ٹیگ کے محفوظات: ہمکلام

جُنوں کے نام ہر اِک سمت سے سلام آئے

فرازِ دار پہ جب ہم فلک مقام آئے
جُنوں کے نام ہر اِک سمت سے سلام آئے
ہمیَں نہیں پَڑی منزل وہ لن ترانی کی
ابھی گئے ہیں ابھی ہوکے ہمکلام آئے
چھِڑا ہے ذکر کہ ہے کون منتظر کس کا
مری دُعا ہے ترے ساتھ میرا نام آئے
یقیں کو بھی ہو جہاں جستجوئے نادیدہ
رہِ حیات میں اپنی نہ وہ مقام آئے
خدا کا شکر ہے اُس نے بچا لیا ضامنؔ
مرے رفیق کہیِں بھی نہ میرے کام آئے
ضامن جعفری

آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہمکلامِ غم

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 7
بھیجا ہے مے کدے سے کسی نے پیامِ غم
آؤ کہ منتظر ہے کوئی ہمکلامِ غم
لے جائے اب جہاں کہیں شبدیزِ زندگی
تھامی ہوئی ہے ہاتھ میں ہم نے زمامِ غم
یوں اپنے ظرف کا نہ تمسخر اُڑائیے
سر پر اُنڈیلئے، یہ بچا ہے جو جامِ غم
آئے گا ایک رقعۂ خالی جواب میں
اُس کے بجائے بھیجئے نامہ بہ نامِ غم
مفرورِ معتبر ہیں ، ملیں گے یہیں کہیں
اپنے زیاں کے کھوج میں والا کرامِ غم
سب کو بلائے عشرت ارزاں نے کھا لیا
اب تو ہی رہ گیا ہے برائے طعامِ غم
آفتاب اقبال شمیم

تمہاری یاد سے دل ہمکلام رہتا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 30
تمہارے حسن سے رہتی ہے ہمکنار نظر
تمہاری یاد سے دل ہمکلام رہتا ہے
رہی فراغتِ ہجراں تو ہو رہے گا طے
تمہاری چاہ کا جو جو مقام رہتا ہے
قطعہ
فیض احمد فیض