ٹیگ کے محفوظات: ہمت

اشکِ خوں سے آ گئیں رنگینیاں صحبت کی یاد

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 46
روزِ غم میں کیا قیامت ہے شبِ عشرت کی یاد
اشکِ خوں سے آ گئیں رنگینیاں صحبت کی یاد
میری حالت دیکھ لو تغئیر کتنی ہو چکی
وصل کے دن دم بہ دم کیوں شیشۂ ساعت کی یاد
میں ہوں بے کس اور بے کس پر ترحم ہے ضرور
حسنِ روز افزوں دلا دینا مری حالت کی یاد
طاقتِ جنبش نہیں اس حال پہ قصدِ عدم
مر گئے پر بھی رہے گی اپنی اس ہمت کی یاد
غالباً ایامِ حرماں بے خودی میں کٹ گئے
آتی ہے پھر آرزو بھولی ہوئی مدت کی یاد
دل لگانے کا ارادہ پھر ہے شائد شیفتہ
ایسی حسرت سے جو ہے گزری ہوئی الفت کی یاد
مصطفٰی خان شیفتہ

وہ کوئی شخص نہیں تھا، وہ ایک حالت تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 154
گہے وصال تھا جس سے تو گاہ فرقت تھی
وہ کوئی شخص نہیں تھا، وہ ایک حالت تھی
وہ بات جس کا گلہ تک نہیں مجھے، پر ہے
کہ میری چاہ نہیں تھی، مری ضرورت تھی
وہ بیدلی کی ہوائیں چلیں کہ بھول گئے
کہ دل کے کون سے موسم کی کیا روایت تھی
نہ اعتبار نہ وعدہ، بس ایک رشتہ دید
میں اُس سے روٹھ گیا تھا، عجیب ہمت تھی
گمانِ شوق، وہ محمل نظر نہیں آتا
کنارِ دشت وہی تو بس اک عمارت تھی
حساب عشق میں آتا بھی کسی حسین کا نام
کہ ہر کسی میں کسی اور کی شباہت تھی
ہے اُس سے جنگ اب ایسی کہ سامنا نہ کریں
کبھی اُسی سے کمک مانگنے کی عادت تھی
جون ایلیا

کوٹے گئے ہیں سب اعضا یہ محبت تھی یا محنت تھی

دیوان پنجم غزل 1741
عشق کیا سو جان جلی ہے الفت تھی یا کلفت تھی
کوٹے گئے ہیں سب اعضا یہ محبت تھی یا محنت تھی
اب تو نڈھال پڑے رہتے ہیں ضعف ہی اکثر رہتا ہے
آئے گئے اس کے کوچے میں جب تک جی میں طاقت تھی
آب حیات وہی نہ جس پر خضر و سکندر مرتے رہے
خاک سے ہم نے بھرا وہ چشمہ یہ بھی ہماری ہمت تھی
آنسو ہوکر خون جگر کا بیتابانہ آیا تھا
شاید رات شکیبائی کی جلد بہت کچھ رخصت تھی
جب سے عشق کیا ہے میں نے سر پر میرے قیامت ہے
ساعت دل لگنے کی شاید نحس ترین ساعت تھی
میر تقی میر

نہ ایسا کھلا گل نزاکت سے اب تک

دیوان چہارم غزل 1421
رہا پھول سا یار نزہت سے اب تک
نہ ایسا کھلا گل نزاکت سے اب تک
لبالب ہے وہ حسن معنی سے سارا
نہ دیکھا کوئی ایسی صورت سے اب تک
سلیماں ؑ سکندر کہ شاہان دیگر
نہ رونق گئی کس کی دولت سے اب تک
کرم کیا صفت ہے نہ ہوں گو کریماں
سخن کرتے ہیں ان کی ہمت سے اب تک
سبب مرگ فرہاد کا ہو گیا تھا
نگوں ہے سرتیشہ خجلت سے اب تک
ہلا تو بھی لب کو کہ عیسیٰ ؑکے دم کی
چلی جائے ہے بات مدت سے اب تک
عقیق لب اس کے کبھو دیکھے تھے میں
بھرا ہے دہن آب حسرت سے اب تک
گئی عمر ساری مجھے عجز کرتے
نہ مانی کوئی ان نے منت سے اب تک
نہ ہو گو جنوں میرجی کو پر ان کی
طبیعت ہے آشفتہ وحشت سے اب تک
میر تقی میر

اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے

دیوان دوم غزل 1005
ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے
اور نہ تھی توفیق تمھیں تو بوسے کی ہمت رکھتے تھے
آگے خط سے دماغ تمھارا عرش پہ تھا ہو وے ہی تم
پائوں زمیں پر رکھتے تھے تو خدا پر منت رکھتے تھے
اب تو ہم ہو چکتے ہیں ٹک تیرے ابرو خم ہوتے
کیا کیا رنج اٹھاتے تھے جب جی میں طاقت رکھتے تھے
چاہ کے سارے دیوانے پر آپ سے اکثر بیگانے
عاشق اس کے سیر کیے ہم سب سے جدی مت رکھتے تھے
ہم تو سزاے تیغ ہی تھے پر ظلم بے حد کیا معنی
اور بھی تجھ سے آگے ظالم اچھی صورت رکھتے تھے
آج غزال اک رہبر ہوکر لایا تربت مجنوں پر
قصد زیارت رکھتے تھے ہم جب سے وحشت رکھتے تھے
کس دن ہم نے سر نہ چڑھاکر ساغر مے کو نوش کیا
دور میں اپنے دختر رز کی ہم اک حرمت رکھتے تھے
کوہکن و مجنون و وامق کس کس کے لیں نام غرض
جی ہی سے جاتے آگے سنے وے لوگ جو الفت رکھتے تھے
چشم جہاں تک جاتی تھی گل دیکھتے تھے ہم سرخ و زرد
پھول چمن کے کس کے منھ سے ایسی خجلت رکھتے تھے
کام کرے کیا سعی و کوشش مطلب یاں ناپیدا تھا
دست و پا بہتیرے مارے جب تک قدرت رکھتے تھے
چتون کے کب ڈھب تھے ایسے چشمک کے تھے کب یہ ڈول
ہائے رے وے دن جن روزوں تم کچھ بھی مروت رکھتے تھے
لعل سے جب دل تھے یہ ہمارے مرجاں سے تھے اشک چشم
کیا کیا کچھ پاس اپنے ہم بھی عشق کی دولت رکھتے تھے
کل کہتے ہیں اس بستی میں میر جی مشتاقانہ موئے
تجھ سے کیا ہی جان کے دشمن وے بھی محبت رکھتے تھے
میر تقی میر

وہ لوگ ادا اجر رسالت نہیں کرتے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 259
جو معرکۂ صبر میں نصرت نہیں کرتے
وہ لوگ ادا اجر رسالت نہیں کرتے
ہوتی ہے یہی مصحف ناطق کی نشانی
نیزے پہ بھی سر بولے تو حیرت نہیں کرتے
جب تشنہ دہاں خود نہ دیں اس کی اجازت
دریا بھی قریب آنے کی ہمت نہیں کرتے
پھولوں سے بہت ڈرتے تھے باطل کے گنہگار
کیوں تیر چلا دینے میں عجلت نہیں کرتے
وہ ہاتھ کٹا دیتے ہیں سر دینے سے پہلے
مظلوم کبھی ظلم کی بیعت نہیں کرتے
کوثر پہ نہ کیوں حق ہو کہ دنیا میں بھی ہم لوگ
گریہ نہیں کرتے ہیں کہ مدحت نہیں کرتے
اس وقت سے ظالم کے مقابل ہیں سو اب تک
بیعت ہے بڑی چیز، اطاعت نہیں کرتے
یہ اشک عزا اور یہ دنیا کے خزانے
ہم اپنے چراغوں کی تجارت نہیں کرتے
اس آئینہ خانے کی طرف دیکھتے ہیں ہم
پھر کوئی زیارت کسی صورت نہیں کرتے
جز حرف دلا کچھ بھی عبارت نہیں کرتے
ہم اور سخن کوئی سماعت نہیں کرتے
جس طرح چلے سبط نبی شہر نبی سے
اس طرح تو مہماں کو بھی رُخصت نہیں کرتے
اک درد کو کرتے ہیں جہاں گیر جہاں تاب
ہم صرف وہ تاریخ روایت نہیں کرتے
وہ شمع بجھی اور یہ حقیقت ہوئی روشن
ارباب وفا ترک رفاقت نہیں کرتے
عرفان صدیقی