ٹیگ کے محفوظات: ہمرقص

لوگ سب اک چوکھٹے کے عکس میں ہیں موت ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 610
آگ کے پاگل بگولے رقص میں ہیں موت ہے
لوگ سب اک چوکھٹے کے عکس میں ہیں موت ہے
رہ رہا ہے آنکھ میں جس کی فرشتۂ اجل
سب عمل دجال کے اُس شخص میں ہیں موت ہے
ورنہ کمرے کم بہت ہی اپنی آبادی سے تھے
خوبیاں بھی کچھ مکاں کے نقص میں ہیں موت ہے
پھر بھی دل ہے کہ مسلسل مانگتا ہے اس کا قرب
کتنے خطرے صحبتِ برعکس میں ہیں موت ہے
سہل انگاری مزاجاًحضرتِمنصور میں
رقص کرتی بجلیاں ہمرقص میں ہیں موت ہے
منصور آفاق