ٹیگ کے محفوظات: ہم تو لہریں ہیں

ہم تو لہریں ہیں

ہم تو جیسے لہریں ہیں

آسمان کو

چھونے کی خواہش میں

ہم جست لگائیں

تو لگتا ہے

پانی سے شاخیں پھوٹ پڑی ہیں

ہم تو پل چھن میں

اپنے ہونے کا مظاہرہ کر کے

اس ہیئت میں کھو جاتے ہیں

جو ہمیں بے ہیئت کر دیتی ہے

دھرتی کے تہ در تہ رازوں میں رقصاں

اس موجود میں جو موجود ہے

سب کو اپنے جال میں جکڑے ہوئے ہے

ہم سب لاکھوں تار و پود میں گندھے ہوئے ہیں

توقیر عباس