ٹیگ کے محفوظات: ہمسائے

بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے

دیوان ششم غزل 1909
کیا طرح ہے یاں جو آئے ہو تو شرمائے ہوئے
بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے
اس مرے نوباوئہ گلزار خوبی کے حضور
اور خوباں جوں خزاں کے گل ہیں مرجھائے ہوئے
چھپ کے دیکھا ہمرہاں نے اس کو سو غش آگیا
حیف بیخود ہو گئے ہم پھر بخود آئے ہوئے
ہر زماں لے لے اٹھو ہو تیغ بیٹھا مجھ کو دیکھ
آئے ہو مستانہ کس دشمن کے بہکائے ہوئے
گھر میں جی لگتا نہیں اس بن تو ہم ہوکر اداس
دور جاتے ہیں نکل ہجراں سے گھبرائے ہوئے
ایک دن موے دراز اس کے کہیں دیکھے تھے میں
ہیں گلے کے ہار اب وے بال بل کھائے ہوئے
دشمنی سے سایۂ عاشق کو جو مارے ہے تیر
اس کماں ابرو کے جاکر میر ہمسائے ہوئے
میر تقی میر

اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز

دیوان پنجم غزل 1624
اس بستر افسردہ کے گل خوشبو ہیں مرجھائے ہنوز
اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز
اس زلف و کاکل کو گوندھے دیر ہوئی مشاطہ کو
سانپ سے لہراتے ہیں بال اس کے بل کھائے ہنوز
آنکھ لگے اک مدت گذری پاے عشق جو بیچ میں ہے
ملتے ہیں معشوق اگر تو ملتے ہیں شرمائے ہنوز
تہ داری کیا کہیے اپنی سختی سے اس کی جیتے موئے
حرف و سخن کچھ لیکن ہرگز منھ پہ نہیں ہم لائے ہنوز
ایسی معیشت کر لوگوں سے جیسی غم کش میر نے کی
برسوں ہوئے ہیں اٹھ گئے ان کو روتے ہیں ہمسائے ہنوز
میر تقی میر

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

دیوان سوم غزل 1117
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے
ہم تو اپنی اور سے آئے بہت
دیر سے سوے حرم آیا نہ ٹک
ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمھیں بھائے بہت
گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو
روویں گے سونے کو ہمسائے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب
رشک سے گل پھول مرجھائے بہت
میر سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم
ہوکے کچھ چپکے سے شرمائے بہت
میر تقی میر