ٹیگ کے محفوظات: ہلتا

یہ کیسا شعلہ بھڑکا تھا

دَم ہونٹوں پر آ کے رُکا تھا
یہ کیسا شعلہ بھڑکا تھا
تنہائی کے آتشداں میں
میں لکڑی کی طرح جلتا تھا
زرد گھروں کی دیواروں کو
کالے سانپوں نے گھیرا تھا
آگ کی محل سرا کے اندر
سونے کا بازار کھلا تھا
محل میں ہیروں کا بنجارا
آگ کی کرسی پر بیٹھا تھا
اک جادوگرنی وہاں دیکھی
اُس کی شکل سے ڈر لگتا تھا
کالے منہ پر پیلا ٹیکا
انگارے کی طرح جلتا تھا
ایک رسیلے جرم کا چہرہ
آگ کے سپنے سے نکلا تھا
پیاسی لال لہو سی آنکھیں
رنگ لبوں کا زرد ہوا تھا
بازو کھنچ کر تیر بنے تھے
جسم کماں کی طرح ہلتا تھا
ہڈی ہڈی صاف عیاں تھی
پیٹ کمر سے آن ملا تھا
وہم کی مکڑی نے چہرے پر
مایوسی کا جال بنا تھا
جلتی سانسوں کی گرمی سے
شیشہِ تن پگھلا جاتا تھا
جسم کی پگڈنڈی سے آگے
جرم و سزا کا دوراہا تھا
ناصر کاظمی

تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 135
دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں
تو نظر کے سامنے ہے یا نہیں
مٹ گیا ہے دل سے کیا تیرا خیال
اتنا دنیا کو کبھی چاہا نہیں
اس طرح محفل یہ ہے اس کی نظر
سب ہیں تنہا اور کوئی تنہا نہیں
سوچ کر کیا بات آ بیٹھے ہو تم
ان درختوں کا کوئی سایہ نہیں
دھوپ کا رُخ دیکھ کر چلتے ہیں لوگ
کوئی اپنے سامنے آتا نہیں
بات مظلوموں پہ آخر آئے گی
الٹے رُخ دریا کبھی بہتا نہیں
دیکھتا ہوں اس طرح ہر ایک کو
آدمی بھی آدمی گویا نہیں
یہ بھی تو پہلو ہے اک حالات کا
لوگ جو کہتے ہیں وہ ہوتا نہیں
آج باقیؔ کیا ہوا کو ہو گیا
دور تک پتا کوئی ہلتا نہیں
باقی صدیقی