیں بوزدگی سے گلوں کی میر
گو طائران خستہ جگر ہوں ہزار الگ
میر تقی میر

دیکھو کنکھیوں ہی سے گنہگار کی طرف

دیوان پنجم غزل 1653
کیا نیچی آنکھوں دیکھو ہو تلوار کی طرف
دیکھو کنکھیوں ہی سے گنہگار کی طرف
آوارگی کے محو ہیں ہم خانماں خراب
مطلق نہیں نظر ہمیں گھر بار کی طرف
مانا ہے قبلہ کعبہ خدا فرط شوق سے
جاتے ہیں سر رگڑتے ہوئے یار کی طرف
شاید متاع حسن کھلی ہے کسو کی آج
ہنگامہ حشر کا سا ہے بازار کی طرف
عاشق کی اور نازکناں جاوے ہے کبھو
جیسے طبیب جاوے ہے بیمار کی طرف
ہرگز طرف نہ ہوسکے رخسار یار کے
پھیکی ہے اس کے سامنے گلزار کی طرف
کچھ گل صبا کا لاگو نہیں اس چمن میں میر
کرتے ہیں سب ہی اپنے طرفدار کی طرف
میر تقی میر

گل کو دیکھا بھی نہ ہزار افسوس

دیوان پنجم غزل 1632
آنکھ کھلتے گئی بہار افسوس
گل کو دیکھا بھی نہ ہزار افسوس
جس کی خاطر ہوئے کنارہ گزیں
نہ ہوئے اس سے ہم کنار افسوس
نہ معرف نہ آشنا کوئی
ہم ہیں بے یار و بے دیار افسوس
بے قراری نے یوں ہی جی مارا
اس سے نے عہد نے قرار افسوس
خوں ہوئی دل ہی میں امید وصال
مر رہے جی کو مار مار افسوس
چارۂ اشتیاق کچھ نہ ہوا
وہ نہ ہم سے ہوا دوچار افسوس
اک ہی گردش میں اس کی آنکھوں کی
پھر گیا ہم سے روزگار افسوس
گور اپنی رہی گذرگہ میں
نہ ہوا یار کا گذار افسوس
منتظر ہی ہم اس کے میر گئے
یاں تک آیا کبھو نہ یار افسوس
میر تقی میر

دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز

دیوان پنجم غزل 1627
کب سے قیدی ہیں پہ ہے نالش بسیار ہنوز
دل بہاران چمن کا ہے گرفتار ہنوز
وہ مہ چاردہ اس شہر سے کب کا نکلا
ہر گلی جھانکتے پھرتے ہیں طلبگار ہنوز
بالا بالا ہی بہت عشق میں مارے گئے یار
وہ تہ دل سے کسو کا نہ ہوا یار ہنوز
سال میں ابر بہاری کہیں آ کر برسا
لوہو برسا رہے ہیں دیدۂ خونبار ہنوز
اب کے بالیدن گلہا تھا بہت دیکھو نہ میر
ہمسر لالہ ہے خار سر دیوار ہنوز
میر تقی میر

اب ان نے سج بنائی ہے خونخوار بے طرح

دیوان پنجم غزل 1597
گھر سے لیے نکلتا ہے تلوار بے طرح
اب ان نے سج بنائی ہے خونخوار بے طرح
جی بچنے کی طرح نظر آتی نہیں کوئی
کرتا ہے میرے خون پہ اصرار بے طرح
چہرہ تو ان نے اپنا بنایا ہے خوب لیک
بگڑا پھرے ہے اب وہ طرحدار بے طرح
کس طرح جائے پکڑی زباں اس کی خشم میں
کہتا ہے بیٹھا متصل اب یار بے طرح
لوہو میں ڈوبے دیکھیو دامان و جیب میر
بپھرا ہے آج دیدئہ خونبار بے طرح
میر تقی میر

شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1595
اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ
شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ
رحم کرے وہ ذرا ذرا تو دیکھنے آوے دم بھر یاں
اب تو دم بھی باقی نہیں ہے اس کے کسو بیمار کے بیچ
چین نہ دے گا خاک کے نیچے ہرگز عشق کے ماروں کو
دل تو ساتھ اے کاش نہ گاڑیں ان لوگوں کے مزار کے بیچ
چشم شوخ سے اس کی یارو کیا نسبت ہے غزالوں کو
دیکھتے ہیں ہم بڑا تفاوت شہری اور گنوار کے بیچ
کون شکار رم خوردہ سے جاکے کہے ٹک پھر کر دیکھ
کوئی سوار ہے تیرے پیچھے گرد و خاک و غبار کے بیچ
رونے سے جو رود بہا تو اس کا کیا ہے یارو عجب
جذب ہوئے ہیں کیا کیا دریا اپنے جیب و کنار کے بیچ
چشمک غمزہ عشوہ کرشمہ آن انداز و ناز و ادا
حسن سواے حسن ظاہر میر بہت ہیں یار کے بیچ
میر تقی میر

دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج

دیوان پنجم غزل 1590
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج
دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج
برافروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں
پی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج
اس کا بحرحسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے
شوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر
رات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
گھر آئے ہو فقیروں کے تو آئو بیٹھو لطف کرو
کیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج
کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے
کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج
مت چوکو اس جنس گراں کو دل کی وہیں لے جائو تم
ہندستان میں ہندوبچوں کی بہت بڑی سرکار ہے آج
خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا
ان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محوجلوئہ یار ہے آج
جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا
یعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں
شاید میر جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج
میر تقی میر

زرد و زار و زبوں جو ہم ہیں چاہت کے بیمار ہیں سب

دیوان پنجم غزل 1578
سادے جتنے نظر آتے ہیں دیکھو تو عیار ہیں سب
زرد و زار و زبوں جو ہم ہیں چاہت کے بیمار ہیں سب
سیل سے ہلکے عاشق ہوں تو جوش و خروش بھریں آویں
تہ پائی نہیں جاتی ان کی دریا سے تہ دار ہیں سب
ایک پریشاں طرفہ جماعت دیکھی چاہنے والوں کی
جینے کے خواہان نہیں ہیں مرنے کو تیار ہیں سب
کیا کیا خواہش بے کس بے بس مشتاق اس سے رکھتے ہیں
لیکن دیکھ کے رہ جاتے ہیں چپکے سے ناچار ہیں سب
عشق جنھوں کا پیشہ ہووے سینکڑوں ہوں تو ایک ہی ہیں
کوہکن و مجنوں و وامق میر ہمارے یار ہیں سب
میر تقی میر

دل وہی بے قرار ہے تا حال

دیوان چہارم غزل 1428
حال تو حال زار ہے تا حال
دل وہی بے قرار ہے تا حال
بڑھتی ہے حال کی خرابی روز
گرچہ کچھ روزگار ہے تا حال
خستہ جانی نے ننگ خلق کیا
پر اسے مجھ سے عار ہے تا حال
حال فکر سخن میں کچھ نہ رہا
شعر میرا شعار ہے تا حال
حال مستی جوانی تھی سو گئی
میر اس کا خمار ہے تا حال
آنکھیں بدحالی سے ٹھہرتیں نہیں
شوق دیدار یار ہے تا حال
غم سے حالانکہ خون دل سوکھا
چشم تر اشکبار ہے تا حال
میر تقی میر

سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک

دیوان چہارم غزل 1420
وحشت ہے ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
مرتے ہی سنا ان کو جنھیں دل لگی کچھ تھی
اچھا بھی ہوا کوئی اس آزار سے اب تک
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں
سوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
آیا تھا کبھو یار سو مامول ہم اس کے
بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
بدعہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا
وعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم
کرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
کچھ رنج دلی میر جوانی میں کھنچا تھا
زردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک
میر تقی میر

بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے ناخوش

دیوان چہارم غزل 1405
رہتے ہیں بہت دل کے ہم آزار سے ناخوش
بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے ناخوش
جانا جو مقرر ہے مرا دار فنا سے
اس بستی کے میں ہوں در و دیوار سے ناخوش
ہمواری سے ہیں نرم و خشن ایک سے دونوں
خوش ہیں نہ گل تر سے نہ ہم خار سے ناخوش
سررشتۂ دل بند نہیں زلف و کمر میں
کیا جانیے ہم کس لیے ہیں یار سے ناخوش
ہے عشق میں صحبت مری خوباں کی عجب کچھ
اقرار سے بیزار ہیں انکار سے ناخوش
خوش رہتے ہیں احباب بہم ربط کیے سے
رہتے ہو تمھیں ایک مرے پیار سے ناخوش
اک بات کا بھی لوگوں میں پھپّٹ اسے کرنا
ہم ہیں گے بہت میر کے بستار سے ناخوش
میر تقی میر

کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش

دیوان چہارم غزل 1404
اس کا خیال آوے ہے عیار کی روش
کچھ اس کی ہم نے پائی نہ رفتار کی روش
کیا چال ہے گی زہر بھری روزگار کی
سب اس گزندے کی ہے سیہ مار کی روش
وہ رفت و خیز گرم تو مدت سے ہوچکی
رہتے ہیں اب گرے پڑے بیمار کی روش
جاتے ہیں رنگ و بوے گل و آب جو چلے
آئی نہ خوش ہمیں تو یہ گلزار کی روش
مائل ہوا ہے سرو گلستاں کا دل بہت
کچھ آگئی تھی اس میں قد یار کی روش
زندان میں جہاں کے بہت ہیں خراب حال
کرتے ہیں ہم معاش گنہگار کی روش
یوں سر بکھیرے عشق میں پھرتے نہیں ہیں میر
اظہار بھی کریں ہیں تو اظہار کی روش
میر تقی میر

گویا کہ جا رہا کسو سوزندہ نار پاس

دیوان چہارم غزل 1401
کل ہاتھ جا رہا تھا دل بے قرار پاس
گویا کہ جا رہا کسو سوزندہ نار پاس
کس جد و کد سے حیف ہے مجھ کو کیا شکار
ٹھہرا نہ پھر وہ صیدفگن اس شکار پاس
اس گل بغیر پہروں ہیں بلبل سے نالہ کش
کرتے ہیں اپنی اور سے تو ہم ہزار پاس
خوشحال وے جو حال کہیں دلبروں سے دیر
رویا نہ میں تو ایک گھڑی اپنے یار پاس
دوری میں جس کی مر گئے رک رک کے میر ہم
نکلا نہ وہ سو ہو کے ہمارے مزار پاس
میر تقی میر

نہ گیا دل سے روے یار ہنوز

دیوان چہارم غزل 1396
گرچہ آتے ہیں گل ہزار ہنوز
نہ گیا دل سے روے یار ہنوز
بے قراری میں ساری عمر گئی
دل کو آتا نہیں قرار ہنوز
خاک مجنوں جہاں ہے صحرا میں
واں سے اٹھتا ہے اک غبار ہنوز
کب سے ہے وہ خلاف وعدہ ولے
دل کو اس کا ہے اعتبار ہنوز
قیس و فرہاد پر نہیں موقوف
عشق لاتا ہے مردکار ہنوز
برسوں گذرے ہیں اس سے ملتے ولے
صحبت اس سے نہیں برآر ہنوز
عشق کرتے ہوئے تھے بے خود میر
اپنا ان کو ہے انتظار ہنوز
میر تقی میر

اچھا بھی ہووے دل کا بیمار گاہ باشد

دیوان چہارم غزل 1380
جاوے جدائی کا یہ آزار گاہ باشد
اچھا بھی ہووے دل کا بیمار گاہ باشد
امیدوار اس کے ملنے کے جیسے ہیں ہم
آ نکلے ناز کرتا یاں یار گاہ باشد
گو قدر دل کی کم ہے پر چیز کام کی ہے
لے تو رکھیں تمھیں ہو درکار گاہ باشد
کہتا ہوں سو کرے ہے لیکن رہوں ہوں ڈرتا
آوے کسو سخن پر تکرار گاہ باشد
کہتے تو ہیں گئے سو کب آئے کیا کریں تب
جو خواب مرگ سے ہوں بیدار گاہ باشد
غصے سے اپنے ابرو جو خم کرے ہے ہر دم
وہ اک لگا بھی بیٹھے تلوار گاہ باشد
غیرت سے عشق کی ڈر کیا شیخ کبر دینی
تسبیح کا ہو رشتہ زنار گاہ باشد
وحشت پہ میری مت جا غیرت بہت ہے مجھ کو
ہو بیٹھوں مرنے کو بھی تیار گاہ باشد
ہے ضبط عشق مشکل ہوتا نہیں کسو سے
ڈر میر بھی ہو اس کا اظہار گاہ باشد
میر تقی میر

دل ہمارا ہے بے قرار عبث

دیوان چہارم غزل 1367
عہد اس کا غلط قرار عبث
دل ہمارا ہے بے قرار عبث
ہم گلا کاٹتے ہی تھے اپنا
تو گلے کا ہوا ہے ہار عبث
لوہو رونے نے سب نچوڑ لیا
اب پیے خون روزگار عبث
آہ وہ کس قدر ہے مستغنی
لوگ اس کے ہوئے شکار عبث
ہم تو آگے ہی مر رہے ہیں میر
تیغ کھینچے پھرے ہے یار عبث
میر تقی میر

کہنے لگا چپکا سا ہوکر ہائے دریغ شکار اپنا

دیوان چہارم غزل 1317
میں جو نظر سے اس کی گیا تو وہ سرگرم کار اپنا
کہنے لگا چپکا سا ہوکر ہائے دریغ شکار اپنا
کیا یاری کر دور پھرا وہ کیا کیا ان نے فریب کیے
جس کے لیے آوارہ ہوئے ہم چھوٹا شہر و دیار اپنا
ہاتھ گلے میں ان نے نہ ڈالا میں یہ گلا جا کاٹوں گا
غم غصے سے دیکھیو ہوں گا آپھی گلے کا ہار اپنا
چھاتی پہ سانپ سا پھر جاتا ہے یاد میں اس کے بالوں کی
جی میں لہر آوے ہے لیکن رہتا ہوں من مار اپنا
بات کہی تلوار نکالی آنکھ لڑائی جی مارے
کیونکے جتاوے اس سے کوئی ربط محبت پیار اپنا
ہم نے یار وفاداری میں کوتاہی تقصیر نہ کی
کیا روویں چاہت کے اثر کو وہ نہ ہوا ٹک یار اپنا
رحم کیا کر لطف کیا کر پوچھ لیا کر آخر ہے
میر اپنا غم خوار اپنا پھر زار اپنا بیمار اپنا
میر تقی میر

کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے

دیوان سوم غزل 1305
خدا کرے مرے دل کو ٹک اک قرار آوے
کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے
کمانیں اس کی بھووں کی چڑھی ہی رہتی ہیں
نہ جب تلک سرتیرستم شکار آوے
ہمیں تو ایک گھڑی گل بغیر دوبھر ہے
خدا ہی جانے کہ اب کب تلک بہار آوے
اٹھی بھی گرد رہ اس کی کہیں تو لطف ہے کیا
جب انتظار میں آنکھوں ہی پر غبار آوے
ہر ایک شے کا ہے موسم نہ جانے تھا منصور
کہ نخل دار میں حلق بریدہ بار آوے
تمھارے جوروں سے اب حال جاے عبرت ہے
کسو سے کہیے تو اس کو نہ اعتبار آوے
نہیں ہے چاہ بھلی اتنی بھی دعا کر میر
کہ اب جو دیکھوں اسے میں بہت نہ پیار آوے
میر تقی میر

دور سے دیکھ لیا اس کو تو جی مار رہے

دیوان سوم غزل 1258
برسوں گذرے ہیں ملے کب تئیں یوں پیار رہے
دور سے دیکھ لیا اس کو تو جی مار رہے
وہ مودت کہ جو قلبی ہو اسے سو معلوم
چار دن کہنے کو اس شوخ سے ہم یار رہے
مرگ کے حال جدائی میں جئیں یوں کب تک
جان بیتاب رہے دل کو اک آزار رہے
وجہ یہ تھی کہ ترے ساتھ لڑی آنکھ اس کی
ہم جو صورت سے تھے آئینے کی بیزار رہے
دین و دنیا کا زیاں کار کہو ہم کو میر
دو جہاں داونخستیں ہی میں ہم ہار رہے
میر تقی میر

خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو

دیوان سوم غزل 1221
دوست رکھتا ہوں بہت اپنے دل بیمار کو
خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو
جز عزیز از جاں نہیں یوسف کو لکھتا یہ کبھو
کیا غرور میرزائی ہے ہمارے یار کو
جب کبھو ایدھر سے نکلے ہے تو اک حسرت کے ساتھ
دیکھے ہے خورشید اس کے سایۂ دیوار کو
بوجھ تو اچھا تھا پر آخر گرو رکھتے ہوئے
وجہ جام مے نہ پایا خرقہ و دستار کو
خوں چکاں شکوے ہیں دل سے تا زباں میری ولے
سی لیا ہے تو کہے میں نے لب اظہار کو
تصفیے سے دل میں میرے منھ نظر آتا ہے لیک
کیا کروں آئینہ ساں میں حسرت دیدار کو
عاشقی وہ روگ ہے جس میں کہ ہوجاتی ہے یاس
اچھے ہوتے کم سنا ہے میر اس آزار کو
میر تقی میر

دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں

دیوان سوم غزل 1204
دور اس سے جی چکے ہیں ہم اس روزگار میں
دن آج کا بھی سانجھ ہوا انتظار میں
داغوں سے بھر گیا ہے مرا سینۂ فگار
گل پھول زور زور کھلے اس بہار میں
کیا اعتبار طائر دل کی تڑپ کا اب
مذبوحی سی ہے کچھ حرکت اس شکار میں
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی تم بگڑ گئے
بہتیری باتیں ہوتی ہیں اخلاص پیار میں
دل پھر کے ہم سے خانۂ زنجیر کے قریب
ٹک پہنچتا ہی ہے شکن زلف یار میں
اس بحرحسن پاس نہ خنجر تھا کل نہ تیغ
میں جان دی ہے حسرت بوس و کنار میں
چلتا ہے ٹک تو دیکھ کے چل پائوں ہر نفس
آنکھیں ہی بچھ گئی ہیں ترے رہگذار میں
کس کس ادا سے ریختے میں نے کہے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زبان اس دیار میں
تڑپے ہے متصل وہ کہاں ایسے روز و شب
ہے فرق میر برق و دل بے قرار میں
میر تقی میر

سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں

دیوان سوم غزل 1194
تھا شوق مجھے طالب دیدار ہوا میں
سو آئینہ سا صورت دیوار ہوا میں
جب دور گیا قافلہ تب چشم ہوئی باز
کیا پوچھتے ہو دیر خبردار ہوا میں
اب پست و بلند ایک ہے جوں نقش قدم یاں
پامال ہوا خوب تو ہموار ہوا میں
کب ناز سے شمشیر ستم ان نے نہ کھینچی
کب ذوق سے مرنے کو نہ تیار ہوا میں
بازار وفا میں سرسودا تھا سبھوں کو
پر بیچ کے جی ایک خریدار ہوا میں
ہشیار تھے سب دام میں آئے نہ ہم آواز
تھی رفتگی سی مجھ کو گرفتار ہوا میں
کیا چیتنے کا فائدہ جو شیب میں چیتا
سونے کا سماں آیا تو بیدار ہوا میں
تم اپنی کہو عشق میں کیا پوچھو ہو میری
عزت گئی رسوائی ہوئی خوار ہوا میں
اس نرگس مستانہ کو دیکھے ہوئے برسوں
افراط سے اندوہ کی بیمار ہوا میں
رہتا ہوں سدا مرنے کے نزدیک ہی اب میر
اس جان کے دشمن سے بھلا یار ہوا میں
میر تقی میر

اک مشت استخواں ہیں پر اپنے بار ہیں ہم

دیوان سوم غزل 1172
بیماری دلی سے زار و نزار ہیں ہم
اک مشت استخواں ہیں پر اپنے بار ہیں ہم
مارا تڑپتے چھوڑا فتراک سے نہ باندھا
بے چشم و رو کسو کے شاید شکار ہیں ہم
ہر دم جبیں خراشی ہر آن سینہ کاوی
حیران عشق تو ہیں پر گرم کار ہیں ہم
حور و قصور و غلماں نہر و نعیم وجنت
یہ کلہم جہنم مشتاق یار ہیں ہم
بے حد و حصر گردش اپنی ہے عاشقی میں
رسواے شہر و دیہ، و دشت و دیار ہیں ہم
اب سیل سیل آنسو آتے ہیں چشم تر سے
دیوار و در سے کہہ دو بے اختیار ہیں ہم
روتے ہیں یوں کہ جیسے شدت سے ابر برسے
کیا جانیے کہ کیسے دل کے بخار ہیں ہم
اب تو گلے بندھا ہے زنجیر و طوق ہونا
عشق و جنوں کے اپنے ناموس دار ہیں ہم
لیتا ہے میر عبرت جو کوئی دیکھتا ہے
کیا یار کی گلی میں بے اعتبار ہیں ہم
میر تقی میر

چشم پرخوں فگار کے سے رنگ

دیوان سوم غزل 1162
چاک دل ہے انار کے سے رنگ
چشم پرخوں فگار کے سے رنگ
کام میں ہے ہواے گل کی موج
تیغ خوں ریز یار کے سے رنگ
تاب ہی میں رہے ہے اس کی زلف
افعی پیچ دار کے سے رنگ
کیا جو افسردگی کے ساتھ کھلا
دل گل بے بہار کے سے رنگ
برق ابر بہار نے بھی لیے
اب دل بے قرار کے سے رنگ
کنج نخچیرگہ میں ہیں مامون
ہم بھی لاغر شکار کے سے رنگ
عمر کا بھی سرنگ جاتا ہے
ابلق روزگار کے سے رنگ
برگ گل میں نہ دل کشی ہو گی
کف پاے نگار کے سے رنگ
اس بیاباں میں میر محو ہوئے
ناتواں اک غبار کے سے رنگ
میر تقی میر

ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست

دیوان سوم غزل 1114
مانند مرغ دوست نہ کہہ بار بار دوست
ٹک سوچ بھی ہزار ہیں دشمن ہزار دوست
کھڑکے ہے پات بھی تو لگا بیٹھتا ہے چوٹ
رم خوردہ وہ غزال بہت ہے شکار دوست
سب کو ہے رشک مجھ میں جو تجھ میں ہے اختلاط
دشمن ہوئے ہیں دوستی سے تیری یار دوست
تجھ سے ہزار ان نے بنا کر دیے بگاڑ
مت جان سادگی سے کہ ہے روزگار دوست
یہ تو کچھ آگے دشمن جانی سے بھی چلا
میں جانتا تھا ہو گا دل بے قرار دوست
بیگانگی خلق جہاں جاے خوف ہے
سو دشمنوں میں کیا ہے جو نکلے بھی چار دوست
مجھ بے نوا کی یاد رہے میر یہ صدا
اس میکدے میں رہیو بہت ہوشیار دوست
میر تقی میر

حال رکھا تھا کچھ بھی ہم نے عشق نے آخر مار رکھا

دیوان سوم غزل 1089
زار رکھا بے حال رکھا بے تاب رکھا بیمار رکھا
حال رکھا تھا کچھ بھی ہم نے عشق نے آخر مار رکھا
میلان اس کا تھا کاہے کو جانب الفت کیشوں کے
اپنی طرف سے ہم نے اب تک اس ظالم سے پیار رکھا
عشق بھی ہم میں ہائے تصرف کیسے کیسے کرتا ہے
دل کو چاک جگر کو زخمی آنکھوں کو خونبار رکھا
کیا پوچھو ہودیں کے اکابر فاضل کامل صابر رنج
عزت والے کیا لوگوں کو گلیوں میں ان نے خوار رکھا
کام اس سے اک طور پہ لیتے بے طور اس کو ہونے نہ دیتے
حیف ہے میر سپہر دوں نے ہم سے اس کو نہ یار رکھا
میر تقی میر

کوئی دل کا بخار نکلے گا

دیوان سوم غزل 1066
چشم سے خوں ہزار نکلے گا
کوئی دل کا بخار نکلے گا
اس کی نخچیرگہ سے روح الامیں
ہو کے آخر شکار نکلے گا
آندھیوں سے سیاہ ہو گا چرخ
دل کا تب کچھ غبار نکلے گا
ہوئے رے لاگ تیر مژگاں کی
کس کے سینے کے پار نکلے گا
ناز خورشید کب تلک کھینچیں
گھر سے کب اپنے یار نکلے گا
خون ہی آئے گا تو آنکھوں سے
ایک سیل بہار نکلے گا
عزلت میر عشق میں کب تک
ہو کے بے اختیار نکلے گا
میر تقی میر

پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے

دیوان دوم غزل 1034
جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے
پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے
ہم آپ سے گئے سو الٰہی کہاں گئے
مدت ہوئی کہ اپنا ہمیں انتظار ہے
بس وعدئہ وصال سے کم دے مجھے فریب
آگے ہی مجھ کو تیرا بہت اعتبار ہے
سرتابی اس سے طائر قدسی نہ کر سکے
اس ترک صید بند کا وہ تو شکار ہے
مائل نہیں ہے سرو ہی تنہا تری طرف
گل کو بھی تیرے دیکھنے کا خار خار ہے
پیوند میں زمیں کا ہوا اس گلی میں لیک
یوں بھی کہا نہ ان نے یہ کس کا مزار ہے
کل سرو ناز باغ میں آیا نظر مجھے
میں نے فریب شوق سے جانا کہ یار ہے
اب دیکھ کر قرار کیا کر وصال کا
دل کو بغیر تیرے تنک بھی قرار ہے
مت فکر خانہ سازی میں منعم ہلاک ہو
بنیاد زندگانی کی ناپائدار ہے
کب تک ستم کبھو تو دلاسا بھی دیجیے
بالفرض میر ایسا ہی تقصیروار ہے
میر تقی میر

یہ جان سے گئے سب بیمار ایسے ہی تھے

دیوان دوم غزل 1006
مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے
یہ جان سے گئے سب بیمار ایسے ہی تھے
شمس و قمر کے دیکھے جی اس میں جا رہے ہے
اس دل فروز کے بھی رخسار ایسے ہی تھے
دامن کے پاٹ سارے تختے ہوئے چمن کے
بس اے سرشک خونیں درکار ایسے ہی تھے
لوہو نہ کیوں رلائے ان کا گداز ہونا
یہ دل جگر ہمارے غم خوار ایسے ہی تھے
ہر دم جراحت آسا کب رہتے تھے ٹپکتے
یہ دیدئہ نمیں کیا خوں بار ایسے ہی تھے
آزاردہ دلوں کا جیسا کہ تو ہے ظالم
اگلے زمانے میں بھی کیا یار ایسے ہی تھے
ہو جائے کیوں نہ دوزخ باغ زمانہ ہم پر
ہم بے حقیقتوں کے کردار ایسے ہی تھے
دیوار سے پٹک سر میں جو موا تو بولا
کچھ اس ستم زدہ کے آثار ایسے ہی تھے
اک حرف کا بھی ان کو دفتر ہے کر دکھانا
کیا کہیے میر جی کے بستار ایسے ہی تھے
میر تقی میر

اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی

دیوان دوم غزل 950
کی سیر ہم نے سینۂ یکسر فگار کی
اس تختے نے بھی اب کے قیامت بہار کی
دریاے حسن یار تلاطم کرے کہیں
خواہش ہے اپنے جی میں بھی بوس و کنار کی
اپنا بھی جی اسیر تھا آواز عندلیب
دل میں چبھا کی رات کو جوں نوک خار کی
آنکھیں غبار لائیں مری انتظار میں
دیکھوں تو گرد کب اٹھے اس رہ گذار کی
مقدور تک تو ضبط کروں ہوں پہ کیا کروں
منھ سے نکل ہی جاتی ہے اک بات پیار کی
اب گرد سر پھروں ترے ہوں میں فقیر محض
رکھتا تھا ایک جان سو تجھ پر نثار کی
کیا صید کی تڑپ کو اٹھائے دماغ یار
نازک بہت ہے طبع مرے دل شکار کی
رکھتا نہیں طریق وفا میں کبھو قدم
ہم کچھ نہ سمجھے راہ و روش اپنے یار کی
کیا جانوں چشم تر سے ادھر دل پہ کیا ہوا
کس کو خبر ہے میر سمندر کے پار کی
میر تقی میر

اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ

دیوان دوم غزل 937
ظالم یہ کیا نکالی رفتار رفتہ رفتہ
اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ
ہر آن ہم کو تجھ بن ایک اک برس ہوئی ہے
کیا آ گیا زمانہ اے یار رفتہ رفتہ
کیا کہیے کیونکے جانیں بے پردہ جاتیاں ہیں
اس معنی کا بھی ہو گا اظہار رفتہ رفتہ
یہ ہی سلوک اس کے اکثر چلے گئے تو
بیٹھیں گے اپنے گھر ہم ناچار رفتہ رفتہ
پامال ہوں کہ اس میں ہوں خاک سے برابر
اب ہو گیا ہے سب کچھ ہموار رفتہ رفتہ
چاہت میں دخل مت دے زنہار آرزو کو
کردے ہے دل کی خواہش بیمار رفتہ رفتہ
خاطر نہ جمع رکھو ان پلکوں کی خلش سے
سر دل سے کاڑھتے ہیں یاں خار رفتہ رفتہ
تھے ایک ہم وے دونوں سو اتحاد کیسا
ہر بات پر اب آئی تکرار رفتہ رفتہ
گر بت کدے میں جانا ایسا ہے میر جی کا
تو تار سبحہ ہو گا زنار رفتہ رفتہ
میر تقی میر

دل کہاں وقت کہاں عمر کہاں یار کہاں

دیوان دوم غزل 896
باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں
دل کہاں وقت کہاں عمر کہاں یار کہاں
تم تو اب آنے کو پھر کہہ چلے ہو کل لیکن
بے کل ایسا ہی رہا شب تو یہ بیمار کہاں
دل کی خواہش ہو کسو کو تو کمی دل کی نہیں
اب یہی جنس بہت ہے پہ خریدار کہاں
خاک یاں چھانتے ہی کیوں نہ پھرو دل کے لیے
ایسا پہنچے ہے بہم پھر کوئی غم خوار کہاں
دم زدن مصلحت وقت نہیں اے ہمدم
جی میں کیا کیا ہے مرے پر لب اظہار کہاں
شیخ کے آنے ہی کی دیر ہے میخانے میں پھر
سبحہ سجادہ کہاں جبہ و دستار کہاں
ہم سے ناکس تو بہت پھرتے ہیں جی دیتے ولے
زخم تیغ اس کے اٹھانے کا سزاوار کہاں
تونے بھی گرد رخ سرخ نکالا خط سبز
باغ شاداب جہاں میں گل بے خار کہاں
خبط نے عقل کے سر رشتے کیے گم سارے
اب جو ڈھونڈو تو گریباں میں کوئی تار کہاں
گوکہ گردن تئیں یاں کوئی لہو میں بیٹھے
ہاتھ اٹھاتا ہے جفا سے وہ ستم گار کہاں
ڈوبا لوہو میں پڑا تھا ہمگی پیکر میر
یہ نہ جانا کہ لگی ظلم کی تلوار کہاں
میر تقی میر

رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں

دیوان دوم غزل 894
جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں
رہتی ہے میرے خلق کے تلوار درمیاں
برپا ہوا ہجوم سے اک حشر تازہ واں
آیا جہاں کہیں قدم یار درمیاں
اس کام جاں میں ہم میں ہوا ہے حجاب چشم
یوں رہیے آہ کب تئیں دیوار درمیاں
سو بار اس سے فتنے جہاں میں اٹھے ولے
دیکھی نہ ہم نے وہ کمر اک بار درمیاں
کیا کہیے آہ جی کو قیامت ہے انتظار
آتا نہ کاش وعدئہ دیدار درمیاں
رکھ دی ہے کتنے روزوں سے تلوار یار نے
کوئی نہیں ہے خوں کا سزاوار درمیاں
ثابت ہے ساری خلق کے اوپر کہ تو ہے ایک
حاجت نہیں جو آوے یہ تکرار درمیاں
آیا کیے دماغ کے اعضا میں یہ فتور
ٹھہرے قشون کیا نہیں سردار درمیاں
بازار میں دکھائی ہے کب ان نے جنس حسن
جو بک نہیں گئے ہیں خریدار درمیاں
دیکھیں چمن جو سینۂ پر داغ سے بڑھیں
بیداد ہے یہ قطعۂ گلزار درمیاں
کھنچنے نہ پائی اس کی تو تلوار بھیڑ میں
مارا گیا عبث یہ گنہگار درمیاں
اب کے جنوں کے بیچ گریباں کا ذکر کیا
کہیے بھی جو رہا ہو کوئی تار درمیاں
کتنے دنوں سے میر کا نالہ نہیں سنا
شاید نہیں ہے اب وہ گرفتار درمیاں
میر تقی میر

اب جو کھلا سو جیسے گل بے بہار دل

دیوان دوم غزل 852
مدت تو وا ہوا ہی نہ یہ غنچہ وار دل
اب جو کھلا سو جیسے گل بے بہار دل
ہے غم میں یاد کس کو فراموش کار دل
اب آ بنی ہے جی پہ رہا درکنار دل
دشوار ہے ثبات بہت ہجر یار میں
یاں چاہیے ہے دل سو کہاں میرے یار دل
وہ کون سی امید برآئی ہے عشق میں
رہتا ہے کس امید پہ امیدوار دل
ظالم بہت ضرور ہے ان بیکسوں کا پاس
ناچار اپنے رہتے ہیں جو مار مار دل
تم پر تو صاف میری کدورت کھلی ہے آج
مدت سے ہے ملال کے زیر غبار دل
مائل ادھر کے ہونے میں مجبور ہیں سبھی
کھنچتا ہے اس کی اور کو بے اختیار دل
حد ہے گی دلبری کی بھی اے غیرت چمن
ہو آدمی صنوبر اگر لاوے بار دل
داخل یہ اضطراب تنک آبیوں میں ہے
رکھتی نہیں ہے برق ہی کچھ بے قرار دل
کیا ہیں گرسنہ چشم دل اب کے یہ دلبراں
تسکین ان کی ہو نہ جو لیویں ہزار دل
جوں سیب ہیں ذقن کے چمن زار حسن میں
یوں باغ حسن میں بھی ہیں رنگیں انار دل
ہم سے جو عشق کشتہ جئیں تو عجب ہے میر
چھاتی ہے داغ ٹکڑے جگر کے فگار دل
میر تقی میر

رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش

دیوان دوم غزل 825
گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش
رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش
یہ جو دو آنکھیں مند گئیں میری
اس پہ وا ہوتیں ایک بار اے کاش
کن نے اپنی مصیبتیں نہ گنیں
رکھتے میرے بھی غم شمار اے کاش
جان آخر تو جانے والی تھی
اس پہ کی ہوتی میں نثار اے کاش
اس میں راہ سخن نکلتی تھی
شعر ہوتا ترا شعار اے کاش
خاک بھی وہ تو دیوے گا برباد
نہ بناویں مرا مزار اے کاش
شش جہت اب تو تنگ ہے ہم پر
اس سے ہوتے نہ ہم دوچار اے کاش
مرتے بھی تو ترے ہی کوچے میں
ملتی یاں جاے گوردار اے کاش
ان لبوں کے گلے سے دل ہے بھرا
چل پڑے بات پیش یار اے کاش
بے اجل میر اب پڑا مرنا
عشق کرتے نہ اختیار اے کاش
میر تقی میر

تو بھی ٹک آن کھڑا ہوجو گنہگار کے پاس

دیوان دوم غزل 822
جب بٹھاویں مجھے جلاد جفاکار کے پاس
تو بھی ٹک آن کھڑا ہوجو گنہگار کے پاس
دردمندوں سے تمھیں دور پھرا کرتے ہو کچھ
پوچھنے ورنہ سبھی آتے ہیں بیمار کے پاس
چشم مست اپنی سے صحبت نہ رکھاکر اتندی
بیٹھیے بھی تو بھلا مردم ہشیار کے پاس
خندہ و چشمک و حرف و سخن زیرلبی
کہیے جو ایک دو افسون ہوں دلدار کے پاس
داغ ہونا نظر آتا ہے دلوں کا آخر
یہ جو اک خال پڑا ہے ترے رخسار کے پاس
خط نمودار ہوئے اور بھی دل ٹوٹ گئے
یہ بلا نکلی نئی زلف شکن دار کے پاس
در گلزار پہ جانے کے نصیب اپنے کہاں
یوں ہی مریے گا قفس کی کبھو دیوار کے پاس
کیا رکھا کرتے ہو آئینے سے صحبت ہر دم
ٹک کبھو بیٹھو کسی طالب دیدار کے پاس
دل کو یوں لیتے ہو کھٹکا نہیں ہونے پاتا
تربیت پائی ہے تم نے کسو عیار کے پاس
مورچہ جیسے لگے تنگ شکر کو آکر
خط نمودار ہے یوں لعل شکر بار کے پاس
جس طرح کفر بندھا ہے گلے اسلام کہاں
یوں تو تسبیح بھی ہم رکھتے ہیں زنار کے پاس
ہم نہ کہتے تھے نہ مل مغبچوں سے اے زاہد
ابھی تسبیح دھری تھی تری دستار کے پاس
نارسائی بھی نوشتے کی مرے دور کھنچی
اتنی مدت میں نہ پہنچا کوئی خط یار کے پاس
اختلاط ایک تمھیں میر ہی غم کش سے نہیں
جب نہ تب یوں تو نظر آتے ہو دوچار کے پاس
میر تقی میر

کوچہ کوئی کوئی ہے چمن زار سا ہنوز

دیوان دوم غزل 819
ہے میرے لوہو رونے کا آثار سا ہنوز
کوچہ کوئی کوئی ہے چمن زار سا ہنوز
کب تک کھنچے گی صبح قیامت کی شام کو
عرصے میں میں کھڑا ہوں گنہگار سا ہنوز
مدت ہوئی کہ خون جگر میں نہیں ولے
جاتا ہے آنسوئوں کا چلا تار سا ہنوز
سایہ سا آگیا تھا نظر اس کا ایک دن
مبہوت میں پھروں ہوں پری دار سا ہنوز
برسوں سے گل چمن میں نکلتے ہیں رنگ رنگ
نکلا نہیں ہے ایک رخ یار سا ہنوز
دیکھا تھا خانہ باغ میں پھرتے اسے کہیں
گل حیرتی ہے صورت دیوار سا ہنوز
مدت سے ترک عشق کیا میر نے ولے
زار و زبون و زرد ہے بیمار سا ہنوز
میر تقی میر

کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار

دیوان دوم غزل 804
اے صبا گر شہر کے لوگوں میں ہو تیرا گذار
کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار
خاک دہلی سے جدا ہم کو کیا یک بارگی
آسماں کو تھی کدورت سو نکالا یوں غبار
منصب بلبل غزل خوانی تھا سو تو ہے اسیر
شاعری زاغ و زغن کا کیوں نہ ہووے اب شعار
طائر خوش زمزمہ کنج قفس میں ہے خموش
چہچہے چہیاں کریں ہیں صحن گلشن میں ہزار
برگ گل سے بھی کیا نہ ایک نے ٹک ہم کو یاد
نامہ و پیغام و پرسش بے مراتب درکنار
بے خلش کیونکر نہ ہو گرم سخن گلزار میں
میں قفس میں ہوں کہ میرا تھا دلوں میں خارخار
بلبل خوش لہجہ کے جائے پہ گو غوغائیاں
طرح غوغا کی چمن میں ڈالیں پر کیا اعتبار
طائران خوش لب و لہجہ نہیں رہتے چھپے
شور سے ان کے بھرے ہیں قریہ و شہر و دیار
شہر کے کیا ایک دو کوچوں میں تھی شہرت رہی
شہروں شہروں ملکوں ملکوں ہے انھوں کا اشتہار
کیا کہوں سوے چمن ہوتا جو میں سرگرم گشت
پھول گل جب کھلنے لگتے جوش زن ہوتی بہار
شور سن سن کر غزل خوانی کا میری ہم صفیر
غنچہ ہو آتے جو ہوتا آب و رنگ شاخسار
خوش نوائی کا جنھیں دعویٰ تھا رہ جاتے خموش
جن کو میں کرتا مخاطب ان کو ہوتا افتخار
بعضوں کو رشک قبول خاطر و لطف سخن
بعضوں کا سینہ فگار و بعضوں کا دل داغدار
ایکوں کے ہونٹوں کے اوپر آفریں استاد تھا
ایک کہتے تھے رسوخ دل ہے اپنا استوار
ربط کا دعویٰ تھا جن کو کہتے تھے مخلص ہیں ہم
جانتے ہیں ذات سامی ہی کو ہم سب خاکسار
نقل کرتے کیا یہ صحبت منعقد جب ہوتی بزم
بیٹھ کر کہتے تھے منھ پر میرے بعضے بعضے یار
بندگی ہے خدمت عالی میں ہم کو دیر سے
کر رکھی ہے جان اپنی ہم نے حضرت پر نثار
سو نہ خط ان کا نہ کوئی پرچہ پہنچا مجھ تلک
واہ وا ہے رابطہ رحمت ہے یہ اخلاص و پیار
رفتہ رفتہ ہو گئیں آنکھیں مری دونوں سفید
بسکہ نامے کا کیا یاروں کے میں نے انتظار
لکھتے گر دو حرف لطف آمیز بعد از چند روز
تو بھی ہوتا اس دل بے تاب و طاقت کو قرار
سو تو یک ننوشتہ کاغذ بھی نہ آیا میرے پاس
ان ہم آوازوں سے جن کا میں کیا ربط آشکار
خط کتابت سے یہ کہتے تھے نہ بھولیں گے تجھے
آویں گے گھر بار کی تیرے خبر کو بار بار
جب گیا میں یاد سے تب کس کا گھر کاہے کا پاس
آفریں صد آفریں اے مردمان روزگار
اب بیاباں در بیاباں ہے مرا شور و فغاں
گو چمن میں خوش کی تم نے میری جاے نالہ وار
ہے مثل مشہور یہ عمر سفر کوتاہ ہے
طالع برگشتہ بھی کرتے ہیں اب امداد کار
اک پر افشانی میں بھی ہے یہ وطن گلزار سا
سامعوں کی چھاتیاں نالوں سے ہوویں گی فگار
منھ پہ آویں گے سخن آلودئہ خون جگر
کیونکہ یاران زماں سے چاک ہے دل جوں انار
لب سے لے کر تا سخن ہیں خونچکاں شکوے بھرے
لیک ہے اظہار ہر ناکس سے اپنا ننگ و عار
چپ بھلی گو تلخ کامی کھینچنی اس میں پڑے
بیت بحثی طبع نازک پر ہے اپنی ناگوار
آج سے کچھ بے حسابی جور کن مردم نہیں
ان سے اہل دل سدا کھینچے ہیں رنج بے شمار
بس قلم رکھ ہاتھ سے جانے بھی دے یہ حرف میر
کاہ کے چاہے نہیں کہسار ہوتے بے وقار
کام کے جو لوگ صاحب فن ہیں سو محسود ہیں
بے تہی کرتے رہیں گے حاسدان نابکار
میر تقی میر

اب ہو گئے ہیں آخر بیمار تیری خاطر

دیوان دوم غزل 803
کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر
اب ہو گئے ہیں آخر بیمار تیری خاطر
غیروں کی بے دماغی بیتابی چھاتی داغی
یہ سب ستم اٹھائے اے یار تیری خاطر
کیا جانیے کہ ہے تو کیا جنس بیش قیمت
جاتے ہیں پگڑی جامے بازار تیری خاطر
اک بار تونے آکر خاطر نہ رکھی میری
میں جی سے اپنے گذرا سو بار تیری خاطر
میں کیا کہ آہ کافر دیں کے اکابروں نے
قشقے لگائے پہنے زنار تیری خاطر
گو دل دھسک ہی جاوے آنکھیں ابل ہی آویں
سب اونچ نیچ کی ہے ہموار تیری خاطر
ایک آن تیرے ابرو ایدھر جھکے نہ پائے
سو سو میں میں نے کھینچی تلوار تیری خاطر
کیا چیز ہے تو پیارے مفلس ہیں داغ تیرے
پیسے لیے پھرے ہیں زردار تیری خاطر
تجھ سے دوچار ہونا پھر آہ بن نہ آیا
دی جان میر جی نے ناچار تیری خاطر
میر تقی میر

چاک ہے دل انار کے مانند

دیوان دوم غزل 797
تجھ بن اے نوبہار کے مانند
چاک ہے دل انار کے مانند
پہنچی شاید جگر تک آتش عشق
اشک ہیں سب شرار کے مانند
کو دماغ اس کی رہ سے اٹھنے کا
بیٹھے اب ہم غبار کے مانند
کوئی نکلے کلی تو لالے کی
اس دل داغدار کے مانند
سرو کو دیکھ غش کیا ہم نے
تھا چمن میں وہ یار کے مانند
ہار کر شب گلے پڑے اس کے
ہم بھی پھولوں کے ہار کے مانند
برق تڑپی بہت ولے نہ ہوئی
اس دل بے قرار کے مانند
ان نے کھینچی تھی صیدگہ میں تیغ
برق ابر بہار کے مانند
اس کے گھوڑے کے آگے سے نہ ٹلے
ہم بھی دبلے شکار کے مانند
زخم کھا بیٹھیو جگر پر مت
تو بھی مجھ دل فگار کے مانند
اس کی سرتیز ہر پلک ہے میر
خنجر آبدار کے مانند
میر تقی میر

پر منھ پہ آ ہی جاتی ہے بے اختیار بات

دیوان دوم غزل 783
سنتا نہیں اگرچہ ہمارا نگار بات
پر منھ پہ آ ہی جاتی ہے بے اختیار بات
بلبل کے بولنے سے ہے کیوں بے دماغ گل
آپس میں یوں تو ہوتی ہے یارو ہزار بات
منھ تک رہو جو ہو وہ فریبندہ حرف زن
اس تھوڑے سن و سال میں یہ پیچدار بات
بوسہ دے چپکے لب کا کہ تب کچھ مزہ نہیں
پاوے گی سارے شہر میں جب اشتہار بات
ہے کس کی صوت انکر اصوات واعظا
کب آدمی کی جنس کرے ہے پکار بات
آہو کو اس کی چشم سخن گو سے مت ملا
شہری سے کرسکے ہے کہیں بھی گنوار بات
یوں بار گل سے اب کے جھکے ہیں نہال باغ
جھک جھک کے جیسے کرتے ہیں دوچار یار بات
آزردہ دل کو حرف پہ لانے کا لطف کیا
کرتی ہے خونچکاں مرے لب سے گذار بات
مرجاں کوئی کہے ہے کوئی ان لبوں کو لعل
کچھ رفتہ رفتہ پا ہی رہے گی قرار بات
یوں چپکے چپکے میر تلف ہو گا کب تلک
کچھ ہووے بھڑ کر اس سے بھی کر ایک بار بات
میر تقی میر

گل سرخ اک زرد رخسار تھا

دیوان دوم غزل 756
چمن بھی ترا عاشق زار تھا
گل سرخ اک زرد رخسار تھا
گئی نیند شیون سے بلبل کی رات
کہیں دل ہمارا گرفتار تھا
قد یار کے آگے سرو چمن
کھڑا دور جیسے گنہگار تھا
یہی جنس دل کی گراں قدر تھی
ولے جب تلک تو خریدار تھا
بہت روئے ہم شبنم و گل کو دیکھ
کہ چسپاں ہمیں بھی کہیں پیار تھا
مجھے اے دل چاک کیا شانہ سا
کسو زلف سے کچھ سروکار تھا
گیا میر یاں سے کروگے جو یاد
کہو گے کہ مسکیں عجب یار تھا
میر تقی میر

کام اس شوق کے ڈوبے ہوئے کا پار کیا

دیوان دوم غزل 749
جس پہ اس موج سی شمشیر کا اک وار کیا
کام اس شوق کے ڈوبے ہوئے کا پار کیا
آگیا عشق میں جو پیش نشیب اور فراز
ہوکے میں خاک برابر اسے ہموار کیا
کیا کروں جنس وفا پھیرے لیے جاتا ہوں
بخت بد نے نہ اسے دل کا خریدار کیا
اتفاق ایسے پڑے ہم تو منافق ٹھہرے
چرخ ناساز نے غیروں سے اسے یار کیا
ایسے آزار اٹھانے کا ہمیں کب تھا دماغ
کوفت نے دل کی تو جینے سے بھی بیزار کیا
جی ہی جاتے سنے ہیں عشق کے مشہور ہوئے
کیا کیا ہم نے کہ اس راز کو اظہار کیا
دیکھے اس ماہ کو جو کتنے مہینے گذرے
بڑھ گئی کاہش دل ایسی کہ بیمار کیا
نالۂ بلبل بے دل ہے پریشان بہت
موسم گل نے مگر رخت سفر بار کیا
میر اے کاش زباں بند رکھا کرتے ہم
صبح کے بولنے نے ہم کو گرفتار کیا
میر تقی میر

ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا

دیوان دوم غزل 747
ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا
ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا
خدا جانے ہمیں اس بے خودی نے کس طرف پھینکا
کہ مدت ہو گئی ہم کھینچتے ہیں انتظار اپنا
ذلیل اس کی گلی میں ہوں تو ہوں آزردگی کیسی
کہ رنجش اس جگہ ہووے جہاں ہو اعتبار اپنا
اگرچہ خاک اڑائی دیدئہ تر نے بیاباں کی
ولے نکلا نہ خاطر خواہ رونے سے غبار اپنا
کہا بد وضع لوگوں نے جو دیکھا رات کو ملتے
ہوا صحبت میں ان لڑکوں کی ضائع روزگار اپنا
کریں جو ترک عزلت واسطے مشہور ہونے کے
مگر شہروں میں کم ہے جیسے عنقا اشتہار اپنا
دل بے تاب و بے طاقت سے کچھ چلتا نہیں ورنہ
کھڑا بھی واں نہ جاکر ہوں اگر ہو اختیار اپنا
عجب ہم بے بصیرت ہیں کہاں کھولا ہے بار آکر
جہاں سے لوگ سب رخت سفر کرتے ہیں بار اپنا
نہ ہو یوں میکدہ مسجد سا پر واں ہوش جاتے ہیں
ہوا ہے دونوں جاگہ ایک دو باری گذار اپنا
سراپا آرزو ہم لوگ ہیں کاہے کو رندوں میں
رہے ہیں اب تلک جیتے ولے دل مار مار اپنا
گیا وہ بوجھ سب ہلکے ہوئے ہم میر آخر کو
مناسب تھا نہ جانا اس گلی میں بار بار اپنا
میر تقی میر