ٹیگ کے محفوظات: ہنسا

کہ میں تو اپنے ہی صحرا کے پار جا نہ سکا

وہ کون ہے جو تمھارا سُراغ پا نہ سکا
کہ میں تو اپنے ہی صحرا کے پار جا نہ سکا
وہ اپنا معنوی چہرہ مجھے دِکھا نہ سکا
اس آئنے سے کوئی بھی نظر مِلا نہ سکا
یہ ٹھنڈی آگ جُدا ہے بدن کے شعلے سے
بدن کا شعلہ مری روح کو جلا نہ سکا
کسی کی بات تھی جو اُس نے ڈال دی مجھ پر
وہ آج خود تو ہنسا، پر مجھے ہنسا نہ سکا
اسی لیے تو اُجالا ہے میرے سینے میں
میں بھول کر بھی کسی کا دیا بُجھا نہ سکا
کچھ اتنے ہاتھ بڑھے تھے مجھے گرانے کو
کہ ڈگمگانا بھی چاہا تو ڈگمگا نہ سکا
وہ پیرہن ہوں میں اپنے برہنہ جوئی کا
جو کوئی زخم تری آنکھ سے چھپا نہ سکا
جو لوحِ دل ہوئی ٹکڑے تو یہ خیال آیا
کہ میں بھی سَنگ اٹھاؤں ، مگر اٹھا نہ سکا
شکیبؔ! روح میں طوفاں کا شور باقی ہے
میں اپنا درد، کسی ساز پر سنا نہ سکا
شکیب جلالی

عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 96
یہاں معنی کا بے صورت صلا نئیں
عجب کچھ میں نے سوچا ہے لکھا نئیں
ہیں سب اک دوسرے کی جستجو میں
مگر کوئی کسی کو بھی ملا نئیں
ہمارا ایک ہی تو مدعا تھا
ہمارا اور کوئی مدعا نئیں
کبھی خود سے مکر جانے میں کیا ہے
میں دستاویز پر لکھا ہوا نئیں
یہی سب کچھ تھا جس دم وہ یہاں تھا
چلے جانے پہ اس کے جانے کا نئیں
بچھڑ کے جان تیرے آستاں سے
لگا جی بہت پر جی لگا نئیں
جدائی اپنی بے روداد سی تھی
کہ میں رویا نہ تھا اور پھر ہنسا نئیں
وہ ہجر و وصل تھا سب خواب در خواب
وہ سارا ماجرا جو تھا، وہ تھا نئیں
بڑا بے آسرا پن ہے سو چپ رہ
نہیں ہے یہ کوئی مژدہ خدا نئیں
جون ایلیا