ٹیگ کے محفوظات: ہرجائی

اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 77
کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پروین شاکر

حرف آتا ہے مسیحائی پر

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 38
کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر
حرف آتا ہے مسیحائی پر
اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو
پیار آنے لگا رُسوائی پر
ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں !
تیری تصویر کی زیبائی پر
رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی
قامتِ عشق کی رعنائی پر
سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں
آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر
ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا
بات ہو گی مرے ہرجائی پر
خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں
پُھول کی طرز پذیرائی پر
پروین شاکر

تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 202
تو بھی چپ ہے، میں بھی چپ ہوں، یہ کیسی تنہائی ہے
تیرے ساتھ تری یاد آئی، تو کیا سچ مچ آئی ہے
شاید وہ دن پہلا دن تھا، پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی اس کی انگڑائی شرمائی ہے
اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس
جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے
حسن سے عرضِ شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
ہم نے عرضِ شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے
ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں
سوزِ رفاقت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے
ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے
پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے
عشقِ پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھیرا ہے، دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے، حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی، عشق بڑا ہرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روک کے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کر گھر کی دھول اڑائی ہے
جون ایلیا

جامے کا دامن پائوں میں الجھا ہاتھ آنچل اکلائی کا

دیوان چہارم غزل 1328
ترک لباس سے میرے اسے کیا وہ رفتہ رعنائی کا
جامے کا دامن پائوں میں الجھا ہاتھ آنچل اکلائی کا
پاس سے اٹھ چلتا ہے وہ تو آپ میں میں رہتا ہی نہیں
لے جاتا ہے جا سے مجھ کو جانا اس ہرجائی کا
حال نہ میرا دیکھے ہے نہ کہے سے تامل ہے اس کو
محو ہے خود آرائی کا یا بے خود ہے خودرائی کا
ظاہر میں خورشید ہوا وہ نور میں اپنے پنہاں ہے
خالی نہیں ہے حسن سے چھپنا ایسے بھی پیدائی کا
یاد میں اس کی قامت کی میں لوہو رو روسوکھ گیا
آخر یہ خمیازہ کھینچا اس خرچ بالائی کا
بعد مرگ چراغ نہ لاوے گور پہ وہ عاشق کی آہ
جیتے جی بھی داغ ہی تھا میں اس کی بے پروائی کا
چشم وفا اخوان زماں سے سادہ ہو سو رکھے میر
قصہ ہے مشہور زمانہ پہلے دونوں بھائی کا
میر تقی میر

اے مری موت تو بھلی آئی

دیوان اول غزل 452
ہو گئی شہر شہر رسوائی
اے مری موت تو بھلی آئی
یک بیاباں برنگ صوت جرس
مجھ پہ ہے بیکسی و تنہائی
نہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاش
اس کی تصویر وہ ہے ہرجائی
سر رکھوں اس کے پائوں پر لیکن
دست قدرت یہ میں کہاں پائی
میر جب سے گیا ہے دل تب سے
میں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی
میر تقی میر