ٹیگ کے محفوظات: ھو

کہ جو کہیں بھی نہیں اُس کی جستجو کرتے

جنوں کے باب میں اس درجہ کیا غُلو کرتے
کہ جو کہیں بھی نہیں اُس کی جستجو کرتے
ہے ایسا حُسنِ مکمل بجز تمہارے کون
تمہارے بعد بھلا کس کی آرزو کرتے
نہیں ہے کوئی کہیں بھی ہمارے غم میں شریک
سو آئینے کے سِوا کس کو روبرو کرتے
جہاں سے روح میں آزار بھرتا جاتا ہے
وہ چاک جسم پہ ہوتا تو ہم رفو کرتے
عُدو کے تیر کی دل تک کہاں رسائی تھی
جو کام تم نے کیا ہے وہ کیا عُدو کرتے
حجاب مانع ہے ورنہ سخن پہ ہے وہ عبور
تمہارے حُسن کی تفسیر مُو بہ مُو کرتے
سخن ہجوم سے ہٹ کر کیا کرو عرفان
رہیں گے یہ تو اسی طرح ھاؤ ھُو کرتے
عرفان ستار

جُستُجو کیجئے

آرزو کیجئے
جُستُجو کیجئے
خود کو کھو دیجئے
سُرخ رُو کیجئے
رُوح کی مانیے
ہاؤ ھُو کیجئے
آئینہ لیجئے
رو بَرو کیجئے
دل سے تنہائی میں
گفتُگو کیجئے
اُس سے مِلنا ہو گر
تَو وضو کیجئے
عشق وہ چیز ہے
کُو بَہ کُو کیجئے
آج ضامنؔ سے کچھ
دُو بَدُو کیجئے
ضامن جعفری

اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 333
برسات میں نمازِ ہوا کا وضوہوں میں
اک خانقاہِ غم کا لبالب کدو ہوں میں
کرتی ہے یاد مجھ کو اشاروں کنایوں سے
مجھ کو یہی بہت ہے پسِ گفتگو ہوں میں
اک دوسرے سے کہتے نہیں جانتے تو ہیں
تُو میرے چار سو ہے ترے چار سو ہوں میں
مجھ کو بھی گنگنائے تہجد گزار دوست
اُس کیلئے تو نغمہ اللہ ھو ہوں میں
پھیلی ہوئی ہے آگ کی دونوں طرف بہار
منصور کیسے آج یہ زیبِ گلو ہوں میں
منصور آفاق