ٹیگ کے محفوظات: ہالے

دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 641
موجوں کو اٹھتی بھاپ کے لالے پڑے رہے
دریا میں اک ذرا میرے چھالے پڑے رہے
منہ کو کلیجہ آئے جب آئے کسی کی یاد
کیا کیا حسیں چڑیلوں سے پالے پڑے رہے
پھر چاند نے بھی چھوڑ دیا رات کادیار
جب بستروں میں دیکھنے والے پڑے رہے
چیزیں تو جھاڑتا رہا جاروب کش مگر
ذہنوں پہ عنکبوت کے جالے پڑے رہے
تاریخ جھوٹ کا ہی اثاثہ بنی رہی
تحقیق کے مکانوں پہ تالے پڑے رہے
حلقے پڑے رہے مری آنکھوں کے ارد گرد
مہتاب کے نواح میں ہالے پڑے رہے
تسخیرِاسم ذات مکمل ہوئی مگر
منصوراپنے کان میں بالے پڑے رہے
منصور آفاق