ٹیگ کے محفوظات: ہندوستاں

وہی اک جنس ہے اس کارواں میں

دیوان دوم غزل 866
نہ نکلا دوسرا ویسا جہاں میں
وہی اک جنس ہے اس کارواں میں
کیا منھ بند سب کا بات کہتے
بلا کچھ سحر ہے اس کی زباں میں
اگر وہ بت نہ جانے تو نہ جانے
ہمیں سب جانے ہیں ہندوستاں میں
نیا آناً فآناً اس کو دیکھا
جدا تھی شان اس کی ہر زماں میں
کھنچی رہتی ہے اس ابروے خم سے
کوئی کیا شاخ نکلی ہے کماں میں
جبیں پر چین رہتی ہے ہمیشہ
بلا کینہ ہے اپنے مہرباں میں
نیا ہے کیا شگوفہ یہ کہ اکثر
رہا ہے پھول پڑتا گلستاں میں
کوئی بجلی کا ٹکڑا اب تلک بھی
پڑا ہو گا ہمارے آشیاں میں
پھرے ہے چھانتا ہی خاک اے میر
ہوس کیا ہے مزاج آسماں میں
میر تقی میر

حالانکہ رفتنی ہیں سب اس کارواں کے لوگ

دیوان دوم غزل 846
غافل ہیں ایسے سوتے ہیں گویا جہاں کے لوگ
حالانکہ رفتنی ہیں سب اس کارواں کے لوگ
مجنوں و کوہکن نہ تلف عشق میں ہوئے
مرنے پہ جی ہی دیتے ہیں اس خانداں کے لوگ
کیونکر کہیں کہ شہر وفا میں جنوں نہیں
اس خصم جاں کے سارے دوانے ہیں یاں کے لوگ
رونق تھی دل میں جب تئیں بستے تھے دلبراں
اب کیا رہا ہے اٹھ گئے سب اس مکاں کے لوگ
تو ہم میں اور آپ میں مت دے کسو کو دخل
ہوتے ہیں فتنہ ساز یہی درمیاں کے لوگ
مرتے ہیں اس کے واسطے یوں تو بہت ولے
کم آشنا ہیں طور سے اس کام جاں کے لوگ
پتی کو اس چمن کی نہیں دیکھتے ہیں گرم
جو محرم روش ہیں کچھ اس بدگماں کے لوگ
بت چیز کیا کہ جس کو خدا مانتے ہیں سب
خوش اعتقاد کتنے ہیں ہندوستاں کے لوگ
فردوس کو بھی آنکھ اٹھا دیکھتے نہیں
کس درجہ سیرچشم ہیں کوے بتاں کے لوگ
کیا سہل جی سے ہاتھ اٹھا بیٹھتے ہیں ہائے
یہ عشق پیشگاں ہیں الٰہی کہاں کے لوگ
منھ تکتے ہی رہے ہیں سدا مجلسوں کے بیچ
گویا کہ میر محو ہیں میری زباں کے لوگ
میر تقی میر