ٹیگ کے محفوظات: ہمارے

جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے

ہر ایک کو خوش فہمی میں رکھتے ہیں ستارے
جس کی نظر اُٹھے اُسے کرتے ہیں اشارے
مجنوں سے کہو کٹ چکی اک عُمر جنوں میں
باقی کسی معقول طریقے سے گزارے
بدنام ہے نادانی میں لیکن اِسی دل نے
میرے تو کئی بگڑے ہوئے کام سنوارے
کر دیں نہ کہیں ہم کو جوانی میں ہی معذور
ہم جن کو سمجھتے ہیں بڑھاپے کے سہارے
یوں تو کبھی کم آب نہ تھا آنکھوں کا دریا
سیلاب وہ آیا ہے کہ بے بس ہیں کنارے
سچ ہے کہ گُل و لالہ میں ٹھنڈک ہے تجھی سے
یہ نور ہے کس کا مگر اے چاند ہمارے
بیکار سے پتھر ہیں چمکتے ہیں جو شب کو
پوشیدہ ہیں دن میں تِری قسمت کے ستارے
باصر کاظمی

جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 50
ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو
جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو
حاکم کی تلوار مقدس ہوتی ہے
حاکم کی تلوار کے بارے مت لکھو
کہتے ہیں یہ دار و رسن کا موسم ہے
جو بھی جس کی گردن مارے، مت لکھو
لوگ الہام کو بھی الحاد سمجھتے ہیں
جو دل پر وجدان اتارے مت لکھو
وہ لکھو بس جو بھی امیرِ شہر کہے
جو کہتے ہیں درد کے مارے مت لکھو
خود منصف پا بستہ ہیں لب بستہ ہیں
کون کہاں اب عرض گزارے مت لکھو
کچھ اعزاز رسیدہ ہم سے کہتے ہیں
اپنی بیاض میں نام ہمارے مت لکھو
دل کہتا ہے کھل کر سچی بات کہو
اور لفظوں کے بیچ ستارے مت لکھو
احمد فراز

‮پھِر بھی لادے تو کوئی دوست ہمارے کی مثال

احمد فراز ۔ غزل نمبر 38
ہونٹ ہیروں سے نہ چہرہ ہے ستارے کی مثال
‮پھِر بھی لادے تو کوئی دوست ہمارے کی مثال
مجھ سے کیا ڈوبنے والوں کا پتہ پوچھتے ہو
میں سمندر کا حوالہ نہ کنارے کی مثال
زندگی اوڑھ کے بیٹھی تھی ردائے شب غم
تیرا غم ٹانک دیا ہم نے ستارے کی مثال
عاشقی کو بھی ہوس پیشہ تجارت جانیں
وصل ہے نفع تو ہجراں ہے خسارے کی مثال
ہم کبھی ٹوٹ کے روئے نہ کبھی کھل کے ہنسے
رات شبنم کی طرح صبح ستارے کی مثال
نا سپاسی کی بھی حد ہے جو یہ کہتے ہو فراز
زندگی ہم نے گزاری ہے گزارے کی مثال
احمد فراز

جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر

احمد فراز ۔ غزل نمبر 36
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں‌ستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر
چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گرتا ہے تو آ جاتے ہیں آرے لے کر
وہ جو آسودۂ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر
ایسا لگتا ہے کہ ہر موسم ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمہارے لے کر
شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش
پھرتا رہتا تھا جو گلیوں میں غبارے لے کر
نقدِ جاں صرف ہوا کلفتِ ہستی میں‌ فراز
اب جو زندہ ہیں‌تو کچھ سانس ادھارے لے کر
احمد فراز

رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 104
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے
ایک موہوم تمّنا کے سہارے نکلے
چاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے
کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ وہی
رات کی طرح کوئی زُلف سنوارے نکلے
رقص جن کا ہمیں ساحل سے بھگا لایا تھا
وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے
عشق دریا ہے، جو تیرے وہ تہی دست رہے
وہ جو ڈوبے تھے، کسی اور کنارے نکلے
دھوپ کی رُت میں کوئی چھاؤں اُگاتا کیسے
شاخ پھوٹی تھی کہ ہمسایوں میں آرے نکلے
پروین شاکر

نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے

دیوان پنجم غزل 1760
اٹھکھیلیوں سے چلتے طفلی میں جان مارے
نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے
اپنی نیاز تم سے اب تک بتاں وہی ہے
تم ہو خداے باطل ہم بندے ہیں تمھارے
ٹھہرے ہیں ہم تو مجرم ٹک پیار کرکے تم کو
تم سے بھی کوئی پوچھے تم کیوں ہوئے پیارے
کل میں جو سیر میں تھا کیا پھول پھول بیٹھی
بلبل لیے ہے گویا گلزار سب اجارے
کرتا ہے ابر نیساں پر در دہن صدف کا
منھ جو کوئی پسارے ایسے کنے پسارے
اے کاش غور سے وہ دیکھے کبھو ٹک آکر
سینے کے زخم اب تو غائر ہوئے ہیں سارے
چپکا چلا گیا میں آزردہ دل چمن سے
کس کو دماغ اتنا بلبل کو جو پکارے
میدان عشق میں سے چڑھ گھوڑے کون نکلا
مارے گئے سپاہی جتنے ہوئے اتارے
جو مر رہے ہیں اس پر ان کا نہیں ٹھکانا
کیا جانیے کہاں وے پھرتے ہیں مارے مارے
کیا برچھیاں چلائیں آہوں نے نیم شب کی
رخنے ہیں آسماں میں سارے نہیں ستارے
ہوتی ہے صبح جو یاں ہے شام سے بھی بدتر
کیا کہیے میر خوبی ایام کی ہمارے
میر تقی میر

سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح

دیوان چہارم غزل 1375
مر گیا فرہاد جیسے مرتے بارے اس طرح
سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح
ٹکڑے ٹکڑے کر دکھایا آپ کو میں نے اسے
یعنی جی مارا کرو آئندہ پیارے اس طرح
مست و بے خود ہر طرف پہروں پھرا کرتے ہو تم
حیف ہے آتے نہیں ٹک گھر ہمارے اس طرح
عشق کی کہیے طرح کیا وامق و فرہاد و قیس
بے کسانہ مر گئے وے لوگ سارے اس طرح
جو عرق تحریک میں اس رشک مہ کے منھ پہ ہے
میر کب ہووے ہیں گرم جلوہ تارے اس طرح
میر تقی میر

موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے

دیوان اول غزل 479
زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے
موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے
لخت دل کب تک الٰہی چشم سے ٹپکا کریں
خاک میں تا چند ایسے لعل پارے دیکھیے
ہو چکا روز جزا اب اے شہیدان وفا
چونکتے ہیں خون خفتہ کب تمھارے دیکھیے
راہ دور عشق میں اب تو رکھا ہم نے قدم
رفتہ رفتہ پیش کیا آتا ہے بارے دیکھیے
سینۂ مجروح بھی قابل ہوا ہے سیر کے
ایک دن تو آن کر یہ زخم سارے دیکھیے
خنجر بیداد کو کیا دیکھتے ہو دمبدم
چشم سے انصاف کی سینے ہمارے دیکھیے
ایک خوں ہو بہ گیا دو روتے ہی روتے گئے
دیدہ و دل ہو گئے ہیں سب کنارے دیکھیے
شست و شو کا اس کی پانی جمع ہوکر مہ بنا
اور منھ دھونے کے چھینٹوں سے ستارے دیکھیے
رہ گئے سوتے کے سوتے کارواں جاتا رہا
ہم تو میر اس رہ کے خوابیدہ ہیں ہارے دیکھیے
میر تقی میر

ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے
رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
جب وہ لعل و گہر حساب کیے
جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے
میرے دامن میں آگرے سارے
جتنے طشت فلک میں تارے تھے
عمر جاوید کی دعا کرتے
فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
فیض احمد فیض

شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 274
شمعِ تنہا کی طرح، صبح کے تارے جیسے
شہر میں ایک ہی دو ہوں گے ہمارے جیسے
چھو گیا تھا کبھی اس جسم کو اک شعلۂ درد
آج تک خاک سے اڑتے ہیں شرارے جیسے
حوصلے دیتا ہے یہ ابرِ گریزاں کیا کیا
زندہ ہوں دشت میں ہم اس کے سہارے جیسے
سخت جاں ہم سا کوئی تم نے نہ دیکھا ہو گا
ہم نے قاتل کئی دیکھے ہیں تمہارے جیسے
دیدنی ہے مجھے سینے سے لگانا اس کا
اپنے شانوں سے کوئی بوجھ اتارے جیسے
اب جو چمکا ہے یہ خنجر تو خیال آتا ہے
تجھ کو دیکھا ہو کبھی نہر کنارے جیسے
اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے
عرفان صدیقی

آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 383
ٹوٹنے والے تارے پر رک جاتے ہیں
آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں
وقت کی تیز ٹریفک چلتی رہتی ہے
ہم ہی سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں
جب میں سطحِ آب پہ چلتا پھرتا ہوں
دیکھ کے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں
ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا
ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں
روز نکلتے ہیں مہتاب نگر میں ہم
لیکن ایک ستارے پر رک جاتے ہیں
اڑتے اڑتے گر پڑتے ہیں آگ کے بیچ
شام کے وقت ہمارے پر رک جاتے ہیں
منصور آفاق