ٹیگ کے محفوظات: ہرن

دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام

دیوان دوم غزل 859
مشتاق ان لبوں کے ہیں سب مرد و زن تمام
دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام
اب چھیڑیے جہاں وہیں گویا ہے درد سب
پھوڑا سا ہو گیا ہے ترے غم میں تن تمام
آیا تھا گرم صید وہ جیدھر سے دشت میں
دیکھا ادھر ہی گرتے ہیں اب تک ہرن تمام
آوارہ گردباد سے تھے ہم پہ شہر میں
کیا خاک میں ملا ہے یہ دیوانہ پن تمام
کیا لطف تن چھپا ہے مرے تنگ پوش کا
اگلا پڑے ہے جامے سے اس کا بدن تمام
اس کار دست بستہ پہ ریجھا نہ مدعی
کیونکر نہ کام اپنا کرے کوہکن تمام
اک گل زمیں نہ وقفے کے قابل نظر پڑی
دیکھا برنگ آب رواں یہ چمن تمام
نکلے ہیں گل کے رنگ گلستاں میں خاک سے
یہ وے ہیں اس کے عشق کے خونیں کفن تمام
تہ صاحبوں کی آئی نکل میکدے گئے
گروی تھے اہل صومعہ کے پیرہن تمام
میں خاک میں ملا نہ کروں کس طرح سفر
مجھ سے غبار رکھتے ہیں اہل وطن تمام
کچھ ہند ہی میں میر نہیں لوگ جیب چاک
ہے میرے ریختوں کا دوانہ دکن تمام
میر تقی میر

مرا رقیب بھی، میرا سجن بھی زندہ رہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 350
میں زندہ ہوں تو مری انجمن بھی زندہ رہے
مرا رقیب بھی، میرا سجن بھی زندہ رہے
حقیقتیں تو بہت ہیں بیان کرنے کو
خدا کرے مری تاب سخن بھی زندہ رہے
تجھے بھی تیغ کشیدہ کبھی زوال نہ ہو
دل کشادہ، ترا بانکپن بھی زندہ رہے
شکار جو سہی دشت سبکتیگن، مگر
رمیدہ خو ہے تو شاید ہرن بھی زندہ رہے
عرفان صدیقی

اور سچ پوچھو تو سرمایۂ فن وہ بھی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 346
ہائے وہ جسم کہ اِک جی کی جلن وہ بھی ہے
اور سچ پوچھو تو سرمایۂ فن وہ بھی ہے
اُس کو بانہوں میں گرفتار کرو تو جانیں
تم شکاری ہو تو رَم خوردہ ہرن وہ بھی ہے
ایک دِن تو بھی مری فکر کے تاتار میں آ
تیرا گھر اَے مرے آہوئے ختن، وہ بھی ہے
اُس کی آنکھوں میں بھی رقصاں ہے وہی گرمئ شوق
غالباً محرمِ اَسرارِ بدن وہ بھی ہے
لاؤ کچھ دیر کو پہلوئے بتاں میں رُک جائیں
ہم مسافر ہیں، ہمارا تو وطن وہ بھی ہے
اور کچھ راز نہیں راتوں کی بیداری کا
ہم بھی ہیں شیفتۂ شعر و سخن، وہ بھی ہے
عرفان صدیقی

جب اک ہوا ترے تن کی طرف سے آتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 337
لپٹ سی داغِ کہن کی طرف سے آتی ہے
جب اک ہوا ترے تن کی طرف سے آتی ہے
میں تیری منزل جاں تک پہنچ تو سکتا ہوں
مگر یہ راہ بدن کی طرف سے آتی ہے
یہ مشک ہے کہ محبت مجھے نہیں معلوم
مہک سی میرے ہرن کی طرف سے آتی ہے
پہاڑ چپ ہیں تو اب ریگ زار بولتے ہیں
ندائے کوہ ختن کی طرف سے آتی ہے
کسی کے وعدۂ فردا کے برگ و بار کی خیر
یہ آگ ہجر کے بن کی طرف سے آتی ہے
جگوں کے کھوئے ہوؤں کو پکارتا ہے یہ کون
صدا تو خاکِ وطن کی طرف سے آتی ہے
عرفان صدیقی

جو آسانی سے کھلتے ہیں بٹن اچھے نہیں ہوتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 525
زیادہ بے لباسی کے سخن اچھے نہیں ہوتے
جو آسانی سے کھلتے ہیں بٹن اچھے نہیں ہوتے
کئی اجڑے ورق خوشبو پسِ ملبوس رکھتے ہیں
کئی اچھی کتابوں کے بدن اچھے نہیں ہوتے
کبھی ناموں کے پڑتے ہیں غلط اثرات قسمت پر
کبھی لوگوں کی پیدائش کے سن اچھے نہیں ہوتے
غزالوں کے لیے اپنی زمینیں ٹھیک رہتی ہیں
جو گلیوں میں نکل آئیں ہرن اچھے نہیں ہوتے
محبت کے سفر میں چھوڑ دے تقسیم خوابوں کی
کسی بھی اک بدن کے دو وطن اچھے نہیں ہوتے
بڑی خوش چہرہ خوشبو سے مراسم ٹھیک ہیں لیکن
گلابوں کے بسا اوقات من اچھے نہیں ہوتے
منصور آفاق