ٹیگ کے محفوظات: ہم (٢)

ہم (٢)

یہ زمیں، یہ سمندر، یہ کہسار، یہ آسماں

اور ہم ایک ہیں

برگ و گل، شاخ و طائر، زمان و مکاں

اور لوح و قلم ایک ہیں

اے اندھیرے میں سوئے ہوئے فاتحو!

شرمساری سے ہم سرجھکائے کھڑے ہیں، ہمیں

آ کے لوٹاؤ

اتلاف کی تیغ سے ساری لُوٹی ہوئی بستیاں

سارے مارے ہوئے نوجواں

اورجن شاعروں نے تمہارے قصیدے لکھے

ان سے آ کر کہو

اپنی توقیر کی خلعتیں پھینک دیں

دل کی پس ماندگی کے نوشتوں پہ اپنی ملامت کریں

کون کس سے بڑا ہے۔۔۔۔ کہو!

برتری کی روایت یہاں کمتروں نے رکھی

وہ جو فطرت کی آواز سے منحرف ہو گئے

ساعدِ خاک کو بے حنا کر کے

بدصورتی سے بیاہے گئے۔۔۔۔

زندگی آسمانوں کی جانب لپکتی ہوئی

روشنی کے سفر میں

ستارے، مہ و مہر، سیرِ زمیں پہ ہمیشہ سے نکلے ہوئے

ایک قرطاس پر ایک تصویر پھیلی ہوئی

اور تم۔۔۔۔ فرق و تفریق کے پیشواؤں کی تقلید میں

تنگیوں کی کمندوں سے پھیلی ہوئی وسعتیں

صید کرنے پہ مامور ہو

دن کو شب اور پھر شب کو دن میں بدلتے ہوئے وقت سے

ایک لمحے کی عریانیاں مانگ کر

خود کو دیکھو کبھی

’’ہست‘‘ کے سارے رشتے تمہارے حوالے سے ہیں

اپنی طے کردہ سچائیوں کی نظربندیاں توڑ کر

رقص کرتے ستاروں کے نغمے سنو!

مہر کے زر سے کیسے تونگر ہوئی ہے زمیں

کس طرح مٹیوں کے بدن میں کرن ڈوب کر

آسماں کی نیازیں

کبھی رنگ و خوشبو، کبھی نخل و انساں، کبھی ناچ کے، گیت کے

روپ میں۔۔۔۔ بانٹتی ہے

کہو! کون کس سے بڑا ہے

کہو!

آفتاب اقبال شمیم