ٹیگ کے محفوظات: ہمنوا

سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 96
چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی
سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی
لباسِ غم میں تو وہ اور بن گیا قاتل
سجی ہے کیسی، کسی پر قبا اداسی کی
غزل کہوں تو خیالوں کی دھند میں مجھ سے
کرے کلام کوئی اپسرا اداسی کی
خیالِ یار کا بادل اگر کھلا بھی کبھی
تو دھوپ پھیل گئی جا بجا اداسی کی
بہت دنوں سے تیری یاد کیوں نہیں آئی
وہ میری دوست میری ہمنوا اداسی کی
فراز نے تجھے دیکھا تو کس قدر خوش تھا
پھر اُس کے بعد چلی وہ ہوا اداسی کی
احمد فراز

جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 18
مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا
وہ اپنے زعم میں تھا، بے خبر رہا مجھ سے
اسے گماں بھی نہیں میں نہیں رہا اس کا
وہ برق رو تھا مگر رہ گیا کہاں جانے
اب انتظار کریں گے شکستہ پا اس کا
چلو یہ سیل بلا خیز ہی بنے اپنا
سفینہ اس کا، خدا اس کا، ناخدا اس کا
یہ اہل درد بھی کس کی دہائی دیتے ہیں
وہ چپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہمنوا اس کا
ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فراز
وہ چاہتا تھا مگر حوصلہ نہ تھا اس کا
احمد فراز

حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 148
آرزو کی ہے اس ادا کے ساتھ
حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ
موج حالات کا فریب نہ پوچھ
ہم ابھرتے ہیں ہر صدا کے ساتھ
اپنی آواز پر گماں کیسا
ہو گئے چپ نہ ہمنوا کے ساتھ
بات کی داستان کیا معنی
درد تھا درد آشنا کے ساتھ
اپنا دامن بھی وہ بچاتے ہیں
بے تکلف بھی ہیں گدا کے ساتھ
ایسے موسم کی انتہا معلوم
دل برسنے لگا گھٹا کے ساتھ
کسی گل کے نہ ہم رہے باقیؔ
دو قدم کیا چلے صبا کے ساتھ
باقی صدیقی