ٹیگ کے محفوظات: ہواے

لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل

دیوان چہارم غزل 1424
بلبل نے کل کہا کہ بہت ہم نے کھائے گل
لیکن ہزار حیف نہ ٹھہری ہواے گل
رعنا جوان شہر کے رہتے ہیں گل بسر
سر پر ہمارے داغ جنوں کے ہیں جاے گل
دل لوٹنے پہ مرغ چمن کے نہ کی نظر
بے درد گل فروش سبد بھر کے لائے گل
حیف آفتاب میں پس دیوار باغ ہیں
جوں سایہ وا کشیدہ ہوئے ہم نہ پاے گل
بوے گل و نواے خوش عندلیب میر
آئی چلی گئی یہی کچھ تھی وفاے گل
میر تقی میر

پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل

دیوان سوم غزل 1163
اب کے ہزار رنگ گلستاں میں آئے گل
پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل
بلبل کو ناز کیوں نہ خیابان گل پہ ہو
کیا جانے جن نے چھاتی پہ بھر کر نہ کھائے گل
کب تک حنائی پائوں بن اس کے یہ بے کلی
لگ جائے ٹک چمن میں کہیں آنکھ پاے گل
ناچار ہو چمن میں نہ رہیے کہوں ہوں جب
بلبل کہے ہے اور کوئی دن براے گل
چلیے بغل میں لے کے گلابی کسو طرف
دامان دل کو کھینچے ہے ساقی ہواے گل
پگڑی میں پھول رکھتے ہیں رعنا جوان شہر
داغ جنوں ہی سر پہ رہا یاں بجاے گل
بلبل کو کیا سنے کوئی اڑ جاتے ہیں حواس
جب دردمند کہتی ہے دم بھر کے ہائے گل
سویا نہ وہ بدن کی نزاکت سے ساری رات
بستر پہ اس کے خواب کے کن نے بچھائے گل
مصروف یار چاہیے مرغ چمن سا ہو
دل نذر و دیدہ پیش کش و جاں فداے گل
ہم طرح آشیاں کی نہ گلشن میں ڈالتے
معلوم ہوتی آگے جو ہم کو وفاے گل
چسپاں لباس ہوتے ہیں لیکن نہ اس قدر
ہے چاک رشک جامہ سے اس کے قباے گل
کیا سمجھے لطف چہروں کے رنگ و بہار کا
بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سواے گل
تھا وصف ان لبوں کا زبان قلم پہ میر
یا منھ میں عندلیب کے تھے برگ ہاے گل
میر تقی میر

مجنوں کو میری اور سے کہیو دعاے شوق

دیوان سوم غزل 1159
گر بادیے میں تجھ کو صبا لے کے جائے شوق
مجنوں کو میری اور سے کہیو دعاے شوق
وصل و جدائی سے ہے مبرا وہ کام جاں
معلوم کچھ ہوا نہ ہمیں یاں سواے شوق
ہر چار اور اڑتی پھرے ہے ہماری خاک
سر سے گئی نہ جی بھی گئے پر ہواے شوق
دیر و حرم میں ہم کو پھراتا ہے دیر تک
پھر بھی ہمارے ساتھ وہی ہے اداے شوق
افسوس ایسے کوچے سے تم آشنا نہیں
کیا دردناک نے بھی کوئی ہے نواے شوق
درد اور آہ و نالہ کرے ہے دم سحر
یک مشت پر ہے مرغ گلستاں پہ ہائے شوق
کیا پوچھتے ہو شوق کہاں تک ہے ہم کو میر
مرنا ہی اہل درد کا ہے انتہاے شوق
میر تقی میر

چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل

دیوان اول غزل 264
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جاے گل
چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل
اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراش
جی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل
مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگ
یہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہواے گل
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاں
بلبل ستم ہوا نہ جو تونے بھی کھائے گل
بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہے
اے گل فروش کریو سمجھ کر بہاے گل
نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہ
قابل درود بھیجنے کے ہے صفاے گل
بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کو
بستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہوچکی
لے اے زباں دراز تو سب کچھ سواے گل
گل چیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میر کے
لخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہاے گل
میر تقی میر