ٹیگ کے محفوظات: ہوس

اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 221
اب جنوں کب کسی کے بس میں ہے
اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے
حال اس صید کا سنایئے کیا ؟
جس کا صیاد خود قفس میں ہے
کیا ہے گر زندگی کا بس نہیں چلا
زندگی کب کسی کے بس میں ہے
غیر سے رہیو تُو ذرا ہشیار
وہ ترے جسم کی ہوس میں ہے
پاشکستہ پڑا ہوں مگر
دل کسی نغمہِ جرس میں ہے
جون ہم سب کی دسترس میں ہیں
وہ بھلا کس کی دسترس میں ہے
جون ایلیا

بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 82
ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں
ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں
اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
دُھول کے پیش و پس لکھے جاؤں
مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں
ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں
ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں
جون ایلیا

نہیں اس راہ میں فریادرس بس

دیوان سوم غزل 1141
گلا مت توڑ اپنا اے جرس بس
نہیں اس راہ میں فریادرس بس
کبھو دل کی نہ کہنے پائے اس سے
جہاں بولے لگا کہنے کہ بس بس
گل و گلزار سے کیا قیدیوں کو
ہمیں داغ دل و کنج قفس بس
نہ ترسائو یکایک مار ڈالو
کروگے کب تلک ہم پر ترس بس
بہت کم دیتے تھے بادل دکھائی
رہے ہم ہی تو روتے اس برس بس
کسو محبوب کی ہو گور پرگل
ہماری خاک کو ہے خار و خس بس
چمن کے غم میں سینہ داغ ہے میر
بہت نکلی ہماری بھی ہوس بس
میر تقی میر

لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 67
نہیں کہ آگ تری انگلیوں کے مس میں نہیں
لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں
کروں زبانِ غزل میں اسے ادا کیوں کر؟
وہ راز جو کہ اشاروں کی دسترس میں نہیں
یہ فصلِ گل ہے، مگر اے ہوائے آوارہ
وہ خوشبوؤں کا ترنم ترے نفس میں نہیں
برائے سیر، خزاں کو کہاں پسند آئے
وہ راستہ کہ گزرگاہِ خار و خس میں نہیں
سمٹ گیا مرے اندر کا ریگ زار کہ اب
جو تھی کبھی وہ کسک نغمۂِ جرس میں نہیں
آفتاب اقبال شمیم

ہوس

کبھی تو وہ دِن بھی تھے۔۔۔ مگر ۔۔۔ اب

نہ جانے کیوں دل سیاہ لہروں میں بہہ گیا ہے

کبھی تو وہ دن بھی تھے ۔۔۔ مگر ۔۔۔ اب

زمین محورمیں، آسماں چوکھٹے میں، ہر چیز اپنی اپنی حدوں میں محدود، اپنی اپنی بقا میں باقی

شعاعوں میں کروٹیں وہی تابشِ گہر کی

ہواؤں میں دھاریاں وہی موجِ رنگِ زر کی!

کہاں سے ڈھونڈوں وہ دن ۔۔۔ وہ دن جب

بدن پہ بے رنگ چیتھڑے تھے

جہت جہت میں الجھ گئی تھی

زمین اک بے وجود نقطہ

جہان اک رائیگاں صداقت

حیات اک بے وفا حقیقت

عجیب دن تھے، ہر ایک ذرّے کے دل میں داغِ فنا کا سورج ابھر رہا تھا

وہ دن، وہ احساسِ بےثباتی

وہ دولتِ بےزری، وہ اپنی نمودِ بےسود میں غمِ لازوال کو ڈھونڈنے کی خوشیاں

کہاں سے ڈھونڈوں وہ دن، کہ اب تو

ہوا کے ٹھنڈے غرور میں ہیں ہوس کے تیشے

ہوس کے تیشے، جو طنز ہیں میری خودفراموشیوں، مری بےلباسیوں پر

مرے بدن کو بھی اَب تو درکار ہیں وہ ساماں

جو رزقِ سم ہیں، جو مرگِ دل ہیں

مجید امجد

یہ کاروبارِ محبت اسی کے بس کا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 319
سپردگی میں بھی انداز دسترس کا ہے
یہ کاروبارِ محبت اسی کے بس کا ہے
بھلی لگے گی نہ جانے کدھر لہو کی لکیر
کہ سارا کھیل ہی منظر میں پیش و پس کا ہے
یہاں کسی کا وفادار کیوں رہے کوئی
کہ جو وفا کا صلہ ہے وہی ہوس کا ہے
میں جانتا ہوں کہ تو ایک شعلہ ہے‘ لیکن
بدن میں ڈھیر بہت دن سے خار و خس کا ہے
عرفان صدیقی

کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 200
سوائے خاک مری دسترس میں کچھ بھی نہیں
کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں
یہ کون مجھ کو پسِ جشنِ شب پکارتا ہے
وہ ہوک ہے کہ صدائے جرس میں کچھ بھی نہیں
میں کارِ عشق سے ترکِ وفا سے باز آیا
سب اس کے ہاتھ میں ہے میرے بس میں کچھ بھی نہیں
ذرا سے لمسِ شرر سے عجب کمال کیا
میں سوچتا تھا مرے خار و خس میں کچھ بھی نہیں
نوائے درد پہ آتا ہے رنگ صدیوں میں
ابھی مرے سخن نیم رس میں کچھ بھی نہیں
عرفان صدیقی

پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 406
جو پھیرتا تھا تہجد کے کینوس پہ وہ ہاتھ
پڑا ہے شیخ کا پھر گنبدِ ہوس پہ وہ ہاتھ
بنا رہا ہے جو قوسِ قزح کی تصویریں
دکھائی دے مجھے بادل کے کارنس پہ وہ ہاتھ
نگار خانۂ جاں کی نمائشِ کُن میں
لکیر کھینچ رہا ہے برس برس پہ وہ ہاتھ
یہ سوچتے ہوئے میری کہاں علامت ہے
کبھی پروں پہ رکھے وہ ،کبھی قفس پہ وہ ہاتھ
کسی کو خواب میں شایدپکڑ رکھا تھا کہیں
جمے ہوئے تھے مسہری کے میٹرس پہ وہ ہاتھ
عجیب بجلیاں بھر دیں ، عجیب کیف دیا
بنامِ زندگی ،ہائے اک ایک نس پہ وہ ہاتھ
نئے وصال دکھاتی ہے رات بھر منصور
کچھ ایسے رکھتی ہے گزرے ہوئے قصص پہ وہ ہاتھ
منصور آفاق

تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 106
میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا
میں ایک شیش محل میں قیام کرتے ہوئے
کسی فقیر کی کٹیا کے خار و خس میں رہا
سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا
کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا
گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے
یہ آبِ زندگی، بس چشمۂ ہوس میں رہا
مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت
یونہی ستارہ مرا، حرکتِ عبث میں رہا
کنارے ٹوٹ کے گرتے رہے ہیں پانی میں
عجب فشار مرے موجۂ نفس میں رہا
وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا
قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا
جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا
منصور آفاق