ٹیگ کے محفوظات: ھرجائی

کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 200
عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ھرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ھی دروازہ کھولا ھے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ھے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے
جون ایلیا