ٹیگ کے محفوظات: ہلچل

اِک مدّت سے جسم ہمارا بوجھل ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 146
اِس میں جانے کس کے ہجر کا کَس بل ہے
اِک مدّت سے جسم ہمارا بوجھل ہے
منفی ہے پر اُس کی بھی اک دنیا ہے
وہ جو نظر میں اہلِ نظر کی پاگل ہے
بات ہے ساری یہ تقلید کے جذبے کی
چرواہا بھی اِس کارن ہی پیدل ہے
جھپٹا ہے پھر سانپ کسی کاشانے پر
رات گئے شاخوں میں کیا یہ ہلچل ہے
پتھر ہے جو اس کو کیا پرواہ بھلا
شیشے ہی کو جان کا کھٹکا پل پل ہے
اب دریا کی سیر کو کم کم جاتا ہے
ماجدؔ جس کا اپنا چہرہ جل تھل ہے
ماجد صدیقی

جانا تھا کس سمت کو جانے بس بے اٹکل چل نکلے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 183
باد بہاری کے چلتے ہی لہری پاگل چل نکلے
جانا تھا کس سمت کو جانے بس بے اٹکل چل نکلے
جو ہلچل مارے تھے، ان کو دوش نہ دو نردوش ہیں وہ
دوش ہمیں دو، اس بستی سے ہم بے ہلچل چل نکلے
پاس ادب کی حد ہوتی ہے ہم پہلے ہی کہتے تھے
کل تک جن کو پاس تھا ان کا وہ ان سے کل چل نکلے
کچھ مت پوچھو حیف آتا ہے وحشت کے بے حالوں پر
وحشت جب پر حال ہوئی تو چھوڑ کے جنگل چل نکلے
خون بھی اپنا سیر طلب تھا ہم بھی موجی رنگ کے تھے
یوں بھی تھا نزدیک ہی مقتل سوئے مقتل چل نکلے
جون ایلیا