ٹیگ کے محفوظات: ہم

اب شہر میں کم بناتے ہیں

سامان جو ہم بناتے ہیں
اب شہر میں کم بناتے ہیں
ہوتے ہیں لغت میں پتھر لفظ
ہیرا انہیں ہم بناتے ہیں
جو ہاتھ قلم اُٹھاتے تھے
ہیہات وہ بم بناتے ہیں
رکھ دیتے ہیں توڑ کے جو باصِرؔ
ہم کو وہی غم بناتے ہیں
باصر کاظمی

ڈھونڈھتے، روز کا رزق ہم تھک گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
جمع کرتے بدن کی یہ نم، تھک گئے
ڈھونڈھتے، روز کا رزق ہم تھک گئے
یوں لگے، ڈھیل توبہ کی دیتے ہوئے
ہم پہ ہوتے رہے جو، کرم تھک گئے
ایک انساں، نہ سجدوں سے باز آ سکا
پُوجے جانے سے، کیا کیا صنم تھک گئے
آرزو جستجو اور محرومیاں
اس مسلسل سفر سے، قدم تھک گئے
ہیں کُچھ ایسی ہی ماجدؔ حکایاتِ غم
لکھتے لکھتے جنہیں، سب قلم تھک گئے
ماجد صدیقی

پوچھئے گا نہ بات یہ ہم سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
کیوں خفا ہیں ہم ابنِ آدم سے
پوچھئے گا نہ بات یہ ہم سے
ہم اور اُس سے صفائیاں مانگیں
باز آئے ہم ایسے اودھم سے
اب تو ہے جاں کا بھی زیاں اِس میں
نشّہِ درد کم نہیں سم سے
جب سے اُبھرے نشیب سے ہم بھی
لوگ رہتے ہیں ہم سے برہم سے
کوئی خواہش بھی لَو نہ دے ماجدؔ
ہو گئے سب چراغ مدّھم سے
ماجد صدیقی

یہ کیسا ستم اب کے ہم دیکھتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 129
پیالوں میں امرت کے سم دیکھتے ہیں
یہ کیسا ستم اب کے ہم دیکھتے ہیں
کرشمہ یہ کس حرص کے گھاٹ کا ہے
کہ شیر اور بکری بہم دیکھتے ہیں
یہ کیا دور ہے جس کے پہلو میں ہم تم
ہر اک آن تازہ جنم دیکھتے ہیں
لٹی نم زباں کی تو کس عاجزی سے
فضاؤں کی جانب قلم دیکھتے ہیں
چلیں تیر کھانے پہ بھی ناز سے جو
ہم ان ہی غزالوں کا رم دیکھتے ہیں
جدھر بے بسی کے مناظر ہوں ماجدؔ!
خداوند اُس سمت کم دیکھتے ہیں
ماجد صدیقی

یہ قربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 134
نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے
یہ قربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے
رہا ہے کون کس کے ساتھ انجام سفر تک
یہ آغاز مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے
مزاجوں میں اتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں
سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم تم جانتے تھے
سو اب کیوں ہر کس و ناکس سے یہ شکوہ شکایت
یہ سب سود و زیاں، یہ بیش و کم تم جانتے تھے
فرار اس گمرہی پر کیا کسی کو دوش دینا
کہ راہ عاشقی کے بیچ و خم تم جانتے تھے
احمد فراز

پھر بھی اپنے عہد پر قائم ہیں ہم اپنی جگہ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 86
تیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہ
پھر بھی اپنے عہد پر قائم ہیں ہم اپنی جگہ
کیا کریں یہ دل کسی کی ناصحا سنتا نہیں
آپ نے جو کچھ کہا اے محترم، اپنی جگہ
ہم موحد ہیں بتوں کے پوجنے والے نہیں
پر خدا لگتی کہیں تو وہ صنم اپنی جگہ
یارِ بے پروا! کبھی ہم نے کوئی شکوہ کیا
ہاں مگر ان ناسپاس آنکھوں کا نم اپنی جگہ
محفلِ جاناں ہو، مقتل ہو کہ مے خانہ فراز
جس جگہ جائیں بنا لیتے ہیں ہم اپنی جگہ
احمد فراز

اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں‌ دوستو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 45
تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں‌ دوستو
کس کو ہمارے حال سے نسبت ہے کیا کریں
آنکھیں‌تو دُشمنوں‌کی بھی پرنم ہیں دوستو
اپنے سوا ہمارے نہ ہونے کا غم کسے
اپنی تلاش میں تو ہمی ہم ہیں دوستو
کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا
کچھ شہر کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو
اس شہرِ آرزو سے بھی باہر نکل چلو
اب دل کی رونقیں بھی کوئی دم ہیں دوستو
سب کچھ سہی فراز پر اتنا ضرور ہے
دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں دوستو
احمد فراز

آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 105
وہ فتنہ ساز دے کے گیا ہے یہ دم ابھی
آتا ہوں ہے کے گھر سے تیری قسم ابھی
ظالم وہ دیکھ پاس سے اٹھتے ہیں چارہ گر
تیرے مریضِ ہجر نے توڑا ہے دم ابھی
ان کے لیئے تو کھیل ہے دنیا کا انقلاب
چاہیں تو بتکدے کو بنا دیں حرم ابھی
کیا آپ سا کوئی نہیں ہے جہاں میں
اچھا حضور آئینہ لاتے ہیں ہم ابھی
کوچے سے ان کے اٹھتے ہی یوں بدحواس ہوں
آیا ہوں جیسے چھوڑ کے باغِ ارم ابھی
ذوق الم میں حق سے دعا مانگتا ہوں میں
جتنے بھی مجھ کو دینے ہیں دے دے الم ابھی
شکوے فضول گردشِ دوراں کے اے قمر
یہ آسماں نہ چھوڑے گا جورو ستم ابھی
قمر جلالوی

ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 103
تیرے طعنے سنے سہے غم بھی
ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی
میری میت تو کیا اٹھاؤ گے
تم نہ ہو گے شریکِ ماتم بھی
باغباں برق کیا گلوں پہ گری
ترے گلشن میں لٹ گئے ہم بھی
جلتے رہتے ہیں تری محفل میں
یہ پتنگے بھی، شمع بھی، ہم بھی
کاروانِ رہِ عدم والو
ٹھہرو کپڑے بدل چکے ہیں ہم بھی
قمر جلالوی

پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 42
مجھ پر ہے یہ نزع کا عالم اور
پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور
ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور
گر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور
یہ مئے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اور
تو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور
وہ پوچھتے ہیں دیکھئے یہ طرفہ ستم اور
کس کس نے ستایا ہے تجھے ایک تو ہم اور
وہ دیکھ لو احباب لیے جاتے ہیں میت
لو کھاؤ مریضِ غم فرقت کی قسم اور
اب قبر بھی کیا دور ہے جاتے ہو جو واپس
جب اتنے چلے آئے ہو دو چار قدم اور
قاصد یہ جواب ان کا ہے کس طرح یقین ہو
تو اور بیاں کرتا ہے خط میں ہے رقم اور
موسیٰؑ سے ضرور آج کوئی بات ہوئی ہے
جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور
تربت میں رکے ہیں کہ کمر سیدھی تو کر لیں
منزل ہے بہت دور کی لے لیں ذرا دم اور
یہ بات ابھی کل کی ہے جو کچھ تھے ہمیں تھے
اللہ تری شان کہ اب ہو گئے ہم اور
بے وقت عیادت کا نتیجہ یہی ہو گا
دوچار گھڑی کے لیے رک جائے گا دم اور
اچھا ہوا میں رک گیا آ کر تہِ تربت
پھر آگے قیامت تھی جو بڑھ جاتے قدم اور
ہوتا قمر کثرت و وحدت میں بڑا فرق
بت خانے بہت سے ہیں نہیں ہے تو حرم اور
قمر جلالوی

کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 30
جب رقیبوں کا ستم یاد آیا
کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا
کب ہمیں حاجتِ پرہیز پڑی
غم نہ کھایا تھا کہ سم یاد آیا
نہ لکھا خط کہ خطِ پیشانی
مجھ کو ہنگامِ رقم یاد آیا
شعلۂ زخم سے اے صید فگن
داغِ آہوئے حرم یاد آیا
ٹھیرے کیا دل کہ تری شوخی سے
اضطرابِ پئے ہم یاد آیا
خوبیِ بخت کہ پیمانِ عدو
اس کو ہنگامِ قسم یاد آیا
کھل گئی غیر سے الفت اس کی
جام مے سے مجھے جم یاد آیا
وہ مرا دل ہے کہ خود بینوں کو
دیکھ کر آئینہ کم یاد آیا
کس لئے لطف کی باتیں ہیں پھر
کیا کوئی اور ستم یاد آیا
ایسے خود رفتہ ہو اے شیفتہ کیوں
کہیں اس شوخ کا رم یاد آیا
مصطفٰی خان شیفتہ

ہائے انسان کی انگڑائی کا خم

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 3
دیکھتی رہ گئی محرابِ حرم
ہائے انسان کی انگڑائی کا خم
جب بھی اوہام مقابل آئے
مثلِ شمشیر چلی نوکِ قلم
پرِ پرواز پہ یہ راز کھلا
پستیوں سے تھا بلندی کا بھرم
غم کی دیوار گری تھی جن پر
ہم وہ لوگ ہیں اے قصرِ اِرم
چاندنی غارۂِ پائے جولاں
کہکشاں جادۂِ ابنِ آدم
ایک تارہ بھی نہ پامال ہوا
ایسے گزرے رہِ افلاک سے ہم
شکیب جلالی

ہم میں کچھ دلدار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 195
ہم جان و دل سے یار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
ہم میں کچھ دلدار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
آسان تھے سب کے لیئے جیسے سخن لب کے لئے
اپنے لئے دشوار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
اپنے سے ہم کو بیر تھا، خود اپنا آپا غیر تھا
اپنے سے ہم بیزار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
ہم کون تھے ہم کون تھے ، اندر سے تھےگلزار ہم
باہر سے ہم تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
رنگیں اداؤں کے لئے، شیریں نواؤں کے لئے
ہم سر بہ سر آزار تھے ہم کون تھے ہم کون تھے
جون ایلیا

اب کوئی شکوا ہم نہیں کرتے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 175
دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوا ہم نہیں کرتے
جانِ جاں تجھ کو اب تری خاطر
یاد ہم کوئی دَم نہیں کرتے
دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم
سرِ تسلیم خم نہیں کرتے
وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے
ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے
جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے
جون ایلیا

ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 120
ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیں
ترے رُخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں
غضب ہے نشیب و فرازِ زمانہ
نہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں
تمنا ہے اب ہم کو بے حرمتی کی
سبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں
چلو بے کمند و کماں آج چل کر
غزالوں کا اندازِ رم دیکھتے ہیں
یہی تو محبت ہے یارو کہ اب وہ
ہماری طرف کم سے کم دیکھتے ہیں
خدایا ترے حسنِ تقویم میں ہم
تضادِ وجود و عدم دیکھتے ہیں
نہ روٹھو جو لکھتے ہیں اوروں کو خط ہم
ذرا اپنا زورِ قلم دیکھتے ہیں
کھڑے ہو کہ ہم وقت کے حاششیے پر
فساداتِ دیر وحرم دیکھتے ہیں
جون ایلیا

تھے تمہاری زلف کے خم رائگاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 85
دل تھا درہم اور برہم رائگاں
تھے تمہاری زلف کے خم رائگاں
اپنی ساری آرزوئیں تھیں فریب
اپنے خوابوں کا تھا عالم رائگاں
زندگی بس رائگانی ہی تو ہے
میں بہت خوش ہوں کہ تھے ہم رائگاں
جون شاید کچھ نہیں کچھ بھی نہیں
ہے دوام اک وہم اور دم رائگاں
جون ایلیا

کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 233
عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے
کہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفت
فقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے
غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستی
وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے
خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دینا
کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
تمہارے آئیو اے طرّہ ہائے خم بہ خم آگے
دل و جگر میں پَر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہے
ہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالب
ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 227
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اُس کی گر د ن پر
وہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھر م کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پرپیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
@مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے
جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
کہاں میخانے کا دروازہ غالب! اور کہاں واعظ
پر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
@ نسخۂ حمیدیہ (اور مہر) میں یہاں لفظ "اگر” ہے، دوسرے تمام نسخوں میں "مگر”، صرف طباطبائی نے حمیدیہ کی املا قبول کی ہے۔ ممکن ہے کہ حمیدیہ میں یہ لفظ کتابت کی غلطی ہو۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا طرفہ تمنّا ہے امیدِ کرم تجھ سے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 223
اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے
کیا طرفہ تمنّا ہے امیدِ کرم تجھ سے
امّیدِ نوازش میں کیوں جیتے تھے ہم آخر
سہتے ہی نہیں کوئ جب درد و الم تجھ سے
وارفتگئ دل ہے یا دستِ تصرّف ہے
ہیں اپنے تخیّل میں دن رات بہم تجھ سے
یہ جور و جفا سہنا پھر ترکِ وفا کرنا
اے ہرزہ پـژوہی بس عاجز ہوۓ ہم تجھ سے
غالب کی وفا کیشی اور تیری ستـم رانی
مشہورِ زمانہ ہے اب کیا کہیں ہم تجھ سے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 210
بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے
جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
پنہاں تھا دام سخت قریب@ آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قَسم ہوئے
سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر
وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اللہ ری تیری تندئ خو جس کے بیم سے
اجزائے نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوئے
اہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشق
جو پاؤں اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
جو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے
@ نسخۂ حمیدیہ اور مالک رام میں ” دامِ سخت قریب”
مرزا اسد اللہ خان غالب

خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 174
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں
دل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کے
سویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں
ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
تماشا کر اے محوِ آئینہ داری
تجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں
سراغِ تُفِ نالہ لے داغِ دل سے
کہ شب رَو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

صد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 142
واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
صد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کو
دل کو میں اور مجھے دل محوِ وفا رکھتا ہے
کس قدر ذوقِ گرفتاریِ ہم ہے ہم کو
ضعف سے نقشِ پئے مور، ہے طوقِ گردن
ترے کوچے سے کہاں طاقتِ رم ہے ہم کو
جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امّید بھی ہو
یہ نگاہِ غلط انداز تو سَم ہے ہم کو
رشکِ ہم طرحی و دردِ اثرِ بانگِ حزیں
نالۂ مرغِ سحر تیغِ دو دم ہے ہم کو
سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرّر چاہا
ہنس کے بولے کہ ’ترے سر کی قسم ہے ہم کو!‘
دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ؟ ولیکن ناچار
پاسِ بے رونقیِ دیدہ اہم ہے ہم کو
تم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو
ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی
ہوسِ سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو
مقطعِ سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہر
عزمِ سیرِ نجف و طوفِ حرم ہے ہم کو
لیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع غالب
جادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو
مرزا اسد اللہ خان غالب

تم ہوئے رعنا جواں بالفرض لیکن ہم کہاں

دیوان ششم غزل 1855
دم ہے مہلت شیب میں جانے کا اپنے غم کہاں
تم ہوئے رعنا جواں بالفرض لیکن ہم کہاں
عالم عالم جمع تھے خوباں جہاں صافا ہوا
گرچہ عالم اور ہے اب واں پہ وہ عالم کہاں
تھی بلا شوخی شرارت یار کی ہنگامہ ساز
شور یوں تو اوروں کا بھی ہے پہ وہ اودھم کہاں
کیا جنوں ہے تم کو جو تم طالب ویرانہ ہو
جس کو فردوس بریں کہتے ہیں واں آدم کہاں
حبس دم میں شیخ جو کرتا نہیں حرف و سخن
حق طرف ہے اس کے اس بیہودہ گو میں دم کہاں
ہو سو ہو میں میر اب تو دم بخود ہوں ہجر میں
کیا لکھوں تہ دل کی باتیں کاغذ و محرم کہاں
میر تقی میر

دل نے پہلو تہی کیا ہم سے

دیوان پنجم غزل 1759
ہجر میں خوں ہوا تھا سب غم سے
دل نے پہلو تہی کیا ہم سے
عالم حسن ہے عجب عالم
چاہیے عشق اس بھی عالم سے
طرح چھریوں کی پلکوں سے ڈالی
نکلی تلوار ابرو کے خم سے
نسبت ان بالوں کی درست ہوئی
دیر میں میرے حال درہم سے
درپئے خون میر کے نہ رہو
ہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے
میر تقی میر

بس اب تو کھل گئیں ہیں آنکھیں دیکھا ہم نے دنیا کو

دیوان پنجم غزل 1708
کیا غیرت سے دل پر تنگ رنج و غم نے دنیا کو
بس اب تو کھل گئیں ہیں آنکھیں دیکھا ہم نے دنیا کو
رہا ہے ایک عالم اور دنیاداروں میں اس کا
کیا ہے بے وفا معلوم سب عالم نے دنیا کو
ہمیشہ رونا کڑھنا سینہ کوبی ہر زماں کرنا
عزاخانہ کیا دل کے مرے ماتم نے دنیا کو
سنا میں نے کہ آخر ہاتھ اٹھایا اس نے دنیا سے
اگر پایا بھی محنت کر کسو ہمدم نے دنیا کو
زمیں سے آسماں تک میر ہے شور جنوں میرا
تہ و بالا کیا دونوں میں اس اودھم نے دنیا کو
میر تقی میر

پر اس ستم سے بامزہ لطف و کرم نہیں

دیوان پنجم غزل 1692
ہر چند میرے حق میں کب اس کا ستم نہیں
پر اس ستم سے بامزہ لطف و کرم نہیں
درویش جو ہوئے تو گیا اعتبار سب
اب قابل اعتماد کے قول و قسم نہیں
حیرت میں سکتے سے بھی مرا حال ہے پرے
آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا تو دم نہیں
مستغنی کس قدر ہیں فقیروں کے حال سے
یاں بار غم سے خم ہوئے واں بھوویں خم نہیں
شاید جگر کا کام تمامی کو کھنچ گیا
یا لوہو روتے رہتے تھے یا چشم نم نہیں
غم اس کا کچھ نہیں ہمیں گو لوگ کچھ کہیں
یہ التفات ان نے جو کی ہے سو کم نہیں
کہنے لگا کہ میر تمھیں بیچوں گا کہیں
تم دیکھیو نہ کہیو غلام اس کے ہم نہیں
میر تقی میر

محل رحم ہوویں کس طرح مظلوم ہم تیرے

دیوان چہارم غزل 1509
نہ خاطر پر الم تیرے نہ دل پر کچھ ستم تیرے
محل رحم ہوویں کس طرح مظلوم ہم تیرے
جو ٹک بھی سایہ گستر ہو گا تو اس خشک مزرع پر
بہت ہم ہوں گے احساں مند اے ابر کرم تیرے
انھیں کی طبع جان میر مائل ہو گی سنبل کی
نہیں دیکھے جنھوں نے گیسوے پرپیچ و خم تیرے
میر تقی میر

ناز و غرور بہت ہے اس کا لطف نہیں ہے کم کم بھی

دیوان چہارم غزل 1487
میں تو تنک صبری سے اپنی رہ نہیں سکتا اک دم بھی
ناز و غرور بہت ہے اس کا لطف نہیں ہے کم کم بھی
جامۂ احرام آخر تہ کر دل کی اور توجہ کی
در پہ حرم کے اس لیے تھے ہم کوئی ملے گا محرم بھی
دیکھ ہوا کو طائر گلشن کس حسرت سے کہتے تھے
گل ہی چلے جاتے نہیں یاں سے چلنے کو بیٹھے ہیں ہم بھی
کیا کیا میں بیتاب رہا ہوں رنج و الم سے محبت کے
ہے عالم کچھ اور ہی میرے دل کے مرض کا عالم بھی
پنبہ و داغ کیا ہے کیا کیا اچھے ہونے والے نہ تھے
زخموں پر چھاتی کے میری رکھ دیکھو نہ مرہم بھی
گرم ہوا ہے ہو گا جوہر سیر چمن کی کر لیجے
پھول بکھرتے جاتے ہیں کچھ آخر ہے اب موسم بھی
نعل جڑے سینے کو کوٹا چہرے نچے پر خاک ملی
میر کیا ہے میں نے نہایت دل جانے کا ماتم بھی
میر تقی میر

ستم سا ستم ہو گیا اس میں ہم پر

دیوان چہارم غزل 1387
کیا صبر ہم نے جو اس کے ستم پر
ستم سا ستم ہو گیا اس میں ہم پر
لکھا جو گیا اس کو کیا نقل کریے
سخن خونچکاں تھے زبان قلم پر
جھکے ٹک جدھر جھک گئے لوگ اودھر
رہی درمیاں تیغ ابرو کے خم پر
سخن زن ہوں ہر چند وے مست آنکھیں
نہیں اعتماد ان کے قول و قسم پر
جگر ہے سزا میر اس رنج کش کو
گیا دو قدم جو ہمارے قدم پر
میر تقی میر

وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو

دیوان سوم غزل 1228
بہرفردوس ہو آدم کو الم کاہے کو
وقف اولاد ہے وہ باغ تو غم کاہے کو
کہتے ہیں آوے گا ایدھر وہ قیامت رفتار
چلتے پھرتے رہیں گے تب تئیں ہم کاہے کو
یہ بھی اک ڈھب ہے نہ ایذا نہ کسو کو راحت
رحم موقوف کیا ہے تو ستم کاہے کو
نرگس ان آنکھوں کو جو لکھ گئے نابینا تھے
اپنے نزدیک ہیں وے دست قلم کاہے کو
اس کی تلوار سے گر جان کو رکھتے نہ عزیز
مرتے اس خواری سے تو صید حرم کاہے کو
چشم پوشی کا مری جان تمھیں لپکا ہے
کھاتے ہو دیدہ درائی سے قسم کاہے کو
میری آنکھوں پہ رکھو پائوں جو آئو لیکن
رکھتے ہو ایسی جگہ تم تو قدم کاہے کو
دل کو کہتے ہیں کہ اس گنج رواں کا گھر ہے
اس خرابے میں کرے ہے وہ کرم کاہے کو
شور نے نام خدا ان کے بلا سر کھینچا
میر سا ہے کوئی عالم میں علم کاہے کو
میر تقی میر

ایسی جنت گئی جہنم میں

دیوان سوم غزل 1202
جائے ہے جی نجات کے غم میں
ایسی جنت گئی جہنم میں
نزع میں میرے ایک دم ٹھہرو
دم ابھی ہیں ہزار اک دم میں
نعل ہم چھاتیوں پہ جڑ کے پھرے
اپنے خوں گشتہ دل کے ماتم میں
ہے بہت جیب چاکی ہی جوں صبح
کیا کیا جائے فرصت کم میں
پرکے تھی بے کلی قفس میں بہت
دیکھیے اب کے گل کے موسم میں
آپ میں ہم نہیں تو کیا ہے عجب
دور اس سے رہا ہے کیا ہم میں
بے خودی پر نہ میر کی جائو
تم نے دیکھا ہے اور عالم میں
میر تقی میر

پر تنگ آگئے ہیں تمھارے ستم سے ہم

دیوان سوم غزل 1166
جی کے تئیں چھپاتے نہیں یوں تو غم سے ہم
پر تنگ آگئے ہیں تمھارے ستم سے ہم
اپنے خیال ہی میں گذرتی ہے اپنی عمر
پر کچھ نہ پوچھو سمجھے نہیں جاتے ہم سے ہم
زانو پہ سر ہے قامت خم گشتہ کے سبب
پیری میں اپنی آن لگے ہیں قدم سے ہم
جوں چکمہ میرحاج کا ہے خوار جانماز
بت خانے میں جو آئے ہیں چل کر حرم سے ہم
روتے بھی ان نے دیکھ کے ہم کو کیا نہ رحم
اک چشم داشت رکھتے تھے مژگان نم سے ہم
بدعہدیاں ہی کرتے گئے اس کو سال و ماہ
اب کب تسلی ہوتے ہیں قول و قسم سے ہم
زنار سا بندھا ہے گلے اپنے اب تو کفر
بدنام ہیں جہان میں عشق صنم سے ہم
لوگوں کے وصف کرنے سے بالیدگی ہوئی
جوں شیشہ پھیل پھوٹ پڑے ان کے دم سے ہم
طرفیں رکھے ہے ایک سخن چار چار میر
کیا کیا کہا کریں ہیں زبان قلم سے ہم
میر تقی میر

دل کے جانے کا بڑا ماتم ہوا

دیوان سوم غزل 1076
سینہ کوبی ہے طپش سے غم ہوا
دل کے جانے کا بڑا ماتم ہوا
آنکھیں دوڑیں خلق جا اودھر گری
اٹھ گیا پردہ کہاں اودھم ہوا
کیا لکھوں رویا جو لکھتے جوں قلم
سب مرے نامے کا کاغذ نم ہوا
ہم جو اس بن خوار ہیں حد سے زیاد
یار یاں تک آن کر کیا کم ہوا
آگیا یوں ہی خراماں وہ تو پھر
حشر کا ہنگامہ ہی برہم ہوا
درہمی سے برہمی سے دیکھیو
دونوں عالم کا عجب عالم ہوا
جسم خاکی کا جہاں پردہ اٹھا
ہم ہوئے وہ میر سب وہ ہم ہوا
میر تقی میر

کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے

دیوان دوم غزل 1012
گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے
کیسے کیسے ہائے اپنے دیکھتے موسم گئے
ہنستے رہتے تھے جو اس گلزار میں شام و سحر
دیدئہ تر ساتھ لے وے لوگ جوں شبنم گئے
گر ہوا اس باغ کی ہے یہ تو اے بلبل نہ پھول
کوئی دن میں دیکھیو واں وے گئے یاں ہم گئے
کیا کم اس خورشیدرو کی جستجو یاروں نے کی
لوہو روتے جوں شفق پورب گئے پچھم گئے
جی گیا یاں بے دماغی سے انھوں کی اور واں
نے جبیں سے چیں گئی نے ابروئوں سے خم گئے
شاید اب ٹکڑوں نے دل کے قصد آنکھوں کا کیا
کچھ سبب تو ہے جو آنسو آتے آتے تھم گئے
گرچہ ہستی سے عدم تک اک مسافت تھی بعید
پر اٹھے جو ہم یہاں سے واں تلک اک دم گئے
کیا معاش اس غم کدے میں ہم نے دس دن کی بہم
اٹھ کے جس کے ہاں گئے دل کا لیے ماتم گئے
سبزہ و گل خوش نشینی اس چمن کی جن کو تھی
سو بھی تو دیکھا گریباں چاک و مژگاں نم گئے
مردم دنیا بھی ہوتے ہیں سمجھ کس مرتبہ
آن بیٹھے نائوں کو تو یاں نگیں سے جم گئے
ربط صاحب خانہ سے مطلق بہم پہنچا نہ میر
مدتوں سے ہم حرم میں تھے پہ نامحرم گئے
میر تقی میر

ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے

دیوان دوم غزل 1010
اب اپنے قد راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے
ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے
سنتے تھے کہ جاتی ہے ترے دیکھنے سے جاں
اب جان چلی جاتی ہے ہم دیکھتے ہیں ہائے
کیا روتے ہیں یاران گذشتہ کے لیے ہم
جب راہ میں کچھ نقش قدم دیکھتے ہیں ہائے
کچھ عشق کی آتش کی لپٹ پہنچی ہمیں زور
سب تن بدن اپنے کو بھسم دیکھتے ہیں ہائے
دل چاک ہے جاں داغ جگر خوں ہے ہمارا
ان آنکھوں سے انواع ستم دیکھتے ہیں ہائے
مایوس نہ کس طور جہاں سے رہیں ہم میر
اب تاب بہت جان میں کم دیکھتے ہیں ہائے
میر تقی میر

تڑپا ہزار نوبت دل ایک ایک دم میں

دیوان دوم غزل 878
کیا کوفتیں اٹھائیں ہجراں کے درد وغم میں
تڑپا ہزار نوبت دل ایک ایک دم میں
گو قیس منھ کو نوچے فرہاد سر کو چیرے
یہ کیا عجب ہے ایسے ہوتے ہیں لوگ ہم میں
اہل نظر کسو کو ہوتی ہے محرمیت
آنکھوں کے اندھے ہم تو مدت رہے حرم میں
کلفت میں گذری ساری مدت تو زندگی کی
آسودگی کا منھ اب دیکھیں گے ہم عدم میں
کرتے ہیں میر مل کر واعظ سے حبس دم کا
کیا یہ بھی آگئے ہیں اس پوچ گو کے دم میں
میر تقی میر

تنہائی ایک ہے سو ہے اس کے ستم شریک

دیوان دوم غزل 841
ہم بیکسوں کا کون ہے ہجراں میں غم شریک
تنہائی ایک ہے سو ہے اس کے ستم شریک
دم رک کے ووہیں کہیو اگر مر نہ جائے وہ
ہو میرے حال کا جو کوئی ایک دم شریک
خوں ہوتے ہوتے ہوچکے آخر کہاں تلک
اب دل جگر کہیں نہیں ہیں تیرے ہم شریک
دل تنگ ہوجیے تو نہ ملیے کسو کے ساتھ
ہوتے ہیں ایسے وقت میں یہ لوگ کم شریک
شاید کہ سرنوشت میں مرنا ہے گھٹ کے میر
کاغذ نہ محرم غم دل نے قلم شریک
میر تقی میر

چھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے

دیوان اول غزل 582
ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے
چھیڑ رکھی ہے تم نے کیا ہم سے
مند گئی آنکھ ہے اندھیرا پاک
روشنی ہے سو یاں مرے دم سے
تم جو دلخواہ خلق ہو ہم کو
دشمنی ہے تمام عالم سے
درہمی آگئی مزاجوں میں
آخر ان گیسوان درہم سے
سب نے جانا کہیں یہ عاشق ہے
بہ گئے اشک دیدئہ نم سے
مفت یوں ہاتھ سے نہ کھو ہم کو
کہیں پیدا بھی ہوتے ہیں ہم سے
اکثر آلات جور اس سے ہوئے
آفتیں آئیں اس کے مقدم سے
دیکھ وے پلکیں برچھیاں چلیاں
تیغ نکلی اس ابروے خم سے
کوئی بیگانہ گر نہیں موجود
منھ چھپانا یہ کیا ہے پھر ہم سے
وجہ پردے کی پوچھیے بارے
ملیے اس کے کسو جو محرم سے
درپئے خون میر ہی نہ رہو
ہو بھی جاتا ہے جرم آدم سے
میر تقی میر

رہ سکے ہے تو تو رہ یاں ہم چلے

دیوان اول غزل 520
ہم تو اس کے ظلم سے ہمدم چلے
رہ سکے ہے تو تو رہ یاں ہم چلے
ٹوٹے جوں لالہ ستاں سے ایک پھول
ہم لے یاں سے داغ یک عالم چلے
جبنش ابرو تو واں رہتی نہیں
کب تلک تلوار یاں ہر دم چلے
نم جگر کے آیا آخر ہو گئے
اشک خونیں کچھ مژہ پر جم چلے
دیکھیے بخت زبوں کیا کیا دکھائے
تم تو خوباں ہم سے ہو برہم چلے
بھاگنے پر بیٹھے تھے گویا غزال
تیری آنکھیں دیکھتے ہی رم چلے
مجھ سے ناشائستہ کیا دیکھا کہ میر
آتے آتے کچھ جو آنسو تھم چلے
میر تقی میر

پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے

دیوان اول غزل 475
کب سے نظر لگی تھی دروازئہ حرم سے
پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے
صورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے تو
کھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے
سوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کے
جلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے
طاعت کا وقت گذرا مستی میں آب رز کی
اب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے
کڑھیے نہ رویئے تو اوقات کیونکے گذرے
رہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے
مشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسی
پر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے
بات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کو
بالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے
کیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھے
تب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے
ہستی میں ہم نے آکر آسودگی نہ دیکھی
کھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے
پامال کرکے ہم کو پچھتائوگے بہت تم
کمیاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے
دل دو ہو میر صاحب اس بدمعاش کو تم
خاطر تو جمع کرلو ٹک قول سے قسم سے
میر تقی میر

اس زمانے میں گئی ہے برکت غم سے بھی

دیوان اول غزل 431
دل کو تسکین نہیں اشک دمادم سے بھی
اس زمانے میں گئی ہے برکت غم سے بھی
ہم نشیں کیا کہوں اس رشک مہ تاباں بن
صبح عید اپنی ہے بدتر شب ماتم سے بھی
کاش اے جان المناک نکل جاوے تو
اب تو دیکھا نہیں جاتا یہ ستم ہم سے بھی
آخرکار محبت میں نہ نکلا کچھ کام
سینہ چاک و دل پژمردہ مژہ نم سے بھی
آہ ہر غیر سے تاچند کہوں جی کی بات
عشق کا راز تو کہتے نہیں محرم سے بھی
دوری کوچہ میں اے غیرت فردوس تری
کام گذرا ہے مرا گریۂ آدم سے بھی
ہمت اپنی ہی تھی یہ میر کہ جوں مرغ خیال
اک پرافشانی میں گذرے سرعالم سے بھی
میر تقی میر

گوش گل سے لگتے تھے جاکے سو وہ موسم نہیں

دیوان اول غزل 364
نالۂ قید قفس سے چھوٹ اب اک دم نہیں
گوش گل سے لگتے تھے جاکے سو وہ موسم نہیں
ہم پہ کھینچی تیغ تو غیروں کو ٹک لگنے نہ دے
وے اگر ہوویں گے اس کے درمیاں تو ہم نہیں
بت برہمن کوئی نامحرم نہیں اللہ کا
ہے حرم میں شیخ لیکن میر وہ محرم نہیں
میر تقی میر

کنواں اندھا ہوا یوسفؑ کے غم میں

دیوان اول غزل 331
نہ اک یعقوبؑ رویا اس الم میں
کنواں اندھا ہوا یوسفؑ کے غم میں
کہوں کب تک دم آنکھوں میں ہے میری
نظر آوے ہی گا اب کوئی دم میں
دیا عاشق نے جی تو عیب کیا ہے
یہی میر اک ہنر ہوتا ہے ہم میں
میر تقی میر

نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں

دیوان اول غزل 322
اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں
جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد
ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں
گہے داغ رہتا ہے دل گہ جگر خوں
ان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم
ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں
لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو
گہے کاغذ و گہ قلم دیکھتے ہیں
وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ
اب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں
کہاں تک بھلا روئوگے میر صاحب
اب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں
میر تقی میر

دستۂ داغ و فوج غم لے کر

دیوان اول غزل 223
ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر
دستۂ داغ و فوج غم لے کر
دست کش نالہ پیش رو گریہ
آہ چلتی ہے یاں علم لے کر
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
اس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک
غم دوری چلے ہیں ہم لے کر
تیری وضع ستم سے اے بے درد
ایک عالم گیا الم لے کر
بارہا صید گہ سے اس کی گئے
داغ یاس آہوے حرم لے کر
ضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گر
رہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر
دل پہ کب اکتفا کرے ہے عشق
جائے گا جان بھی یہ غم لے کر
شوق اگر ہے یہی تو اے قاصد
ہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر
میر صاحب ہی چوکے اے بد عہد
ورنہ دینا تھا دل قسم لے کر
میر تقی میر

ترا حُسن دستِ عیسیٰ ، تری یاد رُوئے مریم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 16
یہ جفائے غم کا چارہ ، وہ نَجات دل کا عالم
ترا حُسن دستِ عیسیٰ ، تری یاد رُوئے مریم
دل و جاں فدائے راہے کبھی آکے دیکھ ہمدم
سرِ کوئے دل فگاراں شبِ آرزو کا عالم
تری دِید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گِری ہے ترے گیسوؤں کی شبنم
یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگزر میں گزراں
نہ ہُوا کہ مَرمِٹیں ہم ، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم
لو سُنی گئی ہماری ، یُوں پِھرے ہیں دن کہ پھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے ، وہی فصلِ گُل کا ماتم
لاہورجیل
فیض احمد فیض

غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 137
ہوائے دشت کو زیر قدم کریں دونوں
غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں
ذرا سا رقص شرر کر کے خاک ہو جائیں
جو رفتگاں نے کیا ہے وہ ہم کریں دونوں
یہ شام عمر، یہ خواہش کی تیز روشنیاں
لویں اب اپنے چراغوں کی کم کریں دونوں
اکیلا شخص کسے حال دل سنانے جائے
کبھی ملیں تو بچھڑنے کا غم کریں دونوں
خطوں میں کچھ تو قرینہ ہو دل نوازی کا
کوئی تو حرف شکایت رقم کریں دونوں
عرفان صدیقی

کچھ تو کہیے آپ کے ہم کیا ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 505
محرم دل، غیر محرم کیا ہوئے
کچھ تو کہیے آپ کے ہم کیا ہوئے
کیا ہوئے وہ بانسری کے نرم سُر
وہ کنارِ آب شیشم کیا ہوئے
کس گلی میں رک گیا سچ کا جلوس
سرپھروں کے اونچے پرچم کیا ہوئے
رک گیا دل ، تھم گئی نبضِ حیات
وقت کے سنگیت مدہم کیا ہوئے
گاؤں کے چھتنار پیڑوں کے تلے
وہ جوتھے سوچوں کے سنگم کیا ہوئے
خوبرو تھی جو محبت کیا ہوئی
وہ ہمارے دلرباغم کیا ہوئے
کیا ہوا آہنگ بہتی نظم کا
لفظ جو ہوتے تھے محکم کیا ہوئے
سنگ باری کی رتیں کیوں آگئیں
قربتوں کے سرخ ریشم کیا ہوئے
کیا ہوئی منصوررنگوں کی بہار
شوخ دوپٹوں کے موسم کیا ہوئے
منصور آفاق

یعنی ہے ایک کوچۂ ماتم میں زندگی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 470
گزری تمام ماہِ محرم میں زندگی
یعنی ہے ایک کوچۂ ماتم میں زندگی
کیسا عجب تھا اس کی اچٹتی نظر کا فیض
ساری بدل گئی ہے مری دم میں زندگی
صحرا کی دو پہر سے مسلسل میں ہم کلام
پھرتی ہے دشت دشت شبِ غم میں زندگی
کچھ کچھ سرکتی ہے کوئی ٹوٹی ہوئی چٹان
چلتی نہیں فراق کے موسم میں زندگی
ہرشام ایک مرثیہ ہر صبح ایک بین
اک چیخ ہے شعور کے عالم میں زندگی
منصور دوگھروں میں ہے آباد ایک جسم
تقسیم آدھی آدھی ہوئی ہم میں زندگی
منصور آفاق

شہر میں گندم و بارود بہم گرتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 385
من و سلویٰ لیے ا فلاک سے بم گرتے ہیں
شہر میں گندم و بارود بہم گرتے ہیں
فتح مندی کی خبر آتی ہے واشنگٹن سے
اور لاہور کے ۸۷یہر روز علم گرتے ہیں
زرد پتے کی کہانی تو ہے موسم پہ محیط
ٹوٹ کے روز کہیں شاخ سے ہم گرتے ہیں
رقص ویک اینڈ پہ جتنا بھی رہے تیز مگر
طے شدہ وقت پہ لوگوں کے قدم گرتے ہیں
شہر کی آخری خاموش سڑک پر جیسے
میرے مژگاں سے سیہ رات کے غم گرتے ہیں
جانے کیا گزری ہے اس دل کے صدف پر منصور
ایسے موتی تو مری آنکھ سے کم گرتے ہیں
منصور آفاق

احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 25
کھولی ہیں تم نے آنکھیں اے حادثو ہماری
احسان یہ نہ ہر گز بھولیں گے ہم تمہارا
ہوتے ہی تم تو پیدل کچھ رو دئیے سوارو
ہے لاکھ لاکھ من کا ایک اک قدم تمہارا
رستے میں گر نہ ٹھہرے تو تم بھی جا ملو گے
گزرا ابھی ہے یاں سے خیل و حشم تمہارا
پھرتے ادھر ادھر ہو کس کی تلاش میں تم
گم ہے تمہیں میں یارو باغ ارم تمہارا
جادو رقم تو مانیں، ہم دل سے تم کو حالیؔ
کچھ کر کے بھی دکھائے زور قلم تمہارا
الطاف حسین حالی

ہم

اے زمیں! گھاس تیری ہری نظم ہے

تو جسے ہر جگہ، ہر اُفق پر، سمندر کی گہرائیوں میں

سدا گنگناتی رہی

جو کبھی کوہساروں کے پرچم کا کتبہ بنی

تو زمستاں کے عفریت نے تیز داتنوں سے کترا اُسے

اور پھر کف اُڑا کے ہوا میں بکھیرا اُسے

راستوں میں اگُی

تو وہاں تہ بہ تہ گرد نے اُس کے نقشوں کو مدہم کیا

سبز معصومیوں کو سدا

منجنیق اور نیپام کی نفرتیں بدبوؤں سے شرابور کرتی رہیں

بارہا راکھ بکھری

زمیں پر کئی پیلے پیکر زمانوں کے شانے لگے

پر ہمیشہ ہوا یوں

کہ ماں سبز اولاد جنتی رہی

نظم بنتی رہی

آفتاب اقبال شمیم

کون کرتا ہے کرم دیوانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 220
کس توقع جئیں ہم دیوانے
کون کرتا ہے کرم دیوانے
پاسِ حالات بجا ہے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم دیوانے
اس زمانے میں وفا کا دعویٰ
خود پہ کرتے ہیں ستم دیوانے
زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے
کھو نہ دیں اپنا بھرم دیوانے
چونک چونک اٹھے خرد کے بندے
جب بھی مل بیٹھے بہم دیوانے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں عنواں کوئی
کر کے افسانہ رقم دیوانے
کھا گئے قحط جنوں میں باقیؔ
بیچ کر لوح و قلم دیوانے
باقی صدیقی

تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 192
رک گئی برسات، ساغر تھم گئے
تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے
کیا سمجھ سکتے وہ اسرار چمن
جو چمن میں صورت شبنم گئے
ایک عالم سرنگوں پایا گیا
جس طرف ہم لے کے تیرا غم گئے
غم کے ہیں یا ضبط غم کے ترجماں
اشک جو پلکوں پہ آ کر تھم گئے
اس کے آگے کیا ہوا باقیؔ نہ پوچھ
بارگاہ حسن تک تو ہم گئے
باقی صدیقی

حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 190
آپ کب مائلِ کرم نہ ہوئے
حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے
خیر ہو تیری کم نگاہی کی
ہم کبھی بے نیاز غم نہ ہوئے
آج ہی آئے سینکڑوں الزام
آج ہی انجمن میں ہم نہ ہوئے
لوح آزاد ہے قلم آزاد
پھر بھی کچھ حادثے رقم نہ ہوئے
شمع کی طرح ہم جلے باقیؔ
پھر بھی آگاہ راز غم نہ ہوئے
باقی صدیقی

چل کے دو چار قدم دیکھتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 128
آپ ہیں دور کہ ہم دیکھتے ہیں
چل کے دو چار قدم دیکھتے ہیں
اپنی آواز پہ رحم آتا ہے
اس بلندی پہ ستم دیکھتے ہیں
ہم سفر کیسے کہ ہم مڑ مڑ کے
اپنے ہی نقش قدم دیکھتے ہیں
زلزلہ کوئی ادھر سے گزرا
تیری دیوار میں خم دیکھتے ہیں
قافلے شوق حرم سے گزرے
اوج پر بخت صنم دیکھتے ہیں
زندگی جنتی بلند اڑتی ہے
درد ہم اتنا ہی کم دیکھتے ہیں
جب کسی غم کا سوال آتا ہے
صورت اہل کرم دیکھتے ہیں
ریگ ساحل ہے مقدر اپنا
کیا ہر اک موج میں ہم دیکھتے ہیں
کتنا خوں اپنا جلا کر باقیؔ
صورت نان و درم دیکھتے ہیں
باقی صدیقی

لے تری بزم سے ہم جاتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 125
پی کے تلخابۂ غم جاتے ہیں
لے تری بزم سے ہم جاتے ہیں
جب سے اٹھ آئے تری محفل سے
ہم کہیں اور بھی کم جاتے ہیں
جانے اس راہ میں کیا کھو آئے
روز کچھ ڈھونڈنے ہم جاتے ہیں
ان کے غصے کے نہ تیور بدلے
ورنہ طوفان بھی تھم جاتے ہیں
جب سے ٹوٹا ہے سفینہ باقیؔ
ساتھ ہر موج کے ہم جاتے ہیں
باقی صدیقی

ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 89
نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو
کھڑا ہوں دل کے دوراہے پہ ہاتھ پھیلائے
چھپائے چھپتے نہیں زندگی کے غم اب تو
نئے خیال نئے فاصلوں کے ساتھ آئے
نہ مل سکیں گے کسی راستے پہ ہم اب تو
مسافران محبت کا انتظار نہ کر
کہ دل میں آ گئے راہوں کے پیچ و خم اب تو
نکل گیا ہے سفینہ ترا کدھر باقیؔ
صدائیں آتی ہیں ساحل سے دم بہ دم اب تو
باقی صدیقی

وہ نگاہیں اٹھیں مگر کم کم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 17
دل پہ کچھ کھل سکا نہ راز غم
وہ نگاہیں اٹھیں مگر کم کم
اس طرح ہو گئے جدا جیسے
راہ میں یوں ہی مل گئے تھے ہم
آرزو راستے میں چھوڑ گئی
ہم ہیں اور زندگی کے پیچ و خم
پستیاں بھی گریز کرنے لگیں
کس بلندی سے گر رہے ہیں ہم
لب گل بھی نہ تر ہوئے باقیؔ
رات برسی کچھ اس طرح شبنم
باقی صدیقی