ٹیگ کے محفوظات: یادگاروں

خزاں سے چھیِن کے لے آئیں گے بَہاروں کو

نَظَر اُٹھا کے وہ دیکھیں تَو جاں نِثاروں کو
خزاں سے چھیِن کے لے آئیں گے بَہاروں کو
بَلائیں ڈھُونڈتی پھِرتی ہیں بے سَہاروں کو
سُکونِ قَلب کہاں زِندَگی کے ماروں کو
بھَلا مَجال ہے اِک اَشکِ غَم بھی جھانک تَو لے
سَلام، چَشمِ نَم! اِن تیرے آبشاروں کو
خِزاں نے اہلِ چمن کو یہ دی ہے آزادی
بَسالیں چَشمِ تَصَوُّر میں بَس بَہارَوں کو
ہَمارے قَتل پہ جَب بھی اُداس ہَوں قاتل
نَویدِ جَشنِ طَرَب دینا، سوگواروں کو
سَفینہ ڈُوب چکا، جَشن کی ہو تیّاری
یہ ناخُدا کا نَیا حُکم ہے کناروں کو
نِگار خانۂ دِل خَستہ حال ہے، ضامنؔ
بہت سَنبھال کے رَکّھا ہے یادگاروں کو
ضامن جعفری

تھا تو اک شہر خاکساروں کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 16
حال خوش تزکرہ نگاروں کا
تھا تو اک شہر خاکساروں کا
پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
کون پُرساں ہے یادگاروں کا
اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
عیش مت پوچھ دعویداروں کا
کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
بات تشبیہہ کی نہ کیجیو تُو
دہر ہے صرف استعاروں کا
میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
کیا ہوا جانے جانثاروں کا
کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
جون ایلیا