ٹیگ کے محفوظات: یاریاں

کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں

دیوان اول غزل 359
موئے سہتے سہتے جفاکاریاں
کوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں
ہماری تو گذری اسی طور عمر
یہی نالہ کرنا یہی زاریاں
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھا
مری آہ نے برچھیاں ماریاں
گیا جان سے اک جہاں لیک شوخ
نہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں
کہاں تک یہ تکلیف مالا یطاق
ہوئیں مدتوں نازبرداریاں
خط و کاکل و زلف و انداز و ناز
ہوئیں دام رہ صدگرفتاریاں
کیا دردوغم نے مجھے ناامید
کہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
تری آشنائی سے ہی حد ہوئی
بہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیں
کھنچیں میر تجھ سے ہی یہ خواریاں
میر تقی میر

خدا والا ہوں لیکن دہریوں سے یاریاں بھی ہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 106
تضادوں کے سمجھنے میں مجھے دشواریاں بھی ہیں
خدا والا ہوں لیکن دہریوں سے یاریاں بھی ہیں
کہیں سوتے نہ رہ جائیں زنِ خواہش کے پہلو میں
ہمیں درپیش کل کے کوچ کی تیاریاں بھی ہیں
بجا ہے اور بڑھ جاتی ہے زیر پائے لنگ آ کر
مگر اس راہ صد جادہ میں ناہمواریاں بھی ہیں
یہ خالی پن کہاں پیمانۂ مقدار میں آئے
مزے کے انت میں بے انت کی بیزاریاں بھی ہیں
میں سوتے جاگتے کی داستاں دہراتا رہتا ہوں
مری بیداریوں میں خواب کی سرشاریاں بھی ہیں
آفتاب اقبال شمیم