ٹیگ کے محفوظات: ہریالی

کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 92
ہوا کی دُھن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے
رُت وہ ہے جب کونپل کی خوشبو سُر مانگے
پُروا کے ہمراہ عُمریا بالی گائے
مورنی بن کر پرواسنگ ہیں جب بھی ناچوں
پُروا بھی بن میں ہوکر متوالی گائے
رات گئے میں بندیا کھوجنے جب بھی نِکلوں
کنگن کھنکے اور کانوں کی بالی گائے
رنگ منایا جائے ، خوشبو کھیلی جائے
پُھول ہنسیں ، پتّے ناچیں اور مالی گائے
میرے بدن کا رواں رواں رس میں بھیگے
رات نشے میں اور ہوا بھوپالی گائے
سجے ہُوئے ہیں پلکوں پر خوشرنگ دیئے سے
آنکھ ستاروں کی چھاؤں دیوالی گائے
ہَوا کے سنگ چلے رہ رہ کے لے بنسی کی
جیسے دریا پار کوئی بھٹیالی گائے
ساجن کا اصرار کہ ہم تو گیت سُنیں گے
گوری چُپ ہے لیکن مُکھ کی لالی گائے
منہ سے نہ بولے ، نین مگر مُسکاتے جائیں
اُجلی دھوپ نہ بولے ، رینا کالی گائے
دھانی بانکیں جب بھی سہاگن کو پہنائے
شوخ سُروں میں کیا کیا چوڑی والی گائے
محنت کی سُندرتا کھیتوں میں پھیلی ہے
نرم ہَوا کی دُھن پر دھان کی بالی گائے
پروین شاکر

پیڑ گملوں میں سمٹ جائیں گے ہریالی لیے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 352
جنگلوں میں شہر در آئے ہیں خوشحالی لیے
پیڑ گملوں میں سمٹ جائیں گے ہریالی لیے
میری دَھرتی جس پہ برسوں سے گھٹا برسی نہیں
آسماں کو تک رہی ہے کاسۂ خالی لیے
ذہن پر اندیشے اولوں کی طرح گرتے ہوئے
آرزوئیں کھیت کے سبزے کی پامالی لیے
بستیوں پر روشنی کے چند سکّے پھینک کر
ایک بادل جا رہا ہے چاند کی تھالی لیے
شاعروں کو روز البیلے خیالوں کی تلاش
جیسے بچے تتلیوں کی کھوج میں جالی لیے
عرفان صدیقی

آتے موسم کا پتا سوکھی ہوئی ڈالی دے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 263
کس کو دھوکا یہ ہوا بیتی رُتوں والی دے
آتے موسم کا پتا سوکھی ہوئی ڈالی دے
اَے خدا! سبزۂ صحرا کو بھی تنہا مت رکھ
اِس کو شبنم نہیں دیتا ہے تو پامالی دے
ہر برس صرف سمندر ہی پہ موتی نہ لٹا
ابرِ نیساں مرے کھیتوں کو بھی ہریالی دے
جب کبھی شام کو توُ دستِ دُعا پھیلائے
آسماں کو ترے ہاتھوں کی حنا لالی دے
چپ ہوا میں تو بس اقرارِ خطا ہی سمجھو
کیا بیاں اِس کے سوا مجرمِ اِقبالی دے
ویسے آنکھیں تو گنہگار بہت ہیں عرفانؔ
آگے جو کچھ مرے جذبوں کی خوش اعمالی دے
عرفان صدیقی