ٹیگ کے محفوظات: ہمراہ

پہ یہ غم ہے میں بھی سر راہ ہوں

دیوان ششم غزل 1846
تری راہ میں گرچہ اے ماہ ہوں
پہ یہ غم ہے میں بھی سر راہ ہوں
مرے درپئے خون ناحق ہے تو
نہ خوندار ہوں میں نہ خونخواہ ہوں
تری دوستی سے جو دشمن ہیں سب
انھوں کے بھی خوں تک میں ہمراہ ہوں
نہ سمجھو مجھے بے خبر اس قدر
تہ دل سے لوگوں کے آگاہ ہوں
مری کجروی سادگی سے ہے میر
بہت اس رویے پہ گمراہ ہوں
میر تقی میر

بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی

دیوان پنجم غزل 1774
بے یار ہوں بیکس ہوں آگاہ نہیں کوئی
بے غم کرو خوں ریزی خوں خواہ نہیں کوئی
کیا تنگ مخوف ہے اس نیستی کا رستہ
تنہا پڑا ہے جانا ہمراہ نہیں کوئی
موہوم ہے ہستی تو کیا معتبری اس کی
ہے گاہ اگر کوئی تو گاہ نہیں کوئی
فرہاد کو مجنوں کو موت آگئی ہے آگے
کس سے کہیں درد دل اب آہ نہیں کوئی
میر اتنی سماجت جو بندوں سے تو کرتا ہے
دنیا میں مگر تیرا اللہ نہیں کوئی
میر تقی میر

یار تک پھر تو کس قدر ہے راہ

دیوان سوم غزل 1243
رستے سے چاک دل کے ہو آگاہ
یار تک پھر تو کس قدر ہے راہ
رہتی ہے خلق آہ شب سے تنگ
وے نہیں سنتے میری بات اللہ
آنکھ اس منھ پہ کس طرح کھولوں
جوں پلک جل رہی ہے میری نگاہ
خط مرا دیکھ دیکھ کہنے لگا
ہائے کیا کیا لکھے ہے نامہ سیاہ
ہیں مسلمان ان بتوں سے ہمیں
عشق ہے لا الٰہ الا اللہ
پلکیں اس طور روتے روتے گئیں
سبزہ ہوتا ہے جس طرح لب چاہ
میر کعبے سے قصد دیر کیا
جائو پیارے بھلا خدا ہمراہ
میر تقی میر

ہمیشہ رہے نام اللہ کا

دیوان سوم غزل 1065
گیا حسن خوبان بد راہ کا
ہمیشہ رہے نام اللہ کا
پشیماں ہوا دوستی کر کے میں
بہت مجھ کو ارمان تھا چاہ کا
جگر کی سپر پھوٹ جانے لگی
بلا توڑ ہے ناوک آہ کا
اسیری کا دیتا ہے مژدہ مجھے
مرا زمزمہ گاہ و بیگاہ کا
رہوں جا کے مر حضرت یار میں
یہی قصد ہے بندہ درگاہ کا
کہا ہو دم قتل کچھ تو کہے
جواب اس کو کیا میرے خونخواہ کا
عدم کو نہیں مل کے جاتے ہیں لوگ
غم اس راہ میں کیا ہے ہمراہ کا
نظر خواب میں اس کے منھ پر پڑی
بہت خوب ہے دیکھنا ماہ کا
لگونہی اگر آنکھ تیری ہو میر
تماشا کر اس کی نظرگاہ کا
میر تقی میر

کس قدر مغرور ہے اللہ تو

دیوان دوم غزل 912
ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو
کس قدر مغرور ہے اللہ تو
مجھ سے کتنے جان سے جاتے رہے
کس کی میت کے گیا ہمراہ تو
بے خودی رہتی ہے اب اکثر مجھے
حال سے میرے نہیں آگاہ تو
اس کے دل میں کام کرنا کام ہے
یوں فلک پر کیوں نہ جا اے آہ تو
فرش ہیں آنکھیں ہی تیری راہ میں
آہ ٹک تو دیکھ کر چل راہ تو
جی تلک تو منھ نہ موڑیں تجھ سے ہم
کر جفا و جور خاطر خواہ تو
کاہش دل بھی دو چنداں کیوں نہ ہو
آنکھ میں آوے نہ دو دو ماہ تو
دل دہی کیا کی ہے یوں ہی چاہیے
اے زہے تو آفریں تو واہ تو
میر تو تو عاشقی میں کھپ گیا
مت کسی کو چند روز اب چاہ تو
میر تقی میر

شمع مزار میر بجز آہ کون ہے

دیوان اول غزل 576
مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے
شمع مزار میر بجز آہ کون ہے
بیکس ہوں مضطرب ہوں مسافر ہوں بے وطن
دوری راہ بن مرے ہمراہ کون ہے
لبریز جس کے حسن سے مسجد ہے اور دیر
ایسا بتوں کے بیچ وہ اللہ کون ہے
رکھیو قدم سنبھل کے کہ تو جانتا نہیں
مانند نقش پا یہ سر راہ کون ہے
ایسا اسیر خستہ جگر میں سنا نہیں
ہر آہ میر جس کی ہے جانکاہ کون ہے
میر تقی میر

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

دیوان اول غزل 528
شش جہت سے اس میں ظالم بوے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کاروان لخت دل ہر اشک کے ہمراہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دوسالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پابرہنہ خاک سر میں موپریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دلخواہ ہے
اس جنوں پر میر کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادئہ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
میر تقی میر

گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے

دیوان اول غزل 482
چمن یار تیرا ہواخواہ ہے
گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے
سراپا میں اس کے نظر کرکے تم
جہاں دیکھو اللہ اللہ ہے
تری آہ کس سے خبر پایئے
وہی بے خبر ہے جو آگاہ ہے
مرے لب پہ رکھ کان آواز سن
کہ اب تک بھی یک ناتواں آہ ہے
گذر سر سے تب عشق کی راہ چل
کہ ہر گام یاں اک خطر گاہ ہے
کبھو وادی عشق دکھلایئے
بہت خضر بھی دل میں گمراہ ہے
جہاں سے تو رخت اقامت کو باندھ
یہ منزل نہیں بے خبر راہ ہے
نہ شرمندہ کر اپنے منھ سے مجھے
کہا میں نے کب یہ کہ تو ماہ ہے
یہ وہ کارواں گاہ دلکش ہے میر
کہ پھر یاں سے حسرت ہی ہمراہ ہے
میر تقی میر