ٹیگ کے محفوظات: ہٹتا

یہ کشتگاں کا قبیلہ سمٹتا جاتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 307
دلوں سے درد کا احساس گھٹتا جاتا ہے
یہ کشتگاں کا قبیلہ سمٹتا جاتا ہے
کھلے پروں پہ فضا تنگ ہوتی جاتی ہے
اور آسمان زمینوں میں بٹتا جاتا ہے
ہزار قرب کے امکان بڑھتے جاتے ہیں
مگر وہ ہجر کا رشتہ جو کٹتا جاتا ہے
افق میں ڈوبتا جاتا ہے شامیانۂ زر
سوادِ شام بدن سے لپٹتا جاتا ہے
طلوع ہونے کو ہے پھر کوئی ستارۂ غیب
وہ دیکھ‘ پردۂ افلاک ہٹتا جاتا ہے
شہریار کے نام
عرفان صدیقی