ٹیگ کے محفوظات: ہمدم

موت گہرا سکوت ہے ہمدم

نینا عادل ۔ غزل نمبر 2
شور موجود کا کرے گی کم
موت گہرا سکوت ہے ہمدم
ضعف کم مائیگی سے ڈرتا ہے
ہاتھ سے گر پڑے نہ دو عالم
میرے آنسو ہیں میری شادابی
فصلِ گُل مانگتی ہے مٹی نم
کس نے حسنِ سلوک یہ پایا؟
کس نے کانٹوں پہ ٹانک دی شبنم
دھڑکنیں خامشی کا نغمہ ہیں
زندگی اک لطیف زیروبم
کیوں دوں الزام یہ زمانے کو
مجھ میں خود پل رہے تھے میرے غم
آو نیناؔ شمار کرتے ہیں
راہ میں ہیں تمھاری کتنے خم
نینا عادل

بس اب تو کھل گئیں ہیں آنکھیں دیکھا ہم نے دنیا کو

دیوان پنجم غزل 1708
کیا غیرت سے دل پر تنگ رنج و غم نے دنیا کو
بس اب تو کھل گئیں ہیں آنکھیں دیکھا ہم نے دنیا کو
رہا ہے ایک عالم اور دنیاداروں میں اس کا
کیا ہے بے وفا معلوم سب عالم نے دنیا کو
ہمیشہ رونا کڑھنا سینہ کوبی ہر زماں کرنا
عزاخانہ کیا دل کے مرے ماتم نے دنیا کو
سنا میں نے کہ آخر ہاتھ اٹھایا اس نے دنیا سے
اگر پایا بھی محنت کر کسو ہمدم نے دنیا کو
زمیں سے آسماں تک میر ہے شور جنوں میرا
تہ و بالا کیا دونوں میں اس اودھم نے دنیا کو
میر تقی میر