ٹیگ کے محفوظات: ہدایت

ہر سرحرف پہ فریاد نہایت کیجے

دیوان اول غزل 599
چل قلم غم کی رقم کوئی حکایت کیجے
ہر سرحرف پہ فریاد نہایت کیجے
گوکہ سر خاک قدم پر ترے لوٹے اس میں
اپنا شیوہ ہی نہیں یہ کہ شکایت کیجے
ہم جگر سوختوں کے جی میں جو آوے تو ابھی
دود دل ہوکے فلک تجھ میں سرایت کیجے
عشق میں آپ کے گذری نہ ہماری تو مگر
عوض جور و جفا ہم پہ عنایت کیجے
مت چلا عشق کی رہ کی کہ کہے ہے یاں خضر
آپھی گمراہ ہیں ہم کس کو ہدایت کیجے
کس کے کہنے کی ہے تاثیر کہ اک میر ہی سے
رمز و ایما و اشارات و کنایت کیجے
میر تقی میر

متفرق اشعار

آفتاب اقبال شمیم ۔

متفرق اشعار
حیران ہوں کرشمۂ خطاط دیکھ کر
یہ چشم و لب ہیں یا کوئی آیت لکھی ہوئی
سر پھوڑیے ضرور مگر احتیاط سے
دیوار پر یہی ہے ہدایت لکھی ہوئی

ایّام کی کتاب میں مرقوم کچھ نہیں
کیا مقصدِ وجود ہے معلوم کچھ نہیں
رہ جائے گا سماں وہی میلے کی شام کا
یہ سب ہجوم اور یہ سب دھوم کچھ نہیں

تم ابھی چُپ رہو صبر خود بولتا ہے
نشۂ خون میں ، جبر خود بولتا ہے
شرط ہے تن پہ اک تازیانہ لگے
زیرِ زورِ ہوا ابر خود بولتا ہے
آفتاب اقبال شمیم

کُھلے بھی تو زنجیر در کی رعایت کے ساتھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 45
سخی ہے وہ لیکن ذرا سی کفایت کے ساتھ
کُھلے بھی تو زنجیر در کی رعایت کے ساتھ
چلوں سیرِ فردا پہ نکلوں کہ شاعر ہوں میں
بندھا کیوں رہوں اپنی کہنہ روایت کے ساتھ
یہی ہے کہ اثبات نفی سے مشروط ہے
نبھے دوستی بھی عُدو کی حمایت کے ساتھ
مجھے تو یہ تکرار وعدہ بھی اچھی لگے
یہ دیکھو! میں پھر آ گیا ہوں شکایت کے ساتھ
یہ تاوان انبوہ لیتا تو ہے فرد سے
کہ چلنا پڑے دوسروں کی ہدایت کے ساتھ
آفتاب اقبال شمیم

احرار کبھی ترکِ روایت نہ کریں گے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہ کریں گے
احرار کبھی ترکِ روایت نہ کریں گے
کیا کچھ نہ ملا ہے جو کبھی تجھ سے ملے گا
اب تیرے نہ ملنے کی شکایت نہ کریں گے
شب بیت گئی ہے تو گزر جائے گا دن بھی
ہر لحظہ جو گزری وہ حکایت نہ کریں گے
یہ فقر دلِ زار کا عوضانہ بہت ہے
شاہی نہیں مانگیں گے ولایت نہ کریں گے
ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافی
جو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے
نذرِ مولانا حسرت موہانی
فیض احمد فیض

مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 422
صدیوں پہ ہے محیط سکونت کا واقعہ
مت پوچھ ایک پل کی طوالت کا واقعہ
ممکن نہیں ہے صبحِ ازل پھر اسے لکھے
جیسا تھا بزمِ شمعِ ہدایت کا واقعہ
ہم اہلِ عشق ہیں سو بڑے جلد باز تھے
عجلت میں ہم نے لکھا محبت کا واقعہ
وہ دلنواز چیخ مری گود میں گری
یہ کاکروچ کی ہے خباثت کا واقعہ
جا خانۂ وراق پہ آواز دے کے دیکھ
مت پوچھ مجھ سے اس کی عنایت کا واقعہ
پاؤں رکھا جہاں پہ وہیں پھول کھل اٹھے
پھیلا ہے سارے دشت میں وحشت کا واقعہ
منصور اعتقاد ضروری سہی مگر
ہونا نہیں ہے کوئی قیامت کا واقعہ
منصور آفاق