ٹیگ کے محفوظات: ہٹتا

آ گیا خود میں بتدریج سمٹتا ہوا میں

مجمعِ اہلِ مفادات سے کٹتا ہوا میں
آ گیا خود میں بتدریج سمٹتا ہوا میں
اتنا لے جاتا ہے جس کو ہو ضرورت جتنی
ختم ہو جاؤں گا اک دن یونہی بٹتا ہوا میں
دو مناظر ہیں یہی رزم گہِ ہستی کے
خود سے بچتا ہوا یا خود پہ جھپٹتا ہوا میں
کس طریقے سے کہ منظر میں کمی تک نہ لگی
یوں نکل آیا ہوں تصویر سے ہٹتا ہوا میں
تم اس اثنا میں ذرا ٹھیک سے پھر غور کرو
تم تک آتا ہوں زمانے سے نمٹتا ہوا میں
جیسے تقویم سے بچھڑا ہوا دن ہو کوءی
دفعتاً کٹ گیا بس یونہی اچٹتا ہوا میں
اپنے اندر کے درندے کے مقابل عرفان
کبھی ڈرتا ہوا میں، یا کبھی ڈٹتا ہوا میں
عرفان ستار

یہ کشتگاں کا قبیلہ سمٹتا جاتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 307
دلوں سے درد کا احساس گھٹتا جاتا ہے
یہ کشتگاں کا قبیلہ سمٹتا جاتا ہے
کھلے پروں پہ فضا تنگ ہوتی جاتی ہے
اور آسمان زمینوں میں بٹتا جاتا ہے
ہزار قرب کے امکان بڑھتے جاتے ہیں
مگر وہ ہجر کا رشتہ جو کٹتا جاتا ہے
افق میں ڈوبتا جاتا ہے شامیانۂ زر
سوادِ شام بدن سے لپٹتا جاتا ہے
طلوع ہونے کو ہے پھر کوئی ستارۂ غیب
وہ دیکھ‘ پردۂ افلاک ہٹتا جاتا ہے
شہریار کے نام
عرفان صدیقی