ٹیگ کے محفوظات: ہٹا

ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
ہم ہی کریں گے اُن سے کسی روز جا کے بات
کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا
کرتا ہوں اِس لیے میں بہت بچ بچا کے بات
پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقات
کرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات
اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کو
اک وہ کہ چل دیے جو ہنسی میں اُڑا کے بات
کہتا ہوں دل کی بات گھٹا کر رقیب سے
کرتا ہے وہ جو آگے بڑھا کے چڑھا کے بات
وہ جو بنی ہوئی ہے رکاوٹ سی درمیاں
ملنا ہو اب ہمیں تو ملیں وہ ہٹا کے بات
مطلوب واعظوں کو ہیں شاید ہمارے اشک
ہنسنے کی بھی وہ کرتے ہیں اکثر رُلا کے بات
باصِرؔ بیانِ سادہ کو پایا ہے بے اثر
کیجے ذرا سنوار کے قدرے بنا کے بات
باصر کاظمی

میں کہاں ہوں مجھے اِتنا ہی بتا دے کوئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
دشتِ خواہش میں کہیں سے تو صدا دے کوئی
میں کہاں ہوں مجھے اِتنا ہی بتا دے کوئی
دل میں جو کچھ ہے زباں تک نہ وہ آنے پائے
کاش ہونٹوں پہ مرے مُہر لگا دے کوئی
فصل ساری ہے تمنّاؤں کی یک جا میری
میرا کھلیان نہ بے درد جلا دے کوئی
وہ تو ہو گا، جو مرے ذمّے ہے، مجھ کو چاہے
وقت سے پہلے ہی دریا میں بہا دے کوئی
میں بتاؤں گا گئی رُت نے کیا ہے کیا کیا
میرے چہرے سے جمی گرد ہٹا دے کوئی
موسمِ گل نہ سہی، بادِ نم آلود سہی
شاخِ عریاں کو دلاسہ تو دلا دے کوئی
ہے پس و پیش جو اپنا یہ مقّدر ماجدؔ
آخری تیر بھی ترکش سے چلا دے کوئی
ماجد صدیقی

حرف لکھے کُچھ، بادِ صبا نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
پھول کہو یا دل کے فسانے
حرف لکھے کُچھ، بادِ صبا نے
برف سے اُجلے چہروں والے
آ جاتے ہیں جی کو جلانے
داغ رُخِ مہ کا دُکھ میرا
میری حقیقت کون نہ جانے
فکر و نظر پر دھُول جمائی
آہوں کی بے درد ہوا نے
دو آنکھوں کے جام لُنڈھا کر
دو ہونٹوں کے پھُول کھِلانے
دونوں ہاتھ نقاب کی صُورت
رکھنے، اور رُخ پر سے ہٹانے
ماجدؔ انجانے میں ہم بھی
بیٹھ رہے کیوں جی کو جلانے
ماجد صدیقی