ٹیگ کے محفوظات: ہاہا

آن لگے ہیں گور کنارے اس کی گلی میں جا جا ہم

دیوان چہارم غزل 1437
ظلم ہوئے ہیں کیا کیا ہم پر صبر کیا ہے کیا کیا ہم
آن لگے ہیں گور کنارے اس کی گلی میں جا جا ہم
ہاہا ہی ہی کر ٹالے گا اس کا غرور دو چنداں ہے
گھگھیانے کا اب کیا حاصل یوں ہی کرے ہیں ہاہا ہم
اب حیرت ہے کس کس جاگہ پنبہ و مرہم رکھنے کی
قد تو کیا ہے سرو چراغاں داغ بدن پر کھا کھا ہم
سیر خیال جنوں کا کریے صرف کریں تا ہم پر سب
پتھر آپ گلی کوچوں میں ڈھیر کیے ہیں لالا ہم
میر فقیر ہوئے تو اک دن کیا کہتے ہیں بیٹے سے
عمر رہی ہے تھوڑی اسے اب کیوں کر کاٹیں بابا ہم
میر تقی میر