ٹیگ کے محفوظات: ہوش

گستاخیوں کرے لب خاموش نقش پا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 12
دیکھو جو مسکراکے تم آغوش نقش پا
گستاخیوں کرے لب خاموش نقش پا
پائی مرے سراغ سے دشمن نے راہ دوست
اے بیخودی مجھے نہ رہا ہوش نقش پا
میں خاکسار عشق ہوں آگاہ راز عشق
میری زباں سے حال سنے گوش نقش پا
آئے بھی وہ چلے بھی گئے مری راہ سے
میں نا مراد والہ و مدہوش نقش پا
یہ کون میرے کوچہ سے چھپ کر نکل گیا
خالی نہیں ہے فتنوں سے آغوش نقش پا
یہ داغ کی تو خاک نہیں کوئے یار میں
اک نشہ وصال ہے آغوش نقش پا
داغ دہلوی

اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 246
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
نے مژدۂ وصال نہ نظّارۂ جمال
مدّت ہوئی کہ آشتئ چشم و گوش ہے
مے نے کِیا ہے حسنِ خود آرا کو بے حجاب
اے شوق یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے
گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھنا
کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
دیدار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مست
بزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز@ نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
@ نسخۂ آگرہ 1863ء اور نسخۂ مہر میں ’سور‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش

دیوان پنجم غزل 1636
کرکریں ہیں لجّوں لطموں کے دڑیڑے سب کے گوش
بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش
صومعے کو اس ہواے ابر میں دیتے ہیں آگ
میکدے سے باہر آتے ہی نہیں ذی عقل و ہوش
تنگ چولی سوجگہ سے کسمساتے ہی چلی
تنگ درزی سے کبھی ملتا نہیں وہ تنگ پوش
وائے رے پروانہ کیسا چپکے جل کر رہ گیا
گرمی پہنچے کیا اچھلتا ہے سپند ہرزہ کوش
کیسا خود گم سر بکھیرے میر ہے بازار میں
ایسا اب پیدا نہیں ہنگامہ آرا دل فروش
میر تقی میر

کہتے ہیں دیوار بھی رکھے ہے گوش

دیوان سوم غزل 1144
اس کے در پر شب نہ کر اے دل خروش
کہتے ہیں دیوار بھی رکھے ہے گوش
پائوں پڑتا ہے کہیں آنکھیں کہیں
اس کی مستی دیکھ کر جاتا ہے ہوش
کتنے یہ فتنے ہیں موجب شور کے
قد و خد و گیسو و لعل خموش
مر گیا اس ماہ بن میں کیا عجب
چاندنی سے ہو جو میرا قبرپوش
صافی مے چادر اپنی میں نے کی
اور کیا کرتے ہیں مفلس دردنوش
دوستوں کا درد دل ٹک گوش کر
گر نصیب دشمناں ہے دردگوش
جب نہ تب ملتا ہے بازاروں میں میر
ایک لوطی ہے وہ ظالم سرفروش
میر تقی میر

یاں کون تھوکے ہے صدف ہرزہ کوش پر

دیوان سوم غزل 1138
دعویٰ ہے یوں ہی اس کا ترے حسن گوش پر
یاں کون تھوکے ہے صدف ہرزہ کوش پر
شاید کسو میں اس میں بہت ہو گیا ہے بعد
تم بھی تو گوش رکھو جرس کے خروش پر
جیب و کنار سے تو بڑھا پانی دیکھیے
چشمہ ہماری چشم کا رہتا ہے جوش پر
اک شور ہے جو عالم کون و فساد میں
ہنگامہ ہے اسی کے یہ لعل خموش پر
ہے بار دوش جس کے لیے زندگی سو وہ
رکھ ہاتھ راہ ٹک نہ چلا میرے دوش پر
جو ہے سو مست بادئہ وہم و خیال ہے
کس کو ہے یاں نگاہ کسو دردنوش پر
مرغ چمن نے کیا حق صحبت ادا کیا
لالا کے گل بکھیرے مرے قبرپوش پر
جب تک بہار رہتی ہے رہتا ہے مست تو
عاشق ہیں میر ہم تو تری عقل و ہوش پر
میر تقی میر

کہ عالم جوان سیہ پوش ہے

دیوان اول غزل 622
مرے درد دل کا تو یہ جوش ہے
کہ عالم جوان سیہ پوش ہے
کیا روبرو اس کے کیوں آئینہ
کہ بے ہوشی اس کا دم اور ہوش ہے
کبھو تیر سا اس کماں میں بھی آ
کہ خمیازہ کش میری آغوش ہے
بلائوں میں اس دور بد کی تو نئیں
جہاں میں خوشا حال مے نوش ہے
میر تقی میر

کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش

دیوان اول غزل 239
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش
کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش
ابروے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب
موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش
ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلام
کیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش
حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہ
تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش
کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیا
اک سادہ گل فروش کا آکر سبد بدوش
جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہار
آج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش
شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مے
بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش
آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کو
عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش
جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہوا
وے صحبیتں کہاں گئیں کیدھر وے ناو نوش
جزلالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاں
ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبوبدوش
جھومے ہے بید جاے جوانان مے گسار
بالاے خم ہے خشت سر پیر مے فروش
میر اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہوچکی خموش
میر تقی میر

اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 91
اک چادرِ بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں
اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں
آنکھوں کو ٹکاتا ہوں ہنگامہ دنیا پر
اور کان سخن ہائے خاموش پہ رکھتا ہوں
کیفیتِ بے خبری کیا چیز ہے کیا جانوں
بنیاد ہی ہونے کی جب ہوش پہ رکھتا ہوں
میں کون ہوں ! ازلوں کی حیرانیاں کیا بولیں
اک قرض ہمیشہ کا میں گوش پہ رکھتا ہوں
جو قرض کی مے پی کر تسخیر سخن کر لے
ایماں اُسی دلی کے مے نوش پہ رکھتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 24
عبث ہے یہ پہرے بٹھانا لب و گوش پر
کبھی بس چلا بھی ہے انکارِ خاموش پر
سفر بھی شعورِ سفر بھی ہے، چلنا تو ہے
وبالِ شب و روز رکھے ہوئے دوش پر
مجھے آن کی آن میں کچھ سے کچھ کر دیا
کسی نے وہ شب خون مارا مرے ہوش پر
یہ خواہش تو تھی ہاں مگر اتنی ہمت نہ تھی
کہ لکھتا زمانے کو میں نوکِ پاپوش پر
مزا چھپ کے پینے میں پہلے سے دُونا ملے
لگا اور پابندیاں مجھ سے مے نوش پر
کبھی تو ہوا تازیانہ لگائے اِسے
کہ دیکھیں سمندر کو آئے ہوئے جوش پر
آفتاب اقبال شمیم

اِک قدح ساقیِ مہوش جو کرے ہوش تمام

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
اِک سخن مطربِ زیبا کہ سلگ اٹھے بدن
اِک قدح ساقیِ مہوش جو کرے ہوش تمام
ذکرِ صبحے کہ رُخ یار سے رنگیں تھا چمن
یادِ شب ہا کہ تنِ یار تھا آغوش تمام
قطعہ
فیض احمد فیض

کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 346
جس کاپھرہو گیا اک بوسہ ء پُرجوش سے میں
کتنا ناراض تھااُس زود فراموش سے میں
سرد آنکھوں میں فقط موت کی ویرانی تھی
کب تلک بولتااُس چہرئہ خاموش سے میں
چاہتا ہوں کہ اٹھا لوں اے مری زیست گزار
بوجھ بے رحم مسائل کاترے دوش سے میں
کیا کوئی تیرے اندھیروں سے نکل سکتا ہے
پوچھ سکتا تو ہوں اُس چشمِ سیہ پوش سے میں
اک طرف پڑتی رہی منظرِجاناں پہ چمک
اک طرف آتا رہا جاتا رہا ہوش سے میں
رات کھو جاؤں میں لتا کے سریلے پن میں
صبح آغاز کروں نغمہ ء گوگوش سے میں
اُس بلندی پہ کہاں ہاتھ پہنچنا تھا مگر
دیکھتا چاند رہا دیدئہ مے نوش سے میں
کیسی ہوتی ہے کسی دورِسگاں کی وحشت
پوچھنا چاہتا ہوں یہ کسی خرگوش سے میں
یہ روایت ہے مرے عہدِسخن پیشہ کی
کرلوں بس صدرنوازی ذرا پاپوش سے میں
ہر طرف ایک جہنم تھا ستم کا منصور
جب نکالا گیا باہر تری آغوش سے میں
منصور آفاق