ٹیگ کے محفوظات: ہلاک

دشت دشت اب کے ہے گل تریاک

دیوان پنجم غزل 1664
شاد افیونیوں کا دل غمناک
دشت دشت اب کے ہے گل تریاک
تین دن گور میں بھی بھاری ہیں
یعنی آسودگی نہیں تہ خاک
ہاتھ پہنچا نہ اس کے دامن تک
میں گریباں کروں نہ کیوں کر چاک
تیز جاتا ہوں میں تو جوں سیلاب
میرے مانع ہو کیا خس و خاشاک
عشق سے ہاتھ کیا ملاوے کوئی
یاں زبردستوں کی ہے کشتی پاک
بندگی کیشوں پر ستم مت کر
ڈر خدا سے تو اے بت بیباک
عشق مرد آزما نے آخرکار
کیے فرہاد و قیس میر ہلاک
میر تقی میر

پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا

دیوان سوم غزل 1063
وہ جو گلشن میں جلوہ ناک ہوا
پھول غیرت سے جل کے خاک ہوا
اس کے دامن تلک نہ پہنچا ہاتھ
تھا سر دست جیب چاک ہوا
کس قدر تھا خبیث شیخ شہر
اس کے مرنے سے شہر پاک ہوا
ڈریے اس رشک خور کی گرمی سے
کچھ تو ہے ہم سے جو تپاک ہوا
میر ہلکان ہو گیا تھا بہت
سو طلب ہی میں پھر ہلاک ہوا
میر تقی میر

نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم

دیوان اول غزل 279
کرتے نہیں ہیں دوری سے اب اس کی باک ہم
نزدیک اپنے کب کے ہوئے ہیں ہلاک ہم
بیٹھے ہم اپنے طور پہ مستوں میں جب اٹھے
جوں ابرتر لیے اٹھے دامن کو پاک ہم
آہستہ اے نسیم کہ اطراف باغ کے
مشتاق پر فشانی ہیں اک مشت خاک ہم
شمع و چراغ و شعلہ و آتش شرار و برق
رکھتے ہیں دل جلے یہ بہم سب تپاک ہم
مستی میں ہم کو ہوش نہیں نشأتین کا
گلشن میں اینڈتے ہیں پڑے زیر تاک ہم
جوں برق تیرے کوچے سے ہنستے نہیں گئے
مانند ابر جب اٹھے تب گریہ ناک ہم
مدت ہوئی کہ چاک قفس ہی سے اب تو میر
دکھلا رہے ہیں گل کو دل چاک چاک ہم
میر تقی میر