ٹیگ کے محفوظات: ہنسائی

جو میری غزل سرائی کے تھے

وہ دن تری بے وفائی کے تھے
جو میری غزل سرائی کے تھے
دل اشکوں کی داد چاہتا تھا
سامان یہ جگ ہنسائی کے تھے
ملنے کے جتن کیے تھے جتنے
اسباب وہی جدائی کے تھے
ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی
آثار تری بڑائی کے تھے
گو تلخ زباں تھے اہلِ محفل
شیدائی سبھی مٹھائی کے تھے
نالے تو بلا کے تھے ہی باصرِؔ
نغمے بھی ترے دہائی کے تھے
باصر کاظمی

خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
جہاں جس کی دُہائی دے رہا ہے
خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے
چُرا کر خضر کا جامہ ہمیں وہ
سلگتی جگ ہنسائی دے رہا ہے
پڑی زد جرم کی جس پر وہ چُپ ہے
جو مجرم ہے صفائی دے رہا ہے
بگولہ گھیر کر ہر ذِی طلب کو
ثمر تک نارسائی دے رہا ہے
وہ لاوا جو سِلے ہونٹوں کے پیچھے
دہکتا ہے سُنائی دے رہا ہے
وہ دے کر زر دریدہ عصمتوں کو
اُنہیں اُن کی کمائی دے رہا ہے
تناؤ ساس کے تیور کا ماجدؔ
دُلہن کو ’منہ دِکھائی‘ دے رہا ہے
ماجد صدیقی

وصل کی رات میں لڑائی کی

دیوان ششم غزل 1881
یار نے ہم سے بے ادائی کی
وصل کی رات میں لڑائی کی
بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ
اب توقع نہیں رہائی کی
کلفت رنج عشق کم نہ ہوئی
میں دوا کی بہت شفائی کی
طرفہ رفتار کے ہیں رفتہ سب
دھوم ہے اس کی رہگرائی کی
خندئہ یار سے طرف ہوکر
برق نے اپنی جگ ہنسائی کی
کچھ مروت نہ تھی ان آنکھوں میں
دیکھ کر کیا یہ آشنائی کی
وصل کے دن کو کار جاں نہ کھنچا
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
منھ لگایا نہ دختر رز کو
میں جوانی میں پارسائی کی
جور اس سنگ دل کے سب نہ کھنچے
عمر نے سخت بے وفائی کی
کوہکن کیا پہاڑ توڑے گا
عشق نے زور آزمائی کی
چپکے اس کی گلی میں پھرتے رہے
دیر واں ہم نے بے نوائی کی
اک نگہ میں ہزار جی مارے
ساحری کی کہ دلربائی کی
نسبت اس آستاں سے کچھ نہ ہوئی
برسوں تک ہم نے جبہہ سائی کی
میر کی بندگی میں جانبازی
سیر سی ہو گئی خدائی کی
میر تقی میر

کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو

دیوان دوم غزل 923
خدا کرے کہ بتوں سے نہ آشنائی ہو
کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو
بدن نما ہے ہر آئینہ لوح تربت کا
نظر جسے ہو اسے خاک خودنمائی ہو
بدی نوشتے کی تحریر کیا کروں اپنے
کہ نامہ پہنچے تو پھر کاغذ ہوائی ہو
فرو نہ آوے سر اس کا طواف کعبہ سے
نصیب جس کے ترے در کی جبہہ سائی ہو
ہماری چاہ نہ یوسفؑ ہی پر ہے کچھ موقوف
نہیں ہے وہ تو کوئی اور اس کا بھائی ہو
گلی میں اس کی رہا جا کے جو کوئی سو رہا
وہی تو جاوے ہے واں جس کسو کی آئی ہو
لب سوال نہ اک بوسے کے لیے کھولوں
ہزار مہر و محبت میں بے نوائی ہو
زمانہ یار نہیں اپنے بخت سے اتنا
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
جفا و جور و ستم اس کے آپ ہی سہیے
جو اپنے حوصلہ میں کچھ بھی اب سمائی ہو
ہزار موسم گل تو گئے اسیری میں
دکھائی دے ہے موئے ہی پہ اب رہائی ہو
چمکتے دانتوں سے اس کے ہوئی ہے روکش میر
عجب نہیں ہے کہ بجلی کی جگ ہنسائی ہو
میر تقی میر