ٹیگ کے محفوظات: یارا

گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
گرتوں کے ساتھ گرنے کا کھٹکا ہمیں ہو کیوں
قارون ہیں جو، زر کی توقّع ہو اُن سے کیا
ایسوں پہ اِس قبیل کا دھوکا ہمیں ہو کیوں
بے فیض رہبروں سے مرتّب جو ہو چلی
احوال کی وہ شکل، گوارا ہمیں ہو کیوں
ملتی ہے کج روؤں کو نفاذِ ستم پہ جو
ایسی سزا کا ہو بھی تو خدشہ ہمیں ہو کیوں
رکھیں نمو کی آس بھلا کیوں چٹان سے
ایسوں سے اِس طرح کا تقاضا ہمیں ہو کیوں
ہم ہیں پھوار ابر کی بوچھاڑ ہم نہیں
سختی کریں کسی پہ، یہ یارا، ہمیں ہو کیوں
بِیجا ہے جو اُگے گا نہ وہ، کشتِ خیر میں!
ماجدؔ گماں جو ہو بھی تو ایسا ہمیں ہو کیوں
ماجد صدیقی

کوئی بھی نہ دے سکا سہارا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 1
جب گھیر کے بے کسی نے مارا
کوئی بھی نہ دے سکا سہارا
ساحل سے نہ کیجئے اشارا
کچھ اور بھی دور اب خدا را
خاموش ہیں اس طرح وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
احساس ملا ہے سب کو لیکن
چمکا ہے کوئی کوئی ستارا
ہوتی ہے قدم قدم پہ لغزش
ملتا ہے کہیں کہیں سہارا
کھاتے گئے ہم فریب جتنے
بڑھتا گیا حوصلہ ہمارا
کس طرح کٹے گی رات باقیؔ
دن تو کسی طور سے گزارا
اب کیا ہو کہ لب پہ آ گیا ہے
ہر چند یہ راز تھا تمہارا
اس طرح خموش ہیں وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
حالات کی نذر ہو نہ جائے
باقیؔ ہے جو ضبط غم کا یارا
باقی صدیقی