ٹیگ کے محفوظات: ہوائے

بگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 63
بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گل
بگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گل
ہنگامِ غش جو غیر کو اس نے سنگھائے گل
جنت میں لے چلی مری جاں کو ہوائے گل
ایما ہے بعدِ مرگ بھی ہم بے وفا رہے
اس واسطے مزار پہ میرے چڑھائے گل
مرتی ہیں گل کے نام پہ ہی بلبلیں کہ اب
پھرتی ہیں ساتھ ساتھ مرے جب سے کھائے گل
کھٹکوں عدو کی آنکھ میں تا بعدِ مرگ بھی
کانٹے مرے مزار پہ رکھنا بجائے گل
کس کس طرح سے کھوئے گئے غیر کیا کہوں
روزِ جزا بھی سینے پہ میرے جو پائے گل
جلتی ہے تیرے حسنِ جہاں سوز سے بہار
نکلیں گے شعلے خاکِ چمن سے بجائے گل
آخر دو رنگی اس گلِ رعنا پہ کھل گئ
لوگوں کو دیکھ کر جو عدو نے چھپائے گل
عاشق سے پہلے راہِ محبت میں جان دے
کیوں کر نہ عندلیب کرے جاں فدائے گل
خاموش عندلیب، کہ طاقت نہیں رہی
ہیں چاک پردے کان کے مثلِ قبائے گل
شاید دکھانے لائے گا اس کو کہ غیر نے
بستر پہ میرے کانٹوں کے بدلے بچھائے گل
جس گل میں ہے ادا وہ چمن میں بھلا کہاں
اے بلبلو، تمہیں کو مبارک ادائے گل
میرا انہیں کو غم ہے کہ بلبل کی آہ پر
کرتا ہے کون چاک گریباں، سوائے گل
جنت میں پہنچیں بلبلیں، پروانے جل گئے
اب کون شمع گور پر اور کون لائے گل
اک گل کا شوق تھا سبب اپنی وفات کا
پھولوں کے دن مرے رفقا نے منگائے گل
لکھی یہ ہم نے وہ غزلِ تازہ شیفتہ
ہر شعر جس میں داغ دہِ دستہ ہائے گل
مصطفٰی خان شیفتہ

زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 83
زرد ہوائیں ، زرد آوازیں، زرد سرائے شام خزاں
زرد اداسی کی وحشت ہے اور فضائے شام خزاں
شیشے کی دیوار و در ہیں اور پاس آداب کی شام
میں ہوں میری بیزاری ہے اور صحرائے شام خزاں
سورج پیڑوں پار جھکا ہے شاخوں میں لالی پھوٹی
مہکے ہیں پھر اک گم گشتہ رنگ کے سائے شام خزاں
پیلے پتوں کی سمتوں میں ناچ اٹھے ہیں سبز ملال
اب تک بے احوال نہیں ہے موج ہوائے شام خزاں
تنہائی کا اک جنگل ہے سناٹا ہے اور ہوا
پیڑوں کے پیلے پتے ہیں نغمہ سرائے شام خزاں
جون ایلیا

بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 132
ہے کس قدر ہلاکِ فریبِ وفائے گُل
بُلبُل کے کاروبارپہ ہیں خندہ ہائے گُل
آزادئ نسـیم مبارک کہ ہـر طـرف
ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دامِ ہوائے گُل
جو تھا ، سو موجِ رنگ کے دھوکے میں مر گیا
اے وائے ، نالۂ لبِ خونیں نوائے گُل !
خوش حال اُس حریفِ سیہ مست کا، کہ جو
رکھتا ہو مثلِ سایۂ گُل ، سر بہ پائے گُل
ایجاد کرتی ہے اُسے تیرے لیے بہار
میرا رقیب ہے نَفَسِ عطر سائے گُل
شرمندہ رکھتے ہیں مجھے بادِ بہار سے
مینائے بے شراب و دلِ بے ہوائے گُل
سطوت سے تیرے جلوۂ حُسنِ غیور کی
خوں ہے مری نگاہ میں رنگِ ادائے گُل
تیرے ہی جلوے کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گُل در قفائے گُل
غالب ! مجھے ہے اُس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گُلِ جیبِ قبائے گُل
مرزا اسد اللہ خان غالب

بول رہا ہو کہیں ، جیسے خدائے خیال

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 38
ایک بلندی سے یوں ، آئی صدائے خیال
بول رہا ہو کہیں ، جیسے خدائے خیال
اسمِ بہار آفریں یاد نہیں ، دیکھئے
کب وہ مسیحا ہمیں دے گا شفائے خیال
سیر فلک ہو گئی، جو نہ ملا مل گیا
کیسے عجب معجزے کر کے دکھائے خیال
کیسے اُسے دیکھتی آنکھ نظر کے سوا
وہ جو کفِ گل پہ ہے رنگِ جنائے خیال
دُور زر و زور کے منطقۂ گرم سے
راس مجھے آگئی آب و ہوائے خیال
جوئے ستارہ بہے باغِ شب ہجر میں
تختِ صبا پر اُسے دُور سے لائے خیال
دشتِ تضادات میں کھو نہ گیا ہو کہیں
آئی نہیں دیر سے کوئی صدائے خیال
آفتاب اقبال شمیم

روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 67
خیمہ کرتے نہیں ہم لوگ ورائے دریا
روک لیتی ہے ہمیں آب و ہوائے دریا
پھر سرشام وہی رنگ تماشا ہو گا
موج خوں ہوتی ہے پھر راہ نمائے دریا
لشکروں سے کہیں رکتی ہے روانی اس کی
سر سے گزرے گا ابھی سیل بلائے دریا
ایک رخ اور بھی ہے پانی کی طغیانی کا
دشت جل جاتے ہیں جب کھیل دکھائے دریا
جانے اس خاک جگر چاک پہ کیا گزری ہے
زخم ہے سینۂ گیتی پہ بجائے دریا
عرفان صدیقی

راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 66
قافلے پھر نہیں جاتے ہیں ورائے دریا
راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا
صبر نے موجوں کو زنجیر پنہا دی ورنہ
کیسے ممکن تھا کہ خدمت میں نہ آئے دریا
لب معصوم پہ فریاد کہ ہائے پانی
دشت افسوس کو افسوس کہ ہائے دریا
ایک چلو کا بھی عباس نے احساں نہ لیا
پھینک دی اس کے ہی چہرے پہ عطائے دریا
لب جو تشنہ دہاں آل نبی قتل ہوئے
داغ ہے سینۂ گیتی پہ بجائے دریا
عرفان صدیقی